مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ . باب: انصار کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَقْبَلَ مِنْ تَبُوكَ ، وَكَانَ عَلَى الثَّنِيَّةِ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ " . فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ قَالَ : " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " . ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ : " هَلْ تُحِبُّونَ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِدُورِ الْأَنْصَارِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ خَيْرَ دُورِ الْأَنْصَارِ عَبْدُ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ دَارُ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ " . فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَعَلْتَنَا آخِرَ الْقَبَائِلِ ، قَالَ : " إِذَا كُنْتَ مِنَ الْخِيَارِ فَحَسْبُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تبوک سے تشریف لائے تو آپ گھاٹی پر پہنچے ، آپ نے فرمایا : اللہ اکبر ! اور جب آپ نے اُحد پہاڑ کی طرف دیکھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر آپ نے توجہ دی اور ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اس بات کو پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں انصار کے گھرانوں کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انصار کے گھرانوں میں سب سے بہتر عبداشہل ہیں ، پھر حارث بن خزرج کا گھرانہ ہے ، پھر بنو نجار کا گھرانہ ہے ، پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ ہے ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں قبائل میں ، سب سے آخر میں کر دیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم بہترین لوگوں میں سے ہو ، تو یہی تمہارے لئے کافی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔