حدیث نمبر: 16536
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا دَنَا مِنْ مَنْزِلِهِ سَمِعَهُ يَتَكَلَّمُ فِي الدَّاخِلِ ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ دَخَلَ ، فَلَمْ يَرَ أَحَدًا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَمِعْتُكَ تُكَلِّمُ غَيْرَكَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ دَخَلْتَ الدَّاخِلَ اغْتِمَامًا بِكَلَامِ النَّاسِ مِمَّا بِي مِنَ الْحُمَّى ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا بِعْدَكَ أَكْرَمَ مَجْلِسًا ، وَلَا أَحْسَنَ حَدِيثًا مِنْهُ . قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ ، وَإِنَّ مِنْكُمْ لَرِجَالًا لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يُقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَسَانِيدُهُمْ حَسَنَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے ، جب آپ اس کے گھر کے قریب تشریف لائے تو آپ نے اندر سے کسی کے بات چیت کرنے کی آواز سنی ، جب آپ نے اجازت لی اور اندر تشریف لے گئے تو آپ کو کوئی نظر نہیں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا : میں نے تمہیں کسی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے سنا تھا ؟ تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص بخار کی وجہ سے میری مزاج پرسی کے لیے آیا ، میں نے اس جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو آپ کے بعد اس سے زیادہ اچھے طریقے سے بیٹھتا ہو اور آپ کے بعد اس سے زیادہ اچھے طریقے سے بات چیت کرتا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے اور تم لوگوں میں کچھ ایسے افراد ہیں کہ اگر اُن میں سے کوئی ایک اللہ کے نام پر قسم اٹھا دے تو اللہ تعالیٰ اُسے پوری کروا دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی اسانید حسن ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16536
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2811) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12321)»