مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ . باب: انصار کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لَهُمْ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، مَا لَكُمْ لَمْ تَلْقَوْنِي مَعَ إِخْوَانِكُمْ مِنْ قُرَيْشٍ ؟ قَالَ عُبَادَةُ : الْحَاجَةُ ، قَالَ : فَهَلَّا عَلَى النَّوَاضِحِ ؟ قَالَ : أَنْضَيْنَا يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا أَجَابَهُ فَقَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَثَرَةٌ بَعْدِي " . قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا أَمَرَكُمْ ؟ قَالَ : أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ حَتَّى نَلْقَاهُ ، قَالَ : فَاصْبِرُوا إِذًا حَتَّى تَلْقَوْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ اخْتَلَطَ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے انصار کے گروہ ! کیا وجہ ہے کہ تم اپنے قریشی بھائیوں کے ساتھ مجھ سے ملنے کے لئے نہیں آئے ؟ تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ضرورت کی وجہ سے ، انہوں نے کہا: آپ اونٹنیوں پر کیوں نہیں آئے ؟ تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر کے موقع پر ہم نے تھکا دی تھیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا ، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ فرمایا تھا کہ تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک دیکھو گے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو کیا حکم دیا ؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم صبر سے کام لیں ، یہاں تک کہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ لوگ اس وقت تک صبر سے کام لیں ، جب تک آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا نہیں ملتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور عطاء بن سائب نامی راوی اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔