حدیث نمبر: 16542
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قُرَيْشٌ ، وَالْأَنْصَارُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، - أَوْ غِفَارُ وَأَسْلَمُ - وَمَنْ كَانَ مِنْ أَشْجَعَ وَجُهَيْنَةَ ، - أَوْ جُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ - حُلَفَاءُ مَوَالِي ، لَيْسَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ مَوْلًى " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، وَهِيَ ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قریش ، انصار ، اسلم اور غفار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) غفار اور اسلم اور اشجع اور جہینہ سے تعلق رکھنے والے لوگ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہینہ اور اشجع سے تعلق رکھنے والے لوگ ، جو ایک دوسرے کے حلیف ہیں ، وہ میرے ساتھی ہیں اور اُن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی مولیٰ نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد امام طبرانی نقل کی ہے جو اسماعیل بن عیاش نے یحیی بن سعید انصاری سے نقل کی ہے اور
یہ روایت ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام طبرانی نقل کی ہے جو اسماعیل بن عیاش نے یحیی بن سعید انصاری سے نقل کی ہے اور
یہ روایت ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16543
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُرَيْشٌ ، وَالْأَنْصَارُ ، وَجُهَيْنَةُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَأَشْجَعُ ، وَسُلَيْمٌ ، أَوْلِيَائِي ، لَيْسَ لَهُمْ وَلِيٌّ دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قریش ، انصار ، جہینہ ، مزینہ ، اسلم ، غفار ، اشجع اور سلیم ( یعنی ان قبائل کے افراد ) یہ میرے ساتھی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی ولی نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالملک بن محمد بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبدالملک بن محمد بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 16544
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْتُ جَمَاعَةً مِنَ الْعَرَبِ يَتَفَاخَرُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، الَّذِي أَسْمَعُ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ الْعَرَبُ تَفَاخَرُ فِيمَا بَيْنَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، إِذَا فَاخَرْتَ النَّاسَ فَفَاخِرْ بِقُرَيْشٍ ، وَإِذَا كَاثَرْتَ فَكَاثِرْ بِتَمِيمٍ ، وَإِذَا حَارَبْتَ فَحَارِبْ بِقَيْسٍ ، أَلَا إِنَّ وُجُوهَهَا كِنَانَةٌ ، وَلِسَانَهَا أُسْدٌ ، وَفُرْسَانَهَا قَيْسٌ . يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِلَّهِ فُرْسَانًا فِي سَمَائِهِ يُحَارِبُ بِهِمْ أَعْدَاءَهُ ، وَهُمُ الْمَلَائِكَةُ ، وَلَهُ فُرْسَانٌ فِي أَرْضِهِ يُحَارِبُ بِهِمْ أَعْدَاءَهُ ، وَهُمْ قَيْسٌ . يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، إِنَّ آخِرَ مَنْ يُقَاتِلُ عَنِ الْإِسْلَامِ حِينَ لَا يَبْقَى إِلَّا ذِكْرُهُ ، وَعَنِ الْقُرْآنِ حِينَ لَا يَبْقَى إِلَّا رَسْمُهُ لَرَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ قَيْسٍ ؟ قَالَ : " مِنْ سُلَيْمٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عربوں کے مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو پایا کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کر رہے تھے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے فرمایا : اے ابودرداء ! یہ کیا معاملہ ہے جو میں سن رہا ہوں ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ عرب ہیں ، جو ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کر رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابودرداء ! جب تم نے لوگوں کے سامنے فخر کا اظہار کرنا ہو ، تو قریش کے حوالے سے فخر کا اظہار کرنا ، اور جب کثرت کا اظہار کرنا ہو ، تو تمیم کے حوالے سے کثرت کا اظہار کرنا ، اور جب جنگ کرنی ہو ، تو قیس قبیلے کی مدد سے جنگ کرنا ، کیونکہ ان کے چہرے ترکش ہیں ، ان کی زبان شیر کی ہے اور ان کے گھڑ سوار قیس ہیں ۔
اے ابودرداء ! آسمان میں اللہ تعالیٰ کے کچھ شہسوار ہیں ، جن کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتا ہے اور وہ فرشتے ہیں اور زمین میں بھی اللہ تعالیٰ کے شہسوار ہیں ، جن کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتا ہے اور وہ قیس قبیلے کے لوگ ہیں ۔
اے ابودرداء ! اسلام کی طرف سے جو لوگ آخر میں جنگ میں حصہ لیں گے ، اس وقت جب صرف اسلام کا تذکرہ باقی رہ جائے گا اور قرآن کے حوالے سے جو لوگ سب سے آخر میں جنگ میں حصہ لیں گے ، اس وقت جب صرف اس کی رسم باقی رہ جائے گی ، وہ قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں گے ۔
راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیس قبیلے میں سے ( کون سی شاخ کے ) لوگ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سلیم سے تعلق رکھنے والے لوگ ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
اے ابودرداء ! آسمان میں اللہ تعالیٰ کے کچھ شہسوار ہیں ، جن کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتا ہے اور وہ فرشتے ہیں اور زمین میں بھی اللہ تعالیٰ کے شہسوار ہیں ، جن کے ذریعے وہ اپنے دشمنوں سے جنگ کرتا ہے اور وہ قیس قبیلے کے لوگ ہیں ۔
اے ابودرداء ! اسلام کی طرف سے جو لوگ آخر میں جنگ میں حصہ لیں گے ، اس وقت جب صرف اسلام کا تذکرہ باقی رہ جائے گا اور قرآن کے حوالے سے جو لوگ سب سے آخر میں جنگ میں حصہ لیں گے ، اس وقت جب صرف اس کی رسم باقی رہ جائے گی ، وہ قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں گے ۔
راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیس قبیلے میں سے ( کون سی شاخ کے ) لوگ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سلیم سے تعلق رکھنے والے لوگ ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16545
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : ذُكِرَتِ الْقَبَائِلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلُوهُ عَنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ : " جَمَلٌ أَزْهَرُ ، يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ " . وَسَأَلُوهُ عَنْ هَوَازِنَ فَقَالَ : " زَهْرَةٌ تَنْبُعُ مَاءً " . وَسَأَلُوهُ عَنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ : " ثَبَتُ الْأَقْدَامِ ، رُجَّحُ الْأَحْلَامِ ، عُظَمَاءُ الْهَامِ ، أَشَدُّ النَّاسِ عَلَى الدَّجَّالِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، هَضْبَةٌ حَمْرَاءُ لَا يَضُرُّهَا مَنْ نَاوَأَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَامُ بْنُ صُبَيْحٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مختلف قبائل کا ذکر کیا گیا ، آپ سے بنو عامر کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : وہ چمکتی رنگت کا اونٹ ہیں ، جو درخت کے اطراف میں سے کھاتا ہے ، لوگوں نے آپ سے ہوازن کے بارے میں دریافت کیا : تو آپ نے فرمایا : وہ چمکدار لوگ ہیں ، جن سے پانی پھوٹتا ہے ، لوگوں نے آپ سے بنو تمیم کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : وہ ثابت قدم لوگ ہیں ، سمجھدار ہیں ، اُن کے سر بڑے ہیں ، آخری زمانے میں دجال کے خلاف وہ سب سے زیادہ سخت ہوں گے ، وہ ایک ( سطح مرتفع والی ) ایسی سرخ مٹی ہے کہ جو شخص اس کی پناہ میں آیا ، اسے کوئی نقصان نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلام بن صبیح ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلام بن صبیح ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16546
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ يَوْمًا خَيْلًا ، وَعِنْدَهُ عُيَيَنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ " . فَقَالَ عُيَيْنَةُ : وَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَكَيْفَ ذَاكَ ؟ " . قَالَ : خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالٌ يَحْمِلُونَ سُيُوفَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، جَاعِلِي رِمَاحِهِمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ ، لَابِسِي الْبُرُدِ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَذَبْتَ ، بَلْ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَهْلِ الْيَمَنِ ، وَالْإِيمَانُ يَمَانُ إِلَى لَخْمٍ ، وَجُذَامَ ، وَعَامِلَةَ ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا ، وَحَضْرَمَوْتَ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ ، وَقَبِيلَةٌ خَيْرٌ مِنْ قَبِيلَةٍ ، وَقَبِيلَةٌ شَرٌّ مِنْ قَبِيلَةٍ ، وَاللَّهِ لَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَارِثَانِ كِلَاهُمَا ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ : جَمَدَاءَ ، وَمِخْوَسًاءَ ، وَمِشْرَحًاءَ ، وَأَبْضَعَةَ ، وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ " . ثُمَّ قَالَ : " أَمَرَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ أَلْعَنَ قُرَيْشًا فَلَعَنَتْهُمْ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ ، فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " عُصِيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ غَيْرَ قَيْسٍ ، وَجَعْدَةَ ، وَعُصِيَّةَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " لَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَأَخْلَاطُهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ أَسَدٍ ، وَتَمِيمٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " شَرُّ قَبِيلَتَيْنِ فِي الْعَرَبِ : نَجْرَانُ ، وَبَنُو تَغْلِبَ ، وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ ، وَمَأْكُولٌ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دن گھوڑے گزرے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن بن بدر فزاری موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : میں تم سے زیادہ اچھا شہسوار ہوں ( یا میں شہسواروں کا تم سے بڑا سپہ سالار ہوں ) اس نے کہا: لیکن میں پیادہ افراد کو آپ سے زیادہ بہتر طریقے سے لے کر چل سکتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا: لوگوں میں سب سے بہتر وہ مرد ہوتے ہیں ، جو اپنے کندھوں پر تلواریں رکھتے ہیں اور اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کے قدموں کے پاس رکھتے ہیں ، اور نجد کی بنی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم غلط کہہ رہے ہو ، بلکہ لوگوں میں سب سے بہتر اہل یمن کے افراد ہیں ، ایمان یمنی ہے ، جو لخم ، جذام اور عاملہ کی طرف ہے ، اور حمیر کا کھایا ہوا ، اس کے کھانے والے سے بہتر ہے ، اور حضرموت ، بنو حارث سے بہتر ہے ، ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر ہوتا ہے اور ایک قبیلہ کسی دوسرے سے برا ہوتا ہے ، اللہ کی قسم ! میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ اگر حارث قبیلے کی دونوں شاخیں ہلاکت کا شکار ہو جائیں ، اللہ تعالیٰ چار بادشاہوں پر لعنت کرے ، جمداء ، مخوساء ، مشرحاء اور ابضعہ اور اُن کی بہن عمردہ ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں قریش پر لعنت کروں ، تو میں نے ان پر لعنت کی ، اب اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اُن کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کروں ، تو میں ان کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کرتا ہوں ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عصیہ قبیلے نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، صرف قیس اور جعدہ اور عصیہ کا معاملہ مختلف ہے ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلم اور غفار اور ان کے ملتے جلتے لوگ ، جو جہینہ سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسد ، تمیم ، غطفان اور ہوازن کے مقابلے میں بہتر ہوں گے ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عربوں کے دو بدترین قبیلے نجران اور بنو تغلب ہیں ، اور جنت میں زیادہ تعداد والے قبیلے مذحج اور ماکول ہیں ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں قریش پر لعنت کروں ، تو میں نے ان پر لعنت کی ، اب اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اُن کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کروں ، تو میں ان کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کرتا ہوں ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عصیہ قبیلے نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ، صرف قیس اور جعدہ اور عصیہ کا معاملہ مختلف ہے ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلم اور غفار اور ان کے ملتے جلتے لوگ ، جو جہینہ سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسد ، تمیم ، غطفان اور ہوازن کے مقابلے میں بہتر ہوں گے ۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عربوں کے دو بدترین قبیلے نجران اور بنو تغلب ہیں ، اور جنت میں زیادہ تعداد والے قبیلے مذحج اور ماکول ہیں ۔
حدیث نمبر: 16547
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَمَأْكُولٌ [حِمْيَرَ] خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا " . قَالَ : مَنْ مَضَى خَيْرٌ مِمَنْ بَقِيَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” حمیر کا کھایا ہوا ، اُس کے کھانے والے سے بہتر ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : کہ جو گزر گیا ہے ، وہ باقی رہ جانے والوں سے بہتر ہے ۔
حدیث نمبر: 16548
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَأَنَا يَمَانٌ ، وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ ، وَلَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَيَّانِ كِلَاهُمَا فَلَا قَيْلَ وَلَا مَلِكَ إِلَّا اللَّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَسَمَّى السَّاقِطَ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میں یمانی ہوں اور حضرموت ، بنو حارث سے بہتر ہیں اور میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ اگر دونوں قبیلے ہلاکت کا شکار ہو جائیں ، تو حکمرانی اور بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ” متصل “ اور ” مرسل “ دونوں طرح سے نقل کی ہے ، اس کو امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے ، انہوں نے ساقط راوی کا نام بسر بن عبیداللہ بیان کیا ہے اور ان تمام روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ” متصل “ اور ” مرسل “ دونوں طرح سے نقل کی ہے ، اس کو امام طبرانی نے بھی نقل کیا ہے ، انہوں نے ساقط راوی کا نام بسر بن عبیداللہ بیان کیا ہے اور ان تمام روایات کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16549
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : عُرِضَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا خَيْلٌ وَعِنْدَهُ عُيَيْنَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ " . فَقَالَ عُيَيْنَةُ : إِنْ تَكُنْ أَفْرَسَ بِالْخَيْلِ مِنِّي فَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ ، قَالَ : " وَكَيْفَ ؟ " . قَالَ : إِنَّ خَيْرَ الرِّجَالِ رِجَالٌ لَابِسُو الْبُرُدَ ، وَاضِعُو السُّيُوفِ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، وَعَرَضُوا الرِّمَاحَ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ ، رِجَالُ نَجْدٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَذَبْتَ ، بَلْ هُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ ، الْإِيمَانُ يَمَانٌ إِلَى لَخْمٍ ، وَجُذَامَ ، وَعَامِلَةَ ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا ، وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَلَا قَيْلَ ، وَلَا مَلِكَ ، وَلَا قَاهِرَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ فَبَعَثَ السِّمْطَ إِلَى عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مَنْ بَنِي الْحَارِثِ " ؟ . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ سِمْطٌ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ . ¤ وَلَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ : جَمَدَاءَ ، وَمِخْوَسَاءَ ، وَأَبْضَعَةَ ، وَمِشْرَحَاءَ ، وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ ، وَكَانَتْ تَأْتِي الْمُسْلِمِينَ إِذَا سَجَدُوا فَتَرْكَبُهُمْ . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَمَرَنِي أَنْ أَلْعَنَ قُرَيْشًا فَلَعَنْتُهُمْ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ أَمَرَنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ ، وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ : مَذْحِجٌ ، وَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَأَخْلَاطُهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، وَتَمِيمٍ ، وَهَوَازِنَ ، وَغَطَفَانَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَنَا لَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَيَّانِ كِلَاهُمَا ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَلْعَنَ قَبِيلَتَيْنِ : تَمِيمَ بْنَ مُرٍّ سَبْعًا فَلَعَنْتُهُمْ ، وَبَكْرَ بْنَ وَائِلٍ خَمْسًا ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، إِلَّا مَازِنَ وَقَيْسَ قَبِيلَتَانِ لَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ مِنْهُمْ أَحَدًا أَبَدًا ، مَنَاعِشَ وَمُلَادِسَ ، وَزَعَمَ أَنَّهُمَا قَبِيلَتَانِ تَاهَتَا اتَّبَعَتَا الْمَشْرِقَ فِي عَامِ جَدْبٍ ، فَانْقَطَعَتَا فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْأَرْضِ لَا يُوَصَلُ إِلَيْهِمَا ، وَذَلِكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ . قَالَ الذَّهَبِيُّ : حَمَلَ عَنْهُ النَّاسُ ، وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَالِ ، وَقَالَ النَّسَائِيُّ : ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ رَوَاهُ بِنَحْوِهِ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ عَنْ شَيْخَيْنِ آخَرَيْنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گھوڑے پیش کئے گئے اس وقت آپ کے پاس عیینہ موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تم سے بڑا شہسوار ہوں ، عیینہ نے کہا: اگر آپ مجھ سے بڑے شہوار ہیں ، تو میں آپ سے زیادہ بڑا پیادہ ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا: مردوں میں بہتر وہ لوگ ہوتے ہیں جو چادریں پہنتے ہیں ، اپنے کندھوں پر تلواریں رکھتے ہیں اور اپنے نیزے گھوڑوں کی سموں ( یا نتھنوں ) کے پاس رکھتے ہیں ، اور وہ نجد کے لوگ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے غلط کہا: ہے ( یعنی جو لوگ سب سے بہتر ہوتے ہیں ) وہ اہل یمن کے مرد ہیں اور ایمان یمنی ہے ، جو لخم ، جذام ، عاملہ کی طرف ہے اور حمیر کا کھایا ہوا ، اُن کے کھانے والے سے بہتر ہے اور حضرموت بنو حارث سے بہتر ہیں ۔ “
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” حکومت ، بادشاہی اور غلبہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ۔ “
( راوی بیان کرتے ہیں : ) سمط نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : حضرموت ، بنو حارث سے بہتر ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سمط نے کہا: میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہوں ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بادشاہوں پر لعنت کی ہے : جمداء ، مخوساء ، ابضعہ ، مشرحاء اور ان کی بہن عمردہ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب مسلمان سجدے میں گئے ہوتے تھے تو یہ عورت اُن کے پاس آتی تھی اور ان پر سوار ہو جاتی تھی ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں قریش پر لعنت کروں ، تو میں نے ان پر دو مرتبہ لعنت کی پھر اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اُن کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کروں ، تو میں نے ان کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کی ، جنت میں مذحج ، اسلم ، غفار اور مزینہ قبیلے کے لوگ زیادہ تعداد میں ہوں گے ، اور اُن سے ملتے جلتے جہینہ قبیلے کے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بنو اسد اور تمیم اور ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے ، اور میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اگر دونوں قبیلے ہلاکت کا شکار ہو جائیں ، پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں دو قبیلوں ، تمیم بن مر پر سات مرتبہ لعنت کروں ، تو میں نے ان پر لعنت کی ، اور بکر بن وائل پر پانچ مرتبہ لعنت کروں ، عصیہ قبیلے نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ، البتہ مازن اور قیس قبیلے کا معاملہ مختلف ہے ۔
ان ( کفار ) میں سے کوئی شخص کبھی جنت میں داخل نہیں ہو گا ، مناعش اور ملادس ، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دو قبیلے وہ ہیں جو بھٹک گئے تھے اور قحط سالی کے دوران یہ دونوں مشرق کی طرف چلے گئے تھے اور عام ( آباد ) زمین سے ہٹ کر ایک کونے میں چلے گئے تھے ، ان تک پہنچا نہیں جا سکتا تھا ، یہ زمانہ جاہلیت کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : لوگوں نے ان سے روایات نقل کی ہیں ، یہ مقارب الحال ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اس کی مانند روایت عمدہ سند کے ساتھ انہوں نے دو دیگر اساتذہ سے نقل کی ہے ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” حکومت ، بادشاہی اور غلبہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ۔ “
( راوی بیان کرتے ہیں : ) سمط نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : حضرموت ، بنو حارث سے بہتر ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سمط نے کہا: میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہوں ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بادشاہوں پر لعنت کی ہے : جمداء ، مخوساء ، ابضعہ ، مشرحاء اور ان کی بہن عمردہ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب مسلمان سجدے میں گئے ہوتے تھے تو یہ عورت اُن کے پاس آتی تھی اور ان پر سوار ہو جاتی تھی ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں قریش پر لعنت کروں ، تو میں نے ان پر دو مرتبہ لعنت کی پھر اس نے مجھے حکم دیا کہ میں اُن کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کروں ، تو میں نے ان کے لئے دو مرتبہ دعائے رحمت کی ، جنت میں مذحج ، اسلم ، غفار اور مزینہ قبیلے کے لوگ زیادہ تعداد میں ہوں گے ، اور اُن سے ملتے جلتے جہینہ قبیلے کے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بنو اسد اور تمیم اور ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے ، اور میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اگر دونوں قبیلے ہلاکت کا شکار ہو جائیں ، پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں دو قبیلوں ، تمیم بن مر پر سات مرتبہ لعنت کروں ، تو میں نے ان پر لعنت کی ، اور بکر بن وائل پر پانچ مرتبہ لعنت کروں ، عصیہ قبیلے نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ، البتہ مازن اور قیس قبیلے کا معاملہ مختلف ہے ۔
ان ( کفار ) میں سے کوئی شخص کبھی جنت میں داخل نہیں ہو گا ، مناعش اور ملادس ، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دو قبیلے وہ ہیں جو بھٹک گئے تھے اور قحط سالی کے دوران یہ دونوں مشرق کی طرف چلے گئے تھے اور عام ( آباد ) زمین سے ہٹ کر ایک کونے میں چلے گئے تھے ، ان تک پہنچا نہیں جا سکتا تھا ، یہ زمانہ جاہلیت کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : لوگوں نے ان سے روایات نقل کی ہیں ، یہ مقارب الحال ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اس کی مانند روایت عمدہ سند کے ساتھ انہوں نے دو دیگر اساتذہ سے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 16550
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي دَارِنَا يَعْرِضُ الْخَيْلَ . قَالَ : فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنْتَ أَبْصَرُ مِنِّي بِالْخَيْلِ ، وَأَنَا أَبْصَرُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَأَيُّ الرِّجَالِ خَيْرٌ ؟ " . فَقَالَ : رِجَالٌ يَحْمِلُونَ سُيُوفَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، وَيَعْرِضُونَ رِمَاحَهُمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ ، وَيَلْبَسُونَ الْبُرُودَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَذَبْتَ ، بَلْ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ ذِي الْإِيمَانِ يَمَانٌ ، وَأَكْثَرُ قَبِيلَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ ، وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ أَكْلِهَا ، وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ كِنْدَةَ ، فَلَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ : جَمَدَاءَ ، وَمِشْرَخَاءَ ، وَمِخْوَسَاءَ ، وَأَبْضَعَةَ ، وَأُخْتَهُمُ الْعَمَرَّدَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے محلے میں موجود تھے ، آپ کے سامنے گھوڑے پیش کئے گئے ، اسی دوران عیینہ بن حصن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: شہسواروں کے بارے میں آپ مجھ سے زیادہ بصیرت رکھتے ہیں اور پیادہ افراد کے بارے میں ، میں آپ سے زیادہ بصیرت رکھتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون سے مرد بہتر ہوتے ہیں ؟ اس نے کہا: وہ مرد جو اپنی تلوار اپنے کندھوں پر رکھتے ہیں اور اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کی سموں ( یا نتھنوں ) کے پاس رکھتے ہیں اور نجد سے تعلق رکھتے ہیں ، وہ چادریں پہنتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے غلط کہا: ہے ، بلکہ مردوں میں سب سے بہتر مرد ایمان والے یمنی لوگ ہیں اور جنت میں زیادہ تعداد میں مذحج قبیلے کے لوگ ہوں گے ، اور حمیر کا کھایا ہوا اُس کے کھانے والے سے بہتر ہے اور حضرموت ، کندہ سے بہتر ہے ، اللہ تعالی چار بادشاہوں پر لعنت کرے ، جمداء ، مشرخاء ، مخوساء ، ابضعہ اور ان کی بہن عمردہ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ البتہ خالد بن معدان نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ البتہ خالد بن معدان نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 16551
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ ، وَعَلَى خَوْلَانَ خَوْلَانَ الْعَالِيَةَ ، وَعَلَى الْأَمْلُوكِ أَمْلُوكِ رَدْمَانَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکون ، سکاسک اور خولان ، یعنی خولان عالیہ اور املوک ، یعنی املوک ردمان ( یعنی ان سب قبائل ) کے لیے دعائے رحمت کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یزید بن معاویہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یزید بن معاویہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16552
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ الْأَمْلُوكُ أَمْلُوكُ حِمْيَرَ ، وَسُفْيَانُ ، وَالسَّكُونُ ، وَالْأَشْعَرِيِّينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں میں سب سے بہتر املوک ( یعنی ) املوک حمیر ، سفیان ، سکون اور اشعر ( قبیلوں کے لوگ ) ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 16553
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ الْكِنَانِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا رَجُلٌ يُخْبِرُنِي عَنْ مُضَرَ ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا أُخْبِرُكَ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا وَجْهُهَا الَّذِي فِيهِ سَمْعُهَا وَبَصَرُهَا فَهَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ . وَأَمَّا لِسَانُهَا الَّذِي تُعْرِبُ بِهِ فِي أَنْدِيَتِهَا فَهَذَا الْحَيُّ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ . وَأَمَّا كَاهِلُهَا فَهَذَا الْحَيُّ مِنْ بَنِي تَمِيمِ بْنِ مُرَّةَ . وَأَمَّا فُرْسَانُهَا فَهَذَا الْحَيُّ مِنْ قَيْسِ عَيْلَانَ . قَالَ : فَنَظَرْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَالْمُصَدِّقِ لَهُمْ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل کنانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا کوئی ایسا شخص ہے ؟ جو مجھے مضر کے بارے میں خبر دے ، حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : میں آپ کو ان کے بارے میں بتاتا ہوں ، یا رسول اللہ ! جہاں تک ان کے چہرے کا تعلق ہے ، جس میں ان کی سماعت اور بصارت ہے تو وہ قریش کا یہ قبیلہ ہے جہاں تک ان کی زبان کا تعلق ہے ، جس کے ذریعے وہ محفلوں میں گفتگو کرتے ہیں ، تو وہ بنو اسد بن خزیمہ کا یہ قبیلہ ہے ، جہاں تک ان کی ” کاہل “ ( نامی رگ ) کا تعلق ہے تو وہ بنو تمیم بن مر کا یہ قبیلہ ہے ، جہاں تک ان کے شہسواروں کا تعلق ہے تو وہ قیس عیلان کا یہ قبیلہ ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات کی تصدیق کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 16554
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَسْلَمُ ، وَغِفَارُ ، وَرِجَالٌ مِنْ مُزَيْنَةَ ، وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنَ الْحَلِيفَيْنِ : غَطَفَانَ ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ " . ¤ قَالَ : فَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ : وَاللَّهِ ، لَئِنْ أَكُونَ فِي هَؤُلَاءِ فِي النَّارِ - يَعْنِي غَطَفَانَ ، وَبَنِي عَامِرٍ - أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكُونَ فِي هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَنَاحٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلم ، غفار اور مزینہ اور جہینہ قبیلے کے لوگ ، دو حلیفوں ، یعنی غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو عیینہ بن بدر نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر میں اُن لوگوں میں شامل ہو کر جہنم میں چلا جاؤں ۔ اُس کی مراد غطفان اور بنو عامر تھے ۔ تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں ان لوگوں میں شامل ہو کر جنت میں جاؤں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن جناح ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن جناح ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16555
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ الْحَلِيفَانِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارَ خَيْرٌ مِنَ الْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ ، أَتَرَوْنَهُمْ خَسِرُوا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ الْحَلِيفَانِ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ وَتَمِيمٍ وَبَنِي وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ؟ " . فَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرِ بْنِ حُصَيْنٍ : وَاللَّهِ ، لَأَنْ أَكُونَ مَعَ هَؤُلَاءِ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكُونَ مَعَ هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَحْمَقَ مُطَاعٍ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو ؟ کہ اگر اسلم اور غفار ، یہ دونوں حلیف قبیلے ، اسد اور غطفان نامی دو حلیف قبیلوں سے بہتر ہوں ، تو کیا تم یہ سمجھو گے کہ وہ خسارے کا شکار ہو گئے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم یہ سمجھتے ہو کے مزینہ اور جہینہ نامی دو حلیف قبیلے ، اسد ، غطفان ، ہوازن ، تمیم اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں ؟ تو عیینہ بن بدر بن حصین نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اُن لوگوں کے ساتھ جہنم میں جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ جنت میں جاؤں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ کسی ایسے احمق کو دیکھے ، جسے پیشوا کی حیثیت حاصل ہو ، تو اُسے اس کو دیکھ لینا چاہیے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ متروک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 16556
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَسْلَمَ ، وَغِفَارَ ، وَمُزَيْنَةَ ، وَأَشْجَعَ ، وَجُهَيْنَةَ وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي كَعْبٍ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ عِنْدَ مُسْلِمٍ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ أَسْلَمَ : الْأَنْصَارَ ، وَجَعَلَ مَوْضِعَ بَنِي كَعْبٍ : بَنِي عَبْدَةَ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اسلم ، غفار ، مزینہ ، اشجع اور جہینہ اور بنو کعب سے تعلق رکھنے والے جو لوگ ہیں وہ باقی لوگوں کو چھوڑ کر میرے موالی ( یعنی ساتھی ) ہیں ، اور اللہ تعالیٰ اور اُس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مولیٰ ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اسے امام مسلم نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” اسلم “ کی جگہ لفظ ” انصار “ نقل کیا ہے ، اور ” بنو کعب “ کی جگہ ” بنو عبدہ “ نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اسے امام مسلم نے بھی نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” اسلم “ کی جگہ لفظ ” انصار “ نقل کیا ہے ، اور ” بنو کعب “ کی جگہ ” بنو عبدہ “ نقل کیا ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 16557
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " غِفَارُ ، وَأَسْلَمُ ، وَجُهَيْنَةُ ، وَمُزَيْنَةُ مَوَالِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَرَسُولِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” غفار ، اسلم ، جہینہ اور مزینہ ( ان قبائل کے لوگ ) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے موالی ( یعنی ساتھی ) ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16558
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُمَا ، وَأَسَانِيدُهُمْ جَيِّدَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلم قبیلے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے ، اور غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے ، یہ بات میں نہیں کہہ رہا ہوں ، بلکہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے ان دونوں کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اور ان حضرات کی اسانید عمدہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے ان دونوں کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اور ان حضرات کی اسانید عمدہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 16559
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَالَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلم قبیلے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اور یہ بات میں نہیں کہہ رہا ہوں ، بلکہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد یمامی ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد یمامی ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16560
وَعَنِ ابْنِ سَنْدَرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَتُجِيبُ أَجَابَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . ¤ فَقَالَ لَهُ أَبُو الْخَيْرِ : يَا أَبَا الْأَسْوَدِ ، أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ تُجِيبَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن سندر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلم قبیلے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے ، اور غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے ، اور تجیب قبیلے کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو قبول کیا ہے “ راوی بیان کرتے ہیں : ابوالخیر نامی راوی نے اُن سے کہا: اے ابواسود ! کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ” تجیب “ قبیلے کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور ان دونوں حضرات کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور ان دونوں حضرات کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16561
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عہنما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 16562
وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلم قبیلے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 16563
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " بَنُو غِفَارَ ، وَأَسْلَمَ ، كَانُوا لِكَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ فِتْنَةً ، يَقُولُونَ : لَوْ كَانَ خَيْرًا مَا جَعَلَهُ اللَّهُ أَوَّلَ النَّاسِ ، وَأَنَّهَا غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بَاخْتِصَارٍ عَنْهُ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسِفُ بْنُ خَالِدِ السَّمْتِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بنو غفار اور اسلم قبیلے کے لوگ ، بہت سے لوگوں کے لیے آزمائش ہیں ، وہ لوگ یہ کہتے ہیں : کہ اگر یہ بھلائی ہوتی ، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ( باقی ) لوگوں میں سب سے پہلے نہ رکھتا ، بے شک غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اور اسلم قبیلے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اختصار کے ساتھ اسے اُن صحابی کے حوالے سے نقل کیا ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اختصار کے ساتھ اسے اُن صحابی کے حوالے سے نقل کیا ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 16564
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عِصَابَةٍ قَدْ أَقْبَلَتْ فَقَالَ : " أَتَتْكُمُ الْأَزْدُ أَحْسَنُ النَّاسِ وُجُوهًا ، وَأَعْذَبُهَا أَفْوَاهًا ، وَأَصْدَقُهَا لِقَاءً " . ¤ وَنَظَرَ إِلَى كَبْكَبَةٍ قَدْ أَقْبَلَتْ فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " . قَالُوا : بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اجْبُرْ كَسِيرَهُمْ ، وَآوِ طَرِيدَهُمْ ، وَأَرْضِ بَرَّهُمْ ، وَلَا تُرِنِي مِنْهُمْ سَائِلًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ” ازد “ قبیلے کے لوگ تمہارے پاس آئے ہیں ، جو چہرے کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت ہیں ، سب سے زیادہ میٹھے منہ والے ہیں اور ملاقات میں سب سے زیادہ سچے ہیں “ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا ، تو دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ بکر بن وائل ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! تو ان کے ٹوٹے ہوئے کو جوڑ دے ، ان کے نکالے ہوئے کو پناہ دیدے ، ان کے نیک شخص کو راضی کر دے اور مجھے ان کی طرف سے سائل نہ دکھانا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔