مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأَنْصَارِ . باب: انصار کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ السَّاعِدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ : أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، بَايِعْ هَذَا فَقَالَ : " وَمَنْ هَذَا ؟ " . قَالَ : هَذَا ابْنُ عَمِّي : حَوْطُ بْنُ يَزِيدَ - أَوْ يَزِيدُ بْنُ حَوْطٍ - . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا أُبَايِعُكُمْ ، إِنَّ النَّاسَ يُهَاجِرُونَ إِلَيْكُمْ ، لَا يُهَاجِرُونَ إِلَيْهِمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُحِبُّ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ يُحِبُّهُ ، وَلَا يُبْغِضُ رَجُلٌ الْأَنْصَارَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ يُبْغِضُهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں سے ہجرت پر بیعت لے رہے تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص سے بھی بیعت لے لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ میرا چچازاد حوط بن یزید ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں ) یزید بن حوط ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تم لوگوں سے بیعت نہیں لوں گا کیونکہ لوگ تو ہجرت کر کے تمہاری طرف آئیں گے ، تم ہجرت کر کے ان کی طرف نہیں جاؤ گے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جو شخص انصار سے محبت کرتا ہو اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو ، تو وہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہو گا ، اور جو شخص انصار سے بغض رکھتا ہو ، یہاں تک کہ وہ ایسی حالت میں ہی اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہو ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے بغض رکھتا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اس کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔