کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: صحابہ کرام کی ایک جماعت اور دیگر لوگوں کے بارے میں جو بات منقول ہےاُن کے اسماء ، ان کے سن وفات ، اُن کے نسب کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
- وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَخْلَدٍ يَقُولُ : وُلِدْتُ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
علی بن رباح بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابن مخلد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : میں اس سال پیدا ہوا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس وقت میری عمر دس سال تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
- وَعَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعٍ ، وَتُوُفِّيَ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : عِنْدِي هُوَ الصَّوَابُ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں چار سال کا تھا اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو میں چودہ سال کا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : میرے نزدیک یہی روایت درست ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن حیان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : میرے نزدیک یہی روایت درست ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن حیان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : مَسْلَمَةُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ صَامِتِ بْنِ بَيْرِ بْنِ كَوْذَانَ بْنِ عَبْدُودِ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ سَاعِدَةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ الْخَزْرَجِ . . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ بن مخلد بن صامت بن بیر بن کوذان بن عبدود بن زید بن ثعلبہ بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج ۔
- وَقَالَ أَيْضًا : مُخَيِّصَةُ بْنُ نَوْفَلِ بْنِ أُهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ بْنِ كِلَابِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ لُؤَيٍّ ، وَأُمُّهُ : رَقِيقَةُ بِنْتُ أَبِي صَيْفِيِّ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی یہ بھی بیان کرتے ہیں : سیدنا مخیصہ رضی اللہ عنہ بن نوفل بن اہیب بن عبدمناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن كعب بن لؤی بن لوی ، ان کی والدہ رقیقہ بنت ابوصیفی بن ہاشم بن عبدمناف ہیں ۔
- وَقَالَ أَيْضًا : مِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ أُهَيْبٍ الزُّهْرِيُّ ، أُمُّهُ أُخْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، يُقَالُ : اسْمُهَا رَمْلَةُ [ وَكَانَ عِنْدَ الْمِسْوَرِ جُوَيْرِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَهِي أُمُّ ابِنِهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ ] . . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی یہ بھی فرماتے ہیں : سیدنا مسور رضی اللہ عنہ بن مخرمہ بن نوفل بن اہیب زہری ، ان کی والدہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں ، اس خاتون کا نام ایک قول کے مطابق رملہ ہے ، پہلے سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کے نکاح میں جویریہ بنت عبدالرحمن بن عوف تھیں اور یہ ان کے صاحبزادے عبدالرحمن بن مسور کی والدہ ہیں ۔
- وَقَالَ بَكْرُ بْنُ حَبِيبٍ الْحَنَفِيُّ : لَمْ يُخَرَّجْ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا بکر بن حبیب حنفی رضی اللہ عنہ ۔ امام طبرانی نے ان کے حوالے سے کوئی روایت نقل نہیں کی ہے ۔
- وَقَالَ : تَمِيمُ بْنُ حَجَرٍ : أَبُو أَوْسٍ الْأَسْلَمِيُّ جَدُّ بُرَيْدَةَ بْنِ سُفْيَانَ ، لَهُ صُحْبَةٌ ، لَمْ يُخَرَّجْ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا تمیم رضی اللہ عنہ بن حجر ، ابواوس اسلمی ، یہ بریدہ بن سفیان کے دادا ہیں ، انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، امام طبرانی نے ان کے حوالے سے کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے ۔
- وَقَالَ : تَمِيمُ بْنُ [ عَبْدِ ] عَمْرٍو أَبُو الْحَسَنِ الْمَازِنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا تمیم رضی اللہ عنہ بن عبدعمرو ، ابوالحسن مازنی ۔
- وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : أَبُو الْحَسَنِ الْمَازِنِيُّ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، اسْمُهُ تَمِيمُ بْنُ عَمْرٍو ، اسْتَعْمَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى الْمَدِينَةِ حِينَ خَرَجَ إِلَى الْعِرَاقِ حِينَ خَرَجَ [ إِلَيْهِ ] سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ . . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوالحسن مازنی رضی اللہ عنہ ، عمرو بن یحیی کے دادا ہیں ، ان کا نام تمیم بن عمرو ہے ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ جب عراق تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے انہیں مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا ، جب سہل بن حنیف نکل کر ان کی طرف آئے تھے ۔
- وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ : وَفِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ - جُبَيْرُ بْنُ حُبَابِ بْنِ الْمُنْذِرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ حضرمی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبیداللہ بن ابورافع رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث میں یہ مذکور ہے ، انہوں نے اس میں ان لوگوں کے نام ذکر کیے ہیں ، جنہوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا تھا ، ان میں ایک سیدنا جبیر بن حباب بن منذر رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : جَرَّاحٌ الْأَشْجَعِيُّ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا جراح اشجعی رضی اللہ عنہ ۔
- وَقَالَ : حَاطِبُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ جُمَحٍ ، هَاجَرَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ : فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُجَلِّلِ ، وَمَعَهُمَا ابْنَاهُمَا : الْحَارِثُ وَمُحَمَّدٌ ابْنَا حَاطِبٍ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ بن حارث بن معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمع ، انہوں نے اور ان کی اہلیہ سیدہ فاطمہ بنت مجلل رضی اللہ عنہا نے ، اور ان دونوں کے ساتھ ، ان کے دو بیٹوں حارث اور محمد نے ہجرت کی تھی ، یہ دونوں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں ۔
- وَقَالَ : وَحُصَيْنُ بْنُ يَزِيدَ [ الْكَلْبِيُّ ] لَمْ يُخَرَّجْ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا حصین بن یزید کلبی رضی اللہ عنہ ، امام طبرانی نے ان کے حوالے سے کوئی روایت نقل نہیں کی ہے ۔
- وَقَالَ : وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ لَمْ يُخَرَّجْ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا حویصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام طبرانی نے ان کے حوالے سے کوئی روایت نقل نہیں کی ہے ۔
- وَقَالَ : خَارِجَةُ بْنُ حُذَافَةَ بْنِ غَانِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُوَيْجِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَكَانَ مِمَّنْ حَضَرَ فَتْحَ مِصْرَ ، وَمَاتَ بِهَا . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا خارجہ رضی اللہ عنہ بن حذافہ بن غانم بن عبدالله بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب ، یہ ان افراد میں سے ایک ہیں ، جو مصر کی فتح میں شریک ہوئے تھے ، اور ان کا انتقال بھی مصر میں ہی ہوا ۔
- وَقَالَ : وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُشَمِيُّ لَمْ يُخَرَّجْ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا زہیر بن معاویہ جشمی رضی اللہ عنہ ، امام طبرانی نے ان کے حوالے سے کوئی روایت نقل نہیں کی ہے ۔
- وَقَالَ : وَسَعْدُ بْنُ هِلَالٍ لَمْ يُخَرَّجْ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن ہلال رضی اللہ عنہ ، امام طبرانی نے ان کے حوالے سے کوئی روایت نقل نہیں کی ہے ۔
- وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ قَالَ : أَذْكُرُ أَنِّي سَمِعْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَرْعَى إِبِلًا لِأَهْلِي بِكَاظِمَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَسَمَّاهُ سَعِيدًا ، وَصَوَابُهُ سَعْدٌ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن ایاس ابوعمرو شیبانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے یہ بات یاد ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے : میں اس وقت کاظمہ کے پاس اپنے گھر والوں کے اونٹ چرا رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے ان کا نام سیدنا سعید رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے ، جبکہ درست یہ ہے کہ ان کا نام سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ہشام بن عبداللہ سلمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے ان کا نام سیدنا سعید رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے ، جبکہ درست یہ ہے کہ ان کا نام سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ہشام بن عبداللہ سلمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : سَلَمَةُ بْنُ نُفَيْعٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ جَارِيَةَ ، وَسَلَمَةُ الْخُزَاعِيُّ ، وَسَابِقٌ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمہ بن نفیع رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمہ بن جاریہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمہ خزاعی رضی اللہ عنہ اور سابق رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت ولاء رکھتے ہیں ۔
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : شُرَيْكُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَشَبِيبُ بْنُ أَنْعُمٍ ، وَلَمْ يُنْسَبْ ، وَشُعَيْبُ بْنُ عَمْرٍو ، وَلَمْ يُنْسَبْ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا شریک بن حنبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا شبیب بن انعم رضی اللہ عنہ ، انہوں نے ان کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے اور سیدنا شعیب بن عمرو رضی اللہ عنہ ان کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ۔
- وَعَنِ الْقَاسِمِ : أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : لَقِيتُ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
قاسم ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میں نے ایک سو صحابہ کرام سے ملاقات کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عُبَيْدَةُ بْنُ صَيْفِيٍّ الْجُعْفِيُّ . . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبیدہ بن صیفی جعفی رضی اللہ عنہ ۔
- وَعَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ : أَسْلَمْتُ قَبْلَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَنَتَيْنِ ، وَصَلَّيْتُ ، وَلَمْ أَلْقَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْجُدَيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبیدہ سلمانی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے دو سال پہلے مسلمان ہو گیا تھا اور میں نے نماز بھی ادا کی تھی ، لیکن میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، امام طبرانی کہتے ہیں : اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن زرارہ جدی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، امام طبرانی کہتے ہیں : اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن زرارہ جدی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
- وَعَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ قَالَ : عَبْدُ خَيْرِ بْنُ يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ جَاهِلِيٌّ إِسْلَامِيٌّ ، قَالَ : أَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا بِالْيَمَنِ ، فَأَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن معین بیان کرتے ہیں : عبدخیر بن یزید ہمدانی ، انہیں زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں نصیب ہوئے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : مجھے یہ بات یاد ہے کہ ہم لوگ یمن میں تھے ، ہمارے پاس اللہ کے رسول کا مکتوب آیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عُمَارَةُ بْنُ عُبَيْدٍ الْخَثْعَمِيُّ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمارہ بن عبید خثعمی رضی اللہ عنہ ۔
- وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيِّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا ابْنُ سِتٍّ وَسِتِّينَ . ¤ قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ أَطْوَلِ الرِّجَالِ وَأَتَمِّهِمْ ، وَابْنُهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ وَلِيَ الْكُوفَةَ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَكَانَ كَاتِبُهُ أَبُو الزِّنَادِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
مصعب بن عبیداللہ زبیری اور عبدالرحمن بن زید بن خطاب بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میری عمر چھیاسٹھ سال تھی ۔ راوی کہتے ہیں : عبدالرحمن سب سے زیادہ لمبے قد کے مالک تھے ، ان کے بیٹے عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب کوفہ کے گورنر بنے تھے ، جو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کی طرف سے مقرر ہوئے تھے اور ان کے کاتب ، ابوزناد تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
- وَبِسَنَدِهِ قَالَ : كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ يُكَنَّى أَبَا مُحَمَّدٍ ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ حِينَ قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن حارث رضی اللہ عنہ ، ان کی کنیت ابومحمد ہے اور سیدنا عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت دس سال کے تھے ۔
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْعَاصِ ابْنُ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهُ ذِكْرٌ ، وَلَيْسَ لَهُ سَنَدٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے ہیں ، ان کا تذکرہ ملتا ہے ، لیکن اس کی سند نہیں ہے ۔
- وَقَالَ : عَامِرُ بْنُ شَهْرٍ لَمْ يُخَرَّجْ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عامر بن شہر رضی اللہ عنہ امام طبرانی نے ان کے حوالے سے کوئی روایت نقل نہیں کی ہے ۔
- وَقَالَ : عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ لَمْ يُخَرَّجْ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عتاب بن بشیر رضی اللہ عنہ ، انہوں نے ان کے حوالے سے کوئی روایت نقل نہیں کی ہے ۔
- وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ : عُجَيْرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ، سَكَنَ مَكَّةَ ، وَرَوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدِيثًا ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
امام محمد بن اسماعیل بخاری بیان کرتے ہیں : سیدنا عجیر بن یزید بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ ، انہوں نے مکہ میں رہائش اختیار کی تھی انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے ، لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے وہ حدیث ذکر نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَازِبُ بْنُ الْحَازِبِ بْنِ الْحَارِثِ أَبُو الْبَرَاءِ بْنُ عَازِبٍ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عازب رضی اللہ عنہ بن حازب بن حارث ، یہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے والد ہیں ۔
- وَعَنِ الْبُخَارِيِّ قَالَ : وَعَلْقَمَةُ بْنُ حَوْشَبٍ الْغِفَارِيُّ سَكَنَ الْمَدِينَةَ ، وَرَوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ حَدِيثًا ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
امام بخاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علقمہ بن حوشب غفاری رضی اللہ عنہ ، انہوں نے مدینہ منورہ میں رہائش اختیار کی تھی ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے ، تاہم امام بخاری رحمہ اللہ نے وہ حدیث ذکر نہیں کی ، جو انہوں نے روایت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ : أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ مُخَضْرَمٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمران بن تیم ، ابورجاء عطاردی ، یہ ” مخضرم “ ہیں ۔
- وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ سَنَةَ خَمْسٍ وَمِائَةٍ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد بن حنبل فرماتے ہیں : سیدنا ابورجاء عطاردی رضی اللہ عنہ کا انتقال 105 ہجری میں ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
- وَعَنْ يَحْيَى بْنِ مَعْينٍ ، قَالَ : مَاتَ أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ سَنَةَ خَمْسٍ وَمِائَةٍ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن معین بیان کرتے ہیں : سیدنا ابورجاء عطاردی رضی اللہ عنہ کا انتقال 105 ہجری میں ہوا ۔
- وَعَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ : بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا خُمَاسِيٌّ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورجاء عطاردی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ، تو میں پانچویں سال میں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنت کی طرف دعوت دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
- وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : أَبُو رُهْمٍ الْغِفَارِيُّ ، وَهُوَ كُلْثُومُ بْنُ الْحُصَيْنِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ خَلَفِ بْنِ قَيْسِ بْنِ أَحْمُسَ بْنِ غِفَارِ بْنِ مُقْبِلِ بْنِ بَكْرِ بْنِ ضَمْرَةَ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارِ بْنِ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ ، وَكَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابورہم غفاری رضی اللہ عنہ ، یہ سیدنا کلثوم بن حصین بن عبید بن خلف بن قیس بن احمس بن غفار بن مقبل بن بكر بن ضمرہ بن عبدمناة بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ہیں ، اور یہ ان افراد میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی ۔
- وَقَالَ كُرْزٌ التَّمِيمِيُّ : غَيْرُ مَنْسُوبٍ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا کرز تمیمی رضی اللہ عنہ ان کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
- وَقَالَ لَبِيدٌ : أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يُخَرَّجْ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا لبید ابوعبداللہ رضی اللہ عنہ انہوں نے ان کے حوالے سے کوئی روایت نقل نہیں کی ہے ۔
…