کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: شراب کے بارے میں ، اور اس کو پینے والے شخص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْخَمْرُ أُمُّ الْفَوَاحِشِ ، وَأَكْبَرُ الْكَبَائِرِ ، مَنْ شَرِبَهَا وَقَعَ عَلَى أُمِّهِ ، وَخَالَتِهِ ، وَعَمَّتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے ، اور سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے ، جو شخص اسے پی لیتا ہے ، وہ اپنی ماں کے ساتھ ، یا اپنی خالہ کے ساتھ ، یا اپنی پھوپھی کے ساتھ زنا کر سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے ، اور وہ راوی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے ، اور وہ راوی ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيِهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ فِيهَا عِلْمٌ ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ شُرْبُ الْخَمْرِ ، فَأَتَيْتُهُمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ ، وَوَثَبُوا إِلَيْهِ جَمِيعًا فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مَلِكًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَخَذَ رَجُلًا فَخَيَّرَهُ بَيْنَ أَنْ يَشْرَبَ الْخَمْرَ ، أَوْ يَقْتُلَ صَبِيًّا ، أَوْ يَأْكُلَ لَحْمَ خِنْزِيرٍ ، أَوْ يَقْتُلُوهُ إِنْ أَبَى فَاخْتَارَ أَنْ يَشْرَبَ الْخَمْرَ ، وَأَنَّهُ لَمَّا شَرِبَ لَمْ يَمْتَنِعْ مِنْ شَيْءٍ أَرَادُوهُ مِنْهُ " . وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَنَا حِينَئِذٍ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْرَبُهَا فَتُقْبَلَ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، وَلَا يَمُوتُ وَفِي مَثَانَتِهِ مِنْهَا شَيْءٌ ، إِلَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ الْجَنَّةُ ، وَإِنْ مَاتَ فِي الْأَرْبَعِينَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ التَّمَّارِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بیٹھے ، انہوں نے سب سے بڑے کبیرہ گناہ کا ذکر کیا ، لیکن ان کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا ان لوگوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، تاکہ میں ان سے اس بارے میں دریافت کروں ، تو انہوں نے یہ بتایا کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ ، شراب پینا ہے ، میں ان حضرات کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا ، وہ سب لوگ اکٹھے ہو کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بنی اسرائیل کا ایک بادشاہ تھا ، اس نے ایک شخص کو پکڑ لیا اور اسے یہ اختیار دیا کہ یا تو وہ شراب پی لے ، یا بچے کو قتل کر دے یا خنزیر کا گوشت کھا لے ، اگر اس نے یہ ( یعنی ان میں سے کوئی ) بات نہیں مانی ، تو وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے ، تو اس شخص نے شراب پینے کو اختیار کر لیا ، جب اس نے شراب پی لی ، تو اس نے کوئی ایسا کام نہیں چھوڑا جو وہ لوگ اس سے کروانا چاہ رہے تھے “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ بات ارشاد فرمائی : ” جو بھی شخص اسے پیے گا ، چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی ، اگر وہ شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ شراب کا کچھ حصہ اس کے مثانے میں موجود ہو ، تو اس شخص پر جنت حرام ہو گی ، اور اگر وہ اُن چالیس دنوں کے درمیان مر جاتا ہے ، تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف داؤد بن صالح تمار کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف داؤد بن صالح تمار کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ عَتَّابِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي الْحِجْرِ بِمَكَّةَ ، فَسُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ فَقَالَ : سَأَلَنِي رَجُلٌ فَقُلْتُ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاذْهَبْ فَاسْأَلْهُ ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي ، فَسَأَلَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ سَأَلَهُ فَقَالَ : " هِيَ أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ ، وَأُمُّ الْفَوَاحِشِ ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ تَرَكَ الصَّلَاةَ ، وَوَقَعَ عَلَى أُمِّهِ وَخَالَتِهِ وَعَمَّتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَعَتَّابٌ لَمْ أَعْرِفْهُ وَابْنُ لَهِيعَةَ حَدِيثُهُ حَسُنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
عتاب بن عامر بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ میں حطیم میں موجود تھا ، اُن سے شراب کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو انہوں نے فرمایا : ایک شخص نے مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو میں نے کہا: یہ اللہ کے رسول موجود ہیں ، تم ان کے پاس جا کر اُن سے دریافت کرو ! اور پھر میرے پاس واپس آ کر مجھے بتانا ، اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : پھر وہ واپس میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا : اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ اور تمام برائیوں کی جڑ ہے ، جو شخص شراب پی لے گا ، وہ اپنی نماز ترک کر دے گا ، وہ اپنی ماں یا خالہ ، یا پھوپھی کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عتاب نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، ابن لہیعہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عتاب نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، ابن لہیعہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَهْبَطَهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَى الْأَرْضِ ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ : أَيْ رَبِّ ( أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ) قَالُوا : رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْمَلَائِكَةِ : هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنْكُمْ حَتَّى يُهْبَطَ بِهِمَا إِلَى الْأَرْضِ ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلَانِ ؟ قَالُوا : رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ ، وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزُّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ ، فَجَاءَاهَا فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ ، قَالَا : لَا وَاللَّهِ لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا أَبَدًا ، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ ، فَشَرِبَا فَسَكِرَا فَوَقَعَا عَلَيْهَا ، وَقَتَلَا الصَّبِيَّ ، فَلَمَّا أَفَاقَا قَالَتِ الْمَرْأَةُ : وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا شَيْئًا مِمَّا أَبَيْتُمَاهُ عَلَيَّ إِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا ، فَخُيِّرَا بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف نازل کیا ، تو فرشتوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار ! ( قرآن میں اُس کا ذکر ان الفاظ میں ہے : ) ” کیا تو زمین میں اس کو اپنا نائب بنائے گا ، جو اس میں فساد پیدا کرے گا ، اور خون بہائے گا ، جبکہ ہم تیری حمد بیان کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں ، تو پروردگار نے فرمایا : میں وہ جانتا ہوں ، جو تم نہیں جانتے “ ۔ فرشتوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار ! ہم اولاد آدم سے زیادہ تیرے فرمانبردار ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا : تم اپنے میں سے دو فرشتوں کو پیش کرو ! ان دونوں کو زمین کی طرف بھیجا جائے گا ، پھر ہم اس بات کو ظاہر کر دیں گے کہ وہ کیسا عمل کرتے ہیں ؟ تو ان لوگوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار ! یہ ہاروت اور ماروت ہیں ، ان دونوں کو زمین کی طرف بھیجا گیا ، ان کے لئے زہرہ کو ایک خوبصورت عورت کی شکل میں بنا دیا گیا ، وہ دونوں اس عورت کے پاس آئے ، اور اس سے قربت کی خواہش کا اظہار کیا ، تو اس عورت نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! جب تک تم شرکیہ کلمہ نہیں کہتے ( اس وقت تک میں تمہارے ساتھ قربت نہیں کروں گی ) ان دونوں نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ہم اللہ کے ساتھ کسی کو کبھی شریک قرار نہیں دیں گے ، وہ عورت ان دونوں کو چھوڑ کر چلی گئی ، پھر وہ واپس آئی ، تو اس نے ایک بچے کو اٹھایا ہوا تھا ، ان دونوں نے پھر اس سے قربت کی خواہش کا اظہار کیا ، تو اس عورت نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! جب تک تم شراب نہیں پیتے ( اس وقت تک میں تمہارے قریب نہیں آؤں گی ) ان دونوں نے شراب پی لی ، ان دونوں کو نشہ ہو گیا ، ان دونوں نے اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر لیا اور اس بچے کو قتل بھی کر دیا ، جب ان دونوں کو ہوش آیا ، تو ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم ! تم دونوں نے جس بھی چیز کا انکار کیا تھا ، اس میں سے کچھ بھی نہیں چھوڑا ، تم نے نشے کی حالت میں وہ کام کر لیے ہیں ، پھر ان دونوں فرشتوں کو دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو انہوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کر لیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن جبیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن جبیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنِ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ كَانَ مِثْلَ ذَلِكَ " . فَلَا أَدْرِي أَفِي الثَّالِثَةِ أَمْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَإِنْ عَادَ كَانَ حَتْمًا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : " عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ " . وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَشَهْرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص شراب پی لے ، اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہو گی ، اگر وہ توبہ کر لے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا ، اگر وہ دوبارہ ایسا کرے گا ، تو پھر ایسا ہی ہو گا ، راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم ، تیسری مرتبہ میں ، یا شاید چوتھی مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ پھر ایسا کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اسے ” طینہ خبال “ میں سے پلائے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! طینہ خبال کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اہل جہنم کا نچوڑ ( یعنی ان کے خون ، پیپ اور دیگر گندگی کا مواد ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ حق ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی شہر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ حق ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی شہر ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَسَكِرَ ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَإِنْ شَرِبَهَا فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، وَالثَّالِثَةَ أَوِ الرَّابِعَةَ فَإِنْ شَرِبَهَا لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ تَابَ ، لَمْ يَتُبِ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَكَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ عَيْنِ خَبَالٍ " . قِيلَ : وَمَا عَيْنُ خَبَالٍ ؟ قَالَ : " صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ خَلَا قَوْلِهِ : " فَإِنْ تَابَ لَمْ يَتُبِ اللَّهُ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا نَافِعِ بْنِ عَاصِمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص شراب پی لے اور اسے نشہ ہو جائے ، اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہو گی ، اگر وہ پھر پی لے ، اور اسے نشہ ہو جائے ، تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہو گی ، راوی کہتے ہیں : تیسری ، یا شاید چوتھی مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ پھر اسے پی ، تو اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہو گی ، اگر وہ توبہ کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ عین خیال ( یعنی خبال کے چشمے ) میں سے اس کو پلائے ، عرض کی گئی : خبال کا چشمہ کون سا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اہل جہنم کی ، خون کی آمیزش والی پیپ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس روایت میں ، یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” اگر وہ توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نافع بن عاصم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس روایت میں ، یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” اگر وہ توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نافع بن عاصم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنِ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَرْضَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا ، وَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : " صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ حَسُنَ حَدِيثُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص شراب پیئے گا ، اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس سے راضی نہیں ہو گا ، اور اگر وہ اسی حالت میں مر گیا ، تو وہ کافر ہونے کے عالم میں مرے گا ، اور اگر اس نے توبہ کر لی ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا ، اگر وہ دوبارہ پیئے گا ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اسے طینہ خبال میں سے پلائے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! طینہ خبال کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اہل جہنم کی ، خون کی آمیزش والی پیپ “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْحَقَ الْمَزَامِيرَ وَالْكِنَّارَاتِ يَعْنِي الْبَرَابِطَ ، وَالْمَعَازِفَ ، وَالْأَوْثَانَ الْتِي كَانَتْ تُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . وَأَقْسَمَ رَبِّي بِعِزَّتِهِ لَا يَشْرَبُ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي جَرْعَةً مِنْ خَمْرٍ ، إِلَّا سَقَيْتُهُ مَكَانَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ مُعَذَّبًا أَوْ مَغْفُورًا لَهُ ، وَلَا يَسْقِيهَا صَبِيًّا صَغِيرًا إِلَّا سَقَيْتُهُ مَكَانَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ مُعَذَّبًا أَوْ مَغْفُورًا لَهُ ، وَلَا يَدَعُهَا عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي مِنْ مَخَافَتِي ، إِلَّا سَقَيْتُهُ إِيَّاهَا مِنْ حَظِيرَةِ الْقُدُسِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت اور ہدایت کا ذریعہ بنا کر بھیجا ہے ، اور اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے میں مزامیر اور کنارات کو مٹا دوں ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد آلات موسیقی ہیں اور ان بتوں کو بھی مٹا دوں ، جن کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر زمانہ جاہلیت میں عبادت کی جاتی تھی ، میرے پروردگار نے اپنی عزت کی قسم اٹھا کر یہ بات کہی ہے : کہ میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا ، تو میں اسے اس کی جگہ جہنم کا کھولتا ہوا پانی پلاؤں گا ، خواہ اس شخص کو عذاب دیا جائے ، یا اس کی مغفرت ہو چکی ہو ، اور جو بھی شخص کمسن بچے کو شراب پلائے گا ، تو میں اسے اس کی جگہ جہنم کا کھولتا ہوا پانی پلاؤں گا ، خواہ اس شخص کو عذاب دیا جائے ، یا اس کی مغفرت ہو چکی ہو ، اور میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ میرے خوف کی وجہ سے شراب کو چھوڑ دے گا ، تو میں اسے ” حظیرۃ القدس “ میں سے مشروب پلاؤں گا “ ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَا يَسْقِيهَا صَبِيًّا صَغِيرًا ضَعِيفًا مُسْلِمًا إِلَّا سَقَيْتُهُ مِنَ الصَّدِيدِ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ :" فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ ". ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو بندہ کمسن بچے کو ، جو کمزور مسلمان ہوتا ہے ، وہ ( یعنی شراب ) پلائے گا ، میں اسے ، خون کی آمیزش والی پیپ پلاؤں گا “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگر وہ مر گیا ، تو وہ جہنم میں داخل ہو گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگر وہ مر گیا ، تو وہ جہنم میں داخل ہو گا “ ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا مَرَّةً وَاحِدَةً ، فَكَأَنَّمَا كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا فَسُلِبَهَا [ وَمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " قِيلَ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ ] ". ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص نشے کی حالت میں ایک مرتبہ نماز ترک کرے گا ، تو گویا اس کے پاس دنیا اور اس میں موجود سب کچھ تھا ، جو اس سے سلب کر لیا گیا ، اور جو شخص نشہ کے عالم میں چار مرتبہ نماز ترک کرے گا ، تو اللہ تعالی کے ذمہ بات لازم ہے کہ وہ اسے طینہ خبال سے پلائے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! طینہ خبال سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اہل جہنم کا نچوڑ ( یعنی خون اور پیپ وغیرہ ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فَجَاءَ صُحَارُ عَبَدِ الْقَيْسِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي شَرَابٍ نَصْنَعُهُ بِأَرْضِنَا مِنْ ثِمَارِنَا ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى سَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى صَلَّى ، وَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ السَّائِلُ عَنِ الْمُسْكِرِ ؟ لَا تَشْرَبْهُ ، وَلَا تَسْقِهِ أَخَاكَ الْمُسْلِمَ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ - أَوْ فَوَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ - لَا يَشْرَبُهُ رَجُلٌ ابْتِغَاءَ لَذَّةِ سُكْرِهِ ، فَيَسْقِيهِ اللَّهُ الْخَمْرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران عبدالقیس قبیلے کے صحار تشریف لائے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شراب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، جسے ہم اپنی سرزمین میں ، اپنے پھلوں میں سے بناتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا ، یہاں تک کہ ان صاحب نے تین مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، تو نماز ادا کرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نشہ آور چیز کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ تم اسے نہ پیو ، اور تم اپنے مسلمان بھائی کو وہ نہ پلاؤ ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس ذات کی قسم ! جس کے نام کا حلف اٹھایا جاتا ہے ، جو شخص اس کے نشے کی لذت کے حصول کی خاطر اسے پیے گا ، قیامت کے دن اللہ تعالی اسے شراب ( شاید یہاں یہ لفظ ٹھیک نہیں ہے ، لیکن مطبوعہ نسخہ میں اسی طرح تحریر ہے ) پلائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ عَلَى مِصْرَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ كَذِبَةً مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَضْجَعًا مِنَ النَّارِ ، أَوْ بَيْتًا فِي جَهَنَّمَ " . ¤ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ أَتَى عَطِشًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، أَلَا فَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُبَيْرَاءَ " . ¤ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بَعْدَ ذَلِكَ يَقُولُ مِثْلَهُ، فَلَمْ يَخْتَلِفَا إِلَّا فِي بَيْتٍ أَوْ مَضْجَعٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
ابوتمیم جیشانی بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ کو جو مصر کے گورنر تھے ، انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کے میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے آگ کے بچھونے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم میں موجود گھر تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے “ ۔ اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص شراب پیے گا ، وہ قیامت کے دن پیاسا ہونے کے عالم میں آئے گا ، خبردار ! ہر نشہ آور چیز خمر ہے ، اور تم لوگ غبیراء ( نامی شراب ) سے بچ کے رہنا “ ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بھی اس کی مانند بیان کرتے ہوئے سنا ، اُن دونوں حضرات کے درمیان صرف لفظ ” گھر “ اور ” بستر “ کے بارے میں اختلاف تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ غَنَمٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَإِنْ مَاتَ فَإِلَى النَّارِ ، فَإِنْ تَابَ قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ ، فَإِنْ شَرِبَهَا الثَّانِيَةَ ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَإِنْ مَاتَ فَإِلَى النَّارِ ، فَإِنْ تَابَ قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ ، وَإِنْ شَرِبَهَا الثَّالِثَةَ أَوِ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ " فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رَدْغَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : " عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَاحِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو مِحْصَنٍ حَصِينُ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَالْجُمْهُورُ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص شراب پیئے گا ، چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی اگر وہ مر گیا تو جہنم کی طرف جائے گا ، اگر وہ توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا ، اگر وہ دوسری مرتبہ اسے پیئے گا ، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی اگر وہ مر گیا تو جہنم کی طرف جائے گا ، اگر وہ توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا ، اگر وہ تیسری مرتبہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) چوتھی مرتبہ اسے پیئے گا ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اسے ردغہ خبال میں سے پلائے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ردغہ خبال سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اہل جہنم کا نچوڑ ( یعنی خون اور پیپ وغیرہ ) “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ متروک ہے ، ابومحصن حصین بن نمیر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ متروک ہے ، ابومحصن حصین بن نمیر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَرِبَ شَرَابًا حَتَّى يَذْهَبَ عَقْلُهُ الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ ، فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الرَّحَبِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص شراب پیئے یہاں تک کہ اس کی عقل رخصت ہو جائے ، جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کی ہے ، تو وہ شخص کبیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ کا مرتکب ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس رحبی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس رحبی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَكِرَ مِنَ الْخَمْرِ ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَإِنْ مَاتَ فِيهَا كَانَ كَعَابِدِ وَثَنٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص شراب کی وجہ سے نشے کا شکار ہو جائے ، اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہو گی ، اگر وہ اس دوران مر گیا ، تو وہ بت کی عبادت کرنے والے کی مانند ہو گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن خباب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن خباب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " شَارِبُ الْخَمْرِ كَعَابِدِ وَثَنٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شراب پینے والا ، بت کی عبادت کرنے والے کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فطر بن خلیفہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فطر بن خلیفہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اعْلَمُوا أَنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ لِمَنْ شَرِبَ مُسْكِرًا أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ یہ بات جان لو ! ہر نشہ آور چیز حرام ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ طے کیا ہے ، جو شخص نشہ آور چیز پیئے گا ، اللہ تعالیٰ اُسے طینہ خبال میں سے پلائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ شَرِبَ خَمْرًا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص شراب پیئے گا ، اللہ تعالیٰ اسے جہنم کا کھولتا ہوا پانی پلائے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے صحیح میں بھی ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ كَانَ نَجِسًا أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَإِنْ تَابَ مِنْهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ عَادَ نَجِسًا أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَإِنْ تَابَ مِنْهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَإِنْ عَادَ عَادَ نَجِسًا أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَإِنْ تَابَ مِنْهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ رَبَّعَ [مِنْهَا] كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ " . ¤ قَالُوا : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ وَمَا رَدْغَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : شُحُومُ أَهْلِ النَّارِ وَصَدِيدُهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص شراب پیئے گا ، وہ چالیس دن تک ناپاک رہے گا ، اگر وہ اس سے توبہ کر لیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا ، اگر وہ دوبارہ ایسا کرے گا ، تو چالیس دن تک نجس رہے گا ، اگر وہ اس سے توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا ، اگر وہ پھر ایسا کرے گا ، تو چالیس دن تک پھر نجس رہے گا ، اگر وہ اس سے توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا ، اگر وہ چوتھی مرتبہ ایسا کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ ردغہ خبال میں سے اس کو پلائے “ ۔ لوگوں نے کہا: اے ابوعباس ! ردغہ خبال سے مراد کیا ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : اہل جہنم کی چربی اور ان کی پیپ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ شَرِبَ حَسْوَةً مِنْ خَمْرٍ ، لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا ، وَمَنْ شَرِبَ كَأْسًا لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرَ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا نَهْرُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : " صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا ، اللہ تعالیٰ تین دن تک اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا ، اور جو شخص ایک جام پیئے گا ، اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس سے کچھ بھی قبول نہیں کرے گا ، اور باقاعدگی سے شراب پینے والے شخص کے لئے ، اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اسے نہر خبال میں سے پلائے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! نہر خبال کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اہل جہنم کی پیپ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَعَلَهَا فِي بَطْنِهِ ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ سَبْعًا ، فَإِنْ مَاتَ فِيهَا مَاتَ كَافِرًا ، فَإِذَا أَذْهَلَتْ عَقْلَهُ عَنْ شَيْءٍ مِنَ الْفَرَائِضِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، وَإِنْ مَاتَ فِيهَا مَاتَ كَافِرًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ النَّسَائِيُّ أَحَادِيثَ غَيْرَ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص شراب پی کر اسے اپنے پیٹ میں ڈالے گا ، اس کی سات دن تک نماز قبول نہیں ہو گی اگر وہ اس دوران مر گیا تو کافر ہونے کے عالم میں مرے گا ، اور اس کی عقل ، فرائض ، میں کسی چیز کے حوالے سے بھول کا شکار ہو گئی ، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی ، اور اگر وہ اس دوران مر گیا ، تو کافر ہونے کے عالم میں مرے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام نسائی رحمہ اللہ نے ان صحابی کے حوالے سے ( اس موضوع کے بارے ) کچھ احادیث نقل کی ہیں جو اس روایت کے علاوہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ شَرِبَ مُسْكِرًا مَا كَانَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَنُقِلَ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ : لَا بَأْسَ بِهِ وَضَعَّفَهُ فِي رِوَايَتَيْنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص نشہ آور چیز پیئے گا خواہ وہ جو بھی ہو ، اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، اور وہ متروک ہے یحیی بن معین کے حوالے سے ایک روایت میں یہ بات ذکر کی گئی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور دو روایتوں کے مطابق انہوں نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، اور وہ متروک ہے یحیی بن معین کے حوالے سے ایک روایت میں یہ بات ذکر کی گئی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور دو روایتوں کے مطابق انہوں نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
وَعَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَبَعَثَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ : مَا أَحَادِيثُ تَبْلُغُنِي عَنْكَ تُحَدِّثُ بِهَا ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْفِيَكَ مِنَ الشَّامِ ؟ فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا إِنَاثٌ مَا أَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ بِهَا سَاعَةً فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : مَا حَدِيثٌ تُحَدِّثُ فِي الطِّلَاءِ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَمْ يَقُلْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي الْخَمْرِ : ¤ " مَنْ وَضَعَهَا عَلَى كَفِّهِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ دَعْوَةٌ ، وَمَنْ أَدْمَنَ عَلَى شُرْبِهَا سُقِيَ مِنَ الْخَبَالِ ، وَالْخَبَالُ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ : مَا أَرَاكَ إِلَّا سَمِعْتَ مِثْلَ الَّذِي سَمِعْتُ ؟ قَالَ : فَهَمَّ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُصَدِّقَهُ ثُمَّ سَكَتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ فَقَالَ : غَيْرُ مُعْتَمَدٍ . وَلَمْ أَرَ لِلْمُتَقَدِّمِينَ فِيهِ تَضْعِيفًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
قاسم ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور بولے : وہ احادیث کیا ہیں ؟ جن کے بارے میں ، تمہارے بارے میں پتہ چلا ہے کہ تم انہیں روایت کرتے ہو ، میں نے تو یہ ارادہ کیا ہے ، میں تمہیں شام سے جلاوطن کر دوں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر خواتین کا معاملہ نہ ہوتا ، تو مجھے بھی یہ بات پسند نہیں تھی کہ میں یہاں ایک لمحے کے لئے ٹھہروں ( یا یہاں ایک گھڑی کے لئے بھی ٹھہروں ) تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ احادیث کیا ہیں ؟ جو آپ طلاء کے بارے میں بیان کرتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : میرے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کر کے بیان کروں ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد نہ فرمائی ہو ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے ، جو میں نے نہ کہی ہو ، تو وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہے “ ۔ اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کے بارے میں یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اسے اپنی ہتھیلی میں رکھے گا ، اس کی دعا قبول نہیں ہو گی اور جو شخص باقاعدگی سے اسے پیئے گا ، اسے خبال میں سے پلایا جائے گا ، اور خبال جہنم میں موجود ایک وادی ہے “ ۔ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارے بارے میں میری وہی رائے ہے ، کہ تم نے بھی اسی کی مانند سماع کیا ہے جس طرح میں نے سماع کیا ہے راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ ارادہ کیا کہ ان کی بات کی تصدیق کریں لیکن پھر وہ خاموش ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ قابل اعتماد نہیں ہے ، البتہ میں نے متقدمین کی اس شخص کے بارے میں تضعیف نہیں دیکھی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ قابل اعتماد نہیں ہے ، البتہ میں نے متقدمین کی اس شخص کے بارے میں تضعیف نہیں دیکھی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْخَمْرُ أُمُّ الْفَوَاحِشِ ، فَمَنْ شَرِبَهَا لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ مَاتَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ شَبَّابِ بْنِ صَالِحٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے ، جو شخص اسے پی لے گا ، چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی اور اگر وہ ایسے عالم میں مر گیا کہ وہ شراب اس کے پیٹ میں موجود ہوئی ، تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد شباب بن صالح کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد شباب بن صالح کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
وَعَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ شَرِبَ خَمْرًا خَرَجَ نُورُ الْإِيمَانِ مِنْ جَوْفِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص شراب پیئے گا ، اس کے اندر سے ایمان کا نور نکل جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا تَقْرَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ : السَّكْرَانُ ، وَالْمُتَضَمِّخُ بِالزَّعْفَرَانِ ، وَالْحَائِضُ أَوِ الْجُنُبُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَكِيمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ " مِنْ غَيْرِ شَكٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین لوگ ہیں ، فرشتے جن کے قریب نہیں جاتے ، نشے کا شکار شخص ، زعفران میں لتھڑا ہوا شخص ، اور حیض والی عورت یا جنبی شخص “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حکیم ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” حیض والی عورت اور جنبی شخص “ یعنی کسی شک کے بغیر انہیں نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حکیم ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” حیض والی عورت اور جنبی شخص “ یعنی کسی شک کے بغیر انہیں نقل کیا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا تَقْرَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ : الْجُنُبُ وَالسَّكْرَانُ وَالْمُتَضَمِّخُ بِالْخَلُوقِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْعَبَّاسِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین لوگ ایسے ہیں ، کہ فرشتے اُن کے قریب نہیں جاتے ، جنبی شخص ، نشے کا شکار شخص اور خلوق میں لتھڑا ہوا شخص“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عباس بن ابوطالب نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عباس بن ابوطالب نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ شَيْبَةَ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنِ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خِدْرُ الْوَجْهِ مِنَ النَّبِيذِ تَتَنَاثَرُ مِنْهُ الْحَسَنَاتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
عمر بن شیبہ بن ابوکثیر نے ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” نبیذ ( پینے ) کی وجہ سے ، چہرے میں خرابی ( یا جلد کا لٹکنا ) آ جاتا ہے اور اُس ( چہرے سے ، یا نبیذ کو پینے کی وجہ ) سے نیکیاں جھڑ جاتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنِ ابْرَاهِيمَ قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَا تَسْقُوا أَوْلَادَكُمُ الْخَمْرَ ، فَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ وُلِدُوا عَلَى الْفِطْرَةِ ، أَتُسْقُونَهُمْ مَا لَا يَحِلُّ لَهُمْ ؟ إِثْمُهُمْ عَلَى مَنْ سَقَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” تم لوگ اپنی اولاد کو شراب نہ پلاؤ ! کیونکہ تمہاری اولاد فطرت پر پیدا ہوئی ہے ، کیا تم انہیں وہ چیز پلاؤ گے ، جو ان کے لئے حلال نہیں ہے ؟ اس کا گناہ اس شخص پر ہو گا ، جو انہیں یہ پلائے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفاء اس چیز میں نہیں رکھی ہے ، جو اس نے تم پر حرام قرار دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَمْرَ ، وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا ، وَعَاصَرَهَا ، وَمُعْتَصِرَهَا ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ، وَبَائِعَهَا ، وَمُبْتَاعَهَا ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْخَيَّاطُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي هَذَا فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ فِي الْبَيْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پر ، اسے پینے والے ، اسے پلانے والے ، اسے نچوڑنے والے اسے نچڑوانے والے ، اسے لاد کر کے جانے والے جس کی طرف اسے لاد کر لے جایا جا رہا ہے ، اس پر ، اسیخ فروخت کرنے والے پر ، اسے خریدنے والے پر اور اس کی قیمت کھانے والے ( ان سب لوگوں پر ) لعنت کی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابوعیسی خیاط ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ شراب کی قیمت کے بارے میں کچھ احادیث خرید و فروخت سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابوعیسی خیاط ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ شراب کی قیمت کے بارے میں کچھ احادیث خرید و فروخت سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَنَ الْخَمْرَ ، وَعَاصِرَهَا ، وَشَارِبَهَا ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ، وَبَائِعَهَا ، وَمُبْتَاعَهَا ، وَسَاقِيَهَا ، وَمُسْقَاهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جبرائیل میرے پاس آئے ، اور بولے : اے سیدنا محمد ! بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب پر ، اسے نچوڑنے والے پر ، اسے پینے والے پر ، اسے لاد کر لے جانے والے پر ، جس کی طرف اسے لاد کر لے جایا جا رہا ہے اس پر ، اسے فروخت کرنے والے پر ، اسے خریدنے والے پر ، اسے پلانے والے پر اور جسے وہ پلائی جا رہی ہے ( ان سب لوگوں پر لعنت کی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ زَيْدِ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْخَمْرِ ، فَقَالَ : سَأُخْبِرُكَ عَنِ الْخَمْرِ ، إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ فَبَيْنَا هُوَ مُحْتَبٍ حَلَّ حَبْوَتَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ مِنَ الْخَمْرِ فَلْيُؤْذِنِّي بِهِ " . فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ ، يَقُولُ أَحَدُهُمْ : عِنْدِي رَاوِيَةُ خَمْرٍ ، وَيَقُولُ الْآخَرُ : عِنْدِي رِوَايَةٌ ، وَيَقُولُ الْآخَرُ : عِنْدِي زِقَاقٌ ، وَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْمَعُوهُ ، بِبَقِيعِ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ آذِنُونِي " فَفَعَلُوا ، ثُمَّ آذَنُوهُ فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ ، فَمَشَيْتُ عَنْ يَمِينِهِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيَّ ، فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَنِي عَنْ يَسَارِهِ ، وَجَعَلَ أَبَا بَكْرٍ مَكَانِي ، ثُمَّ لَحِقَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَخَذَهُ فَجَعَلَهُ عَنْ يَسَارِهِ فَمَشَى بَيْنَنَا حَتَّى إِذَا وَقَفَ عَلَى الْخَمْرِ ، قَالَ لِلنَّاسِ : " أَتَعْرِفُونَ هَذَا ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ الْخَمْرُ ، قَالَ : " صَدَقْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْخَمْرَ ، وَعَاصِرَهَا ، [وَمُعْتَصِرَهَا] ، وَشَارِبَهَا ، [وَسَاقِيَهَا] ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ، وَبَائِعَهَا ، وَمُشْتَرِيَهَا ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا " ثُمَّ دَعَا بِسِكِّينٍ فَقَالَ : " اشْحَذُوهَا " فَفَعَلُوا ، ثُمَّ أَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُخَرِّقُ الزِّقَاقَ فَقَالَ النَّاسُ : إِنَّ فِي هَذِهِ الْأَزْقَاقِ مَنْفَعَةً ؟ ! قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَفْعَلُ ذَلِكَ غَضَبًا لِلَّهِ لِمَا فِيهَا مِنْ سَخَطِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَخَالِدُ بْنُ يَزِيدَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
خالد بن یزید نے ، ثابت بن زید خولانی کے حوالے سے نقل کیا ہے : وہ مدینہ منورہ آئے ان کی ملاقات سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی ، انہوں نے ان سے شراب کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں تمہیں شراب کے بارے میں بتاتا ہوں ، ایک مرتبہ میں مسجد میں آپ کے پاس موجود تھا ، آپ احتباء کے طور پر تشریف فرما تھے آپ نے حبوہ کو کھولا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کے پاس شراب میں سے کچھ بھی ہو ، وہ مجھے اس بارے میں بتا دے “ تو لوگ آپ کے پاس آنے لگے ، ان میں سے کوئی یہ کہہ رہا تھا : میرے پاس شراب کا چھوٹا مشکیزہ ہے ، دوسرا یہ کہہ رہا تھا : میرے پاس بڑا مشکیزہ ہے ، کوئی کہہ رہا تھا : میرے پاس چمڑے کا برتن ہے ، جو بھی اللہ کو منظور تھا کہ وہ اس شخص کے پاس ہو ، ( ان لوگوں نے اس بارے میں بتایا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ بقیع کے میدان میں فلاں ، فلاں جگہ پر اسے اکٹھا کرو اور پھر مجھے اس بارے میں بتاؤ “ ان لوگوں نے ایسا کر لیا ، اور پھر آپ کو بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ کے ساتھ میں بھی اُٹھا ، میں آپ کے دائیں طرف چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ نے میرے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمیں آ کے ملے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنے بائیں طرف کر لیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو میری جگہ کر دیا پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہمیں آ کے ملے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے بائیں طرف کر لیا ، آپ ہمارے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے یہاں تک کہ شراب کے پاس پہنچ کر آپ ٹھہر گئے ، پھر آپ نے فرمایا : کیا تم لوگ اس سے واقف ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! یہ شراب ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ٹھیک کہا: ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب پر ، اسے نچوڑنے والے پر ، اسے نچڑوانے والے پر ، اسے پینے والے پر ، اسے پلانے والے پر ، اسے لاد کر لے جانے والے پر ، جس کی طرف اسے لاد کر لے جایا جا رہا ہے اس پر ، اسے فروخت کرنے والے پر ، اسے خریدنے والے پر ، اس کی قیمت کھانے والے پر ( ان سب لوگوں پر ) لعنت کی ہے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری منگوائی اور پھر ارشاد فرمایا : ان کو کاٹ دو ! لوگوں نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور اس کے ذریعے چیرنا شروع کیا ، لوگوں نے عرض کی : ان چمڑے کے برتنوں میں فائدہ پایا جاتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن میں ایسا اس لئے کر رہا ہوں ، تاکہ اس کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے ، اللہ تعالیٰ کی خاطر غضب کا اظہار کروں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور خالد بن یزید نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور خالد بن یزید نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَارِبَهَا وَبَائِعَهَا . يَعْنِي: الْخَمْرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَطَّارُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ أَتَمُّ مِنْ هَذَا فِي ثَمَنِ الْخَمْرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پینے والے اور اسے فروخت کرنے والے پر لعنت کی ہے ، ان کی مراد شراب تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن موسیٰ عطار ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے شراب کی قیمت سے متعلق باب میں
یہ روایت اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن موسیٰ عطار ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے شراب کی قیمت سے متعلق باب میں
یہ روایت اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر گزر چکی ہے ۔
وَعَنِ أَبِي أَوْفَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي الْإِيمَانِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُدْرِكِ بْنِ عُمَارَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابواوفی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شراب پینے والا ، اسے پیتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مومن نہیں ہوتا“ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو کتاب الایمان میں ذکر ہو چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مدرک بن عمارہ نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مدرک بن عمارہ نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔