مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ وَمَنْ يَشْرَبُهَا . باب: شراب کے بارے میں ، اور اس کو پینے والے شخص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8195
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْخَمْرُ أُمُّ الْفَوَاحِشِ ، فَمَنْ شَرِبَهَا لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ مَاتَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ شَبَّابِ بْنِ صَالِحٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے ، جو شخص اسے پی لے گا ، چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی اور اگر وہ ایسے عالم میں مر گیا کہ وہ شراب اس کے پیٹ میں موجود ہوئی ، تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد شباب بن صالح کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔