مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ وَمَنْ يَشْرَبُهَا . باب: شراب کے بارے میں ، اور اس کو پینے والے شخص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ زَيْدِ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْخَمْرِ ، فَقَالَ : سَأُخْبِرُكَ عَنِ الْخَمْرِ ، إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ فَبَيْنَا هُوَ مُحْتَبٍ حَلَّ حَبْوَتَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ مِنَ الْخَمْرِ فَلْيُؤْذِنِّي بِهِ " . فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ ، يَقُولُ أَحَدُهُمْ : عِنْدِي رَاوِيَةُ خَمْرٍ ، وَيَقُولُ الْآخَرُ : عِنْدِي رِوَايَةٌ ، وَيَقُولُ الْآخَرُ : عِنْدِي زِقَاقٌ ، وَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْمَعُوهُ ، بِبَقِيعِ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ آذِنُونِي " فَفَعَلُوا ، ثُمَّ آذَنُوهُ فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ ، فَمَشَيْتُ عَنْ يَمِينِهِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيَّ ، فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَنِي عَنْ يَسَارِهِ ، وَجَعَلَ أَبَا بَكْرٍ مَكَانِي ، ثُمَّ لَحِقَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَخَذَهُ فَجَعَلَهُ عَنْ يَسَارِهِ فَمَشَى بَيْنَنَا حَتَّى إِذَا وَقَفَ عَلَى الْخَمْرِ ، قَالَ لِلنَّاسِ : " أَتَعْرِفُونَ هَذَا ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ الْخَمْرُ ، قَالَ : " صَدَقْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْخَمْرَ ، وَعَاصِرَهَا ، [وَمُعْتَصِرَهَا] ، وَشَارِبَهَا ، [وَسَاقِيَهَا] ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ، وَبَائِعَهَا ، وَمُشْتَرِيَهَا ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا " ثُمَّ دَعَا بِسِكِّينٍ فَقَالَ : " اشْحَذُوهَا " فَفَعَلُوا ، ثُمَّ أَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُخَرِّقُ الزِّقَاقَ فَقَالَ النَّاسُ : إِنَّ فِي هَذِهِ الْأَزْقَاقِ مَنْفَعَةً ؟ ! قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَفْعَلُ ذَلِكَ غَضَبًا لِلَّهِ لِمَا فِيهَا مِنْ سَخَطِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَخَالِدُ بْنُ يَزِيدَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤خالد بن یزید نے ، ثابت بن زید خولانی کے حوالے سے نقل کیا ہے : وہ مدینہ منورہ آئے ان کی ملاقات سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی ، انہوں نے ان سے شراب کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں تمہیں شراب کے بارے میں بتاتا ہوں ، ایک مرتبہ میں مسجد میں آپ کے پاس موجود تھا ، آپ احتباء کے طور پر تشریف فرما تھے آپ نے حبوہ کو کھولا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کے پاس شراب میں سے کچھ بھی ہو ، وہ مجھے اس بارے میں بتا دے “ تو لوگ آپ کے پاس آنے لگے ، ان میں سے کوئی یہ کہہ رہا تھا : میرے پاس شراب کا چھوٹا مشکیزہ ہے ، دوسرا یہ کہہ رہا تھا : میرے پاس بڑا مشکیزہ ہے ، کوئی کہہ رہا تھا : میرے پاس چمڑے کا برتن ہے ، جو بھی اللہ کو منظور تھا کہ وہ اس شخص کے پاس ہو ، ( ان لوگوں نے اس بارے میں بتایا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ بقیع کے میدان میں فلاں ، فلاں جگہ پر اسے اکٹھا کرو اور پھر مجھے اس بارے میں بتاؤ “ ان لوگوں نے ایسا کر لیا ، اور پھر آپ کو بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ کے ساتھ میں بھی اُٹھا ، میں آپ کے دائیں طرف چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ نے میرے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمیں آ کے ملے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنے بائیں طرف کر لیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو میری جگہ کر دیا پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہمیں آ کے ملے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے بائیں طرف کر لیا ، آپ ہمارے درمیان چلتے ہوئے تشریف لے گئے یہاں تک کہ شراب کے پاس پہنچ کر آپ ٹھہر گئے ، پھر آپ نے فرمایا : کیا تم لوگ اس سے واقف ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! یہ شراب ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ٹھیک کہا: ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب پر ، اسے نچوڑنے والے پر ، اسے نچڑوانے والے پر ، اسے پینے والے پر ، اسے پلانے والے پر ، اسے لاد کر لے جانے والے پر ، جس کی طرف اسے لاد کر لے جایا جا رہا ہے اس پر ، اسے فروخت کرنے والے پر ، اسے خریدنے والے پر ، اس کی قیمت کھانے والے پر ( ان سب لوگوں پر ) لعنت کی ہے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری منگوائی اور پھر ارشاد فرمایا : ان کو کاٹ دو ! لوگوں نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور اس کے ذریعے چیرنا شروع کیا ، لوگوں نے عرض کی : ان چمڑے کے برتنوں میں فائدہ پایا جاتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن میں ایسا اس لئے کر رہا ہوں ، تاکہ اس کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے ، اللہ تعالیٰ کی خاطر غضب کا اظہار کروں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور خالد بن یزید نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔