مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ وَمَنْ يَشْرَبُهَا . باب: شراب کے بارے میں ، اور اس کو پینے والے شخص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَرْضَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا ، وَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : " صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ حَسُنَ حَدِيثُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص شراب پیئے گا ، اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس سے راضی نہیں ہو گا ، اور اگر وہ اسی حالت میں مر گیا ، تو وہ کافر ہونے کے عالم میں مرے گا ، اور اگر اس نے توبہ کر لی ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا ، اگر وہ دوبارہ پیئے گا ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اسے طینہ خبال میں سے پلائے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! طینہ خبال کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اہل جہنم کی ، خون کی آمیزش والی پیپ “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔