مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ وَمَنْ يَشْرَبُهَا . باب: شراب کے بارے میں ، اور اس کو پینے والے شخص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فَجَاءَ صُحَارُ عَبَدِ الْقَيْسِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي شَرَابٍ نَصْنَعُهُ بِأَرْضِنَا مِنْ ثِمَارِنَا ؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى سَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى صَلَّى ، وَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ السَّائِلُ عَنِ الْمُسْكِرِ ؟ لَا تَشْرَبْهُ ، وَلَا تَسْقِهِ أَخَاكَ الْمُسْلِمَ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ - أَوْ فَوَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ - لَا يَشْرَبُهُ رَجُلٌ ابْتِغَاءَ لَذَّةِ سُكْرِهِ ، فَيَسْقِيهِ اللَّهُ الْخَمْرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران عبدالقیس قبیلے کے صحار تشریف لائے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شراب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، جسے ہم اپنی سرزمین میں ، اپنے پھلوں میں سے بناتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا ، یہاں تک کہ ان صاحب نے تین مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی ، تو نماز ادا کرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نشہ آور چیز کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ تم اسے نہ پیو ، اور تم اپنے مسلمان بھائی کو وہ نہ پلاؤ ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس ذات کی قسم ! جس کے نام کا حلف اٹھایا جاتا ہے ، جو شخص اس کے نشے کی لذت کے حصول کی خاطر اسے پیے گا ، قیامت کے دن اللہ تعالی اسے شراب ( شاید یہاں یہ لفظ ٹھیک نہیں ہے ، لیکن مطبوعہ نسخہ میں اسی طرح تحریر ہے ) پلائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔