مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ وَمَنْ يَشْرَبُهَا . باب: شراب کے بارے میں ، اور اس کو پینے والے شخص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي رَحْمَةً وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْحَقَ الْمَزَامِيرَ وَالْكِنَّارَاتِ يَعْنِي الْبَرَابِطَ ، وَالْمَعَازِفَ ، وَالْأَوْثَانَ الْتِي كَانَتْ تُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . وَأَقْسَمَ رَبِّي بِعِزَّتِهِ لَا يَشْرَبُ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي جَرْعَةً مِنْ خَمْرٍ ، إِلَّا سَقَيْتُهُ مَكَانَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ مُعَذَّبًا أَوْ مَغْفُورًا لَهُ ، وَلَا يَسْقِيهَا صَبِيًّا صَغِيرًا إِلَّا سَقَيْتُهُ مَكَانَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ مُعَذَّبًا أَوْ مَغْفُورًا لَهُ ، وَلَا يَدَعُهَا عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي مِنْ مَخَافَتِي ، إِلَّا سَقَيْتُهُ إِيَّاهَا مِنْ حَظِيرَةِ الْقُدُسِ " . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے تمام جہانوں کے لئے رحمت اور ہدایت کا ذریعہ بنا کر بھیجا ہے ، اور اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے میں مزامیر اور کنارات کو مٹا دوں ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد آلات موسیقی ہیں اور ان بتوں کو بھی مٹا دوں ، جن کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر زمانہ جاہلیت میں عبادت کی جاتی تھی ، میرے پروردگار نے اپنی عزت کی قسم اٹھا کر یہ بات کہی ہے : کہ میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا ، تو میں اسے اس کی جگہ جہنم کا کھولتا ہوا پانی پلاؤں گا ، خواہ اس شخص کو عذاب دیا جائے ، یا اس کی مغفرت ہو چکی ہو ، اور جو بھی شخص کمسن بچے کو شراب پلائے گا ، تو میں اسے اس کی جگہ جہنم کا کھولتا ہوا پانی پلاؤں گا ، خواہ اس شخص کو عذاب دیا جائے ، یا اس کی مغفرت ہو چکی ہو ، اور میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ میرے خوف کی وجہ سے شراب کو چھوڑ دے گا ، تو میں اسے ” حظیرۃ القدس “ میں سے مشروب پلاؤں گا “ ۔