مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ وَمَنْ يَشْرَبُهَا . باب: شراب کے بارے میں ، اور اس کو پینے والے شخص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَبَعَثَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ : مَا أَحَادِيثُ تَبْلُغُنِي عَنْكَ تُحَدِّثُ بِهَا ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْفِيَكَ مِنَ الشَّامِ ؟ فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا إِنَاثٌ مَا أَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ بِهَا سَاعَةً فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : مَا حَدِيثٌ تُحَدِّثُ فِي الطِّلَاءِ ؟ قَالَ : أَمَا إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي أَنْ أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَمْ يَقُلْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي الْخَمْرِ : ¤ " مَنْ وَضَعَهَا عَلَى كَفِّهِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ دَعْوَةٌ ، وَمَنْ أَدْمَنَ عَلَى شُرْبِهَا سُقِيَ مِنَ الْخَبَالِ ، وَالْخَبَالُ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ : مَا أَرَاكَ إِلَّا سَمِعْتَ مِثْلَ الَّذِي سَمِعْتُ ؟ قَالَ : فَهَمَّ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُصَدِّقَهُ ثُمَّ سَكَتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ فَقَالَ : غَيْرُ مُعْتَمَدٍ . وَلَمْ أَرَ لِلْمُتَقَدِّمِينَ فِيهِ تَضْعِيفًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤قاسم ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور بولے : وہ احادیث کیا ہیں ؟ جن کے بارے میں ، تمہارے بارے میں پتہ چلا ہے کہ تم انہیں روایت کرتے ہو ، میں نے تو یہ ارادہ کیا ہے ، میں تمہیں شام سے جلاوطن کر دوں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر خواتین کا معاملہ نہ ہوتا ، تو مجھے بھی یہ بات پسند نہیں تھی کہ میں یہاں ایک لمحے کے لئے ٹھہروں ( یا یہاں ایک گھڑی کے لئے بھی ٹھہروں ) تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ احادیث کیا ہیں ؟ جو آپ طلاء کے بارے میں بیان کرتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : میرے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کر کے بیان کروں ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد نہ فرمائی ہو ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے ، جو میں نے نہ کہی ہو ، تو وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہے “ ۔ اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شراب کے بارے میں یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اسے اپنی ہتھیلی میں رکھے گا ، اس کی دعا قبول نہیں ہو گی اور جو شخص باقاعدگی سے اسے پیئے گا ، اسے خبال میں سے پلایا جائے گا ، اور خبال جہنم میں موجود ایک وادی ہے “ ۔ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارے بارے میں میری وہی رائے ہے ، کہ تم نے بھی اسی کی مانند سماع کیا ہے جس طرح میں نے سماع کیا ہے راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ ارادہ کیا کہ ان کی بات کی تصدیق کریں لیکن پھر وہ خاموش ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ قابل اعتماد نہیں ہے ، البتہ میں نے متقدمین کی اس شخص کے بارے میں تضعیف نہیں دیکھی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔