کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: باقاعدگی سے شراب پینے والے کا بیان
حدیث نمبر: 8206
عَنِ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَقَاطِعُ رَحِمٍ ، وَمُصَدِّقٌ بِسِحْرٍ ، وَمَنْ مَاتَ مُدْمِنَ خَمْرٍ سَقَاهُ اللَّهُ مِنْ نَهْرِ الْغُوطَةَ " . قِيلَ : وَمَا نَهْرُ الْغُوطَةِ ؟ قَالَ : " نَهْرٌ يَجْرِي مِنْ قُرُوحِ الْمُومِسَاتِ ، يُؤْذِي أَهْلَ النَّارِ بِرِيحِ فُرُوجِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’ تین لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے ، باقاعدگی سے شراب پینے والا ، قطع رحمی کرنے والا ، اور جادو کی تصدیق کرنے والا ، اور جو شخص باقاعدگی سے شراب پیتے ہوئے مر جائے ، اللہ تعالیٰ اسے نہر غوطہ سے پلائے گا ، عرض کی گئی : نہر غوطہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک نہر ہے ، جس میں فاحشہ عورتوں کی گندگی بہتی ہے ، اور ان کی شرمگاہوں کی بو ، اہل جہنم کو اذیت پہنچائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8206
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7248) اخرجه احمد فى المسند (399/4)»
حدیث نمبر: 8207
وَعَنِ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ خَمْسٍ : مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَلَا مُؤْمِنٌ بِسِحْرٍ ، وَلَا قَاطِعُ رَحِمٍ ، وَلَا كَاهِنٌ ، وَلَا مَنَّانٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پانچ قسم کے افراد جنت میں داخل نہیں ہوں گے ، باقاعدگی سے شراب پینے والا ، جادو پر ایمان رکھنے والا ، قطع رحمی کرنے والا ، کاہن ، اور احسان جتانے والا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8207
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2932 و 2933) اخرجه احمد فى المسند (14/3)»
حدیث نمبر: 8208
وَعَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَلِجُ حَائِطَ الْقُدُسِ مُدْمِنُ الْخَمْرِ ، وَلَا الْعَاقُّ [لِوَالِدَيْهِ] ، وَلَا الْمَنَّانُ عَطَاءَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَلِجُ جِنَانَ الْفِرْدَوْسِ " . وَالَّطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : " حَظِيرَةَ الْقُدْسِ " . وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” باقاعدگی سے شراب پینے والا ، یا اپنے والد کا نافرمان ، یا کچھ دے کر احسان جتانے والا ، قدس کے باغ میں داخل نہیں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جنت الفردوس میں داخل نہیں ہوں گے “ ۔ امام طبرانی نے
یہ روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے اور یہ الفاظ نقل کیے ہیں : حظیرۃ القدس میں داخل نہیں ہوں گے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے جس میں اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8208
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2933 و 2932) اخرجه احمد فى المسند (14/3)»
حدیث نمبر: 8209
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي وَهُوَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ شُرْبَهَا فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي وَهُوَ يَتَحَلَّى الذَّهَبَ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ لِبَاسَهُ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت کا ، جو شخص ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ شراب پیتا ہو ، اللہ تعالیٰ جنت میں اس پر شراب پینا حرام کر دے گا ، اور میری امت کا جو شخص ایسی حالت میں مر جائے ، کہ وہ سونے کا زیور پہنتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کو پہننا اس پر حرام کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8209
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2935) اخرجه احمد فى المسند (6948)»
حدیث نمبر: 8210
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ لَقِيَ اللَّهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ : حُدِّثْتُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ يَزِيدُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص اگر مر جائے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بت کی عبادت کرنے والے کی مانند کے طور پر حاضر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابن منکدر کہتے ہیں : مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی گئی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوفاختہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8210
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند“ (2934) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12428) اخرجه احمد فى المسند (2543)»
حدیث نمبر: 8211
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَلَا عَاقٌّ ، وَلَا مَنَّانٌ " . ¤ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيَّ ، لِأَنَّ الْمُؤْمِنِينَ يُصِيبُونَ ذُنُوبًا حَتَّى وَجَدْتُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فِي الْعَاقِّ : فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ . الْآيَةَ . ¤ وَفِي الْمَنَّانِ : لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى . الْآيَةَ . ¤ وَفِي الْخَمْرِ : إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ . الْآيَةَ إِلَى قَوْلِهِ : "فَاجْتَنِبُوهُ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ عَتَّابَ بْنَ بَشِيرٍ لَمْ أَعْرِفْ لَهُ مِنْ مُجَاهِدٍ سَمَاعًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” باقاعدگی سے شراب پینے والا ، ( والدین کا ) نافرمان ، اور احسان جتانے والا ، جنت میں داخل نہیں ہوں گے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہ بات میرے لئے بڑی پریشانی کا باعث تھی ، کیونکہ اہل ایمان تو گناہوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں ، یہاں تک کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ، نافرمان شخص کے بارے میں یہ بات پائی : ” تو کیا عنقریب ایسا ہو گا کہ اگر تم حکمران بن جاؤ ، تو تم زمین میں فساد کرو گے ، اور رشتہ داری کے حقوق پامال کرو گے “ ۔ احسان جتانے والے کے بارے میں کیا بات کہی تم اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر باطل نہ کرو - اور شراب کے بارے میں یہ بات پائی : ” بے شک شراب اور جوا ، اور بت اور فال کے تیر “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” تو تم ان سے اجتناب کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ عتاب بن بشیر کے مجاہد سے سماع سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8211
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11170)»
حدیث نمبر: 8212
وَعَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُقِيمُ عَلَى الْخَمْرِ كَعَابِدِ وَثَنٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” شراب کو باقاعدگی سے پینے والا ، بت کی عبادت کرنے والے کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن مروان ہے ، اور اس پر تہمت عائد کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8212
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 8213
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَلَا مَنَّانٌ بِعَمَلِهِ ، وَلَا عَاقٌّ لِوَالِدَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” باقاعدگی سے شراب پینے والا ، اپنے کام پر احسان جتانے والا ، اور والدین کا نافرمان ، جنت میں داخل نہیں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8213
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً