مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ وَمَنْ يَشْرَبُهَا . باب: شراب کے بارے میں ، اور اس کو پینے والے شخص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَإِنْ عَادَ كَانَ مِثْلَ ذَلِكَ " . فَلَا أَدْرِي أَفِي الثَّالِثَةِ أَمْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَإِنْ عَادَ كَانَ حَتْمًا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : " عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ " . وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَشَهْرٌ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص شراب پی لے ، اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہو گی ، اگر وہ توبہ کر لے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا ، اگر وہ دوبارہ ایسا کرے گا ، تو پھر ایسا ہی ہو گا ، راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم ، تیسری مرتبہ میں ، یا شاید چوتھی مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ پھر ایسا کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اسے ” طینہ خبال “ میں سے پلائے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! طینہ خبال کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اہل جہنم کا نچوڑ ( یعنی ان کے خون ، پیپ اور دیگر گندگی کا مواد ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ حق ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی شہر ہے ۔