مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ وَمَنْ يَشْرَبُهَا . باب: شراب کے بارے میں ، اور اس کو پینے والے شخص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ غَنَمٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَإِنْ مَاتَ فَإِلَى النَّارِ ، فَإِنْ تَابَ قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ ، فَإِنْ شَرِبَهَا الثَّانِيَةَ ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَإِنْ مَاتَ فَإِلَى النَّارِ ، فَإِنْ تَابَ قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ ، وَإِنْ شَرِبَهَا الثَّالِثَةَ أَوِ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ " فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رَدْغَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ : " عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَاحِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو مِحْصَنٍ حَصِينُ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَالْجُمْهُورُ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص شراب پیئے گا ، چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی اگر وہ مر گیا تو جہنم کی طرف جائے گا ، اگر وہ توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا ، اگر وہ دوسری مرتبہ اسے پیئے گا ، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی اگر وہ مر گیا تو جہنم کی طرف جائے گا ، اگر وہ توبہ کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا ، اگر وہ تیسری مرتبہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) چوتھی مرتبہ اسے پیئے گا ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اسے ردغہ خبال میں سے پلائے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ردغہ خبال سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اہل جہنم کا نچوڑ ( یعنی خون اور پیپ وغیرہ ) “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ متروک ہے ، ابومحصن حصین بن نمیر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔