مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ وَمَنْ يَشْرَبُهَا . باب: شراب کے بارے میں ، اور اس کو پینے والے شخص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَعَلَهَا فِي بَطْنِهِ ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ سَبْعًا ، فَإِنْ مَاتَ فِيهَا مَاتَ كَافِرًا ، فَإِذَا أَذْهَلَتْ عَقْلَهُ عَنْ شَيْءٍ مِنَ الْفَرَائِضِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، وَإِنْ مَاتَ فِيهَا مَاتَ كَافِرًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ النَّسَائِيُّ أَحَادِيثَ غَيْرَ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص شراب پی کر اسے اپنے پیٹ میں ڈالے گا ، اس کی سات دن تک نماز قبول نہیں ہو گی اگر وہ اس دوران مر گیا تو کافر ہونے کے عالم میں مرے گا ، اور اس کی عقل ، فرائض ، میں کسی چیز کے حوالے سے بھول کا شکار ہو گئی ، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی ، اور اگر وہ اس دوران مر گیا ، تو کافر ہونے کے عالم میں مرے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام نسائی رحمہ اللہ نے ان صحابی کے حوالے سے ( اس موضوع کے بارے ) کچھ احادیث نقل کی ہیں جو اس روایت کے علاوہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔