حدیث نمبر: 8173
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيِهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ فِيهَا عِلْمٌ ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ شُرْبُ الْخَمْرِ ، فَأَتَيْتُهُمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ ، وَوَثَبُوا إِلَيْهِ جَمِيعًا فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مَلِكًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَخَذَ رَجُلًا فَخَيَّرَهُ بَيْنَ أَنْ يَشْرَبَ الْخَمْرَ ، أَوْ يَقْتُلَ صَبِيًّا ، أَوْ يَأْكُلَ لَحْمَ خِنْزِيرٍ ، أَوْ يَقْتُلُوهُ إِنْ أَبَى فَاخْتَارَ أَنْ يَشْرَبَ الْخَمْرَ ، وَأَنَّهُ لَمَّا شَرِبَ لَمْ يَمْتَنِعْ مِنْ شَيْءٍ أَرَادُوهُ مِنْهُ " . وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَنَا حِينَئِذٍ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْرَبُهَا فَتُقْبَلَ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، وَلَا يَمُوتُ وَفِي مَثَانَتِهِ مِنْهَا شَيْءٌ ، إِلَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ الْجَنَّةُ ، وَإِنْ مَاتَ فِي الْأَرْبَعِينَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ التَّمَّارِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بیٹھے ، انہوں نے سب سے بڑے کبیرہ گناہ کا ذکر کیا ، لیکن ان کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا ان لوگوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، تاکہ میں ان سے اس بارے میں دریافت کروں ، تو انہوں نے یہ بتایا کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ ، شراب پینا ہے ، میں ان حضرات کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا ، وہ سب لوگ اکٹھے ہو کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بنی اسرائیل کا ایک بادشاہ تھا ، اس نے ایک شخص کو پکڑ لیا اور اسے یہ اختیار دیا کہ یا تو وہ شراب پی لے ، یا بچے کو قتل کر دے یا خنزیر کا گوشت کھا لے ، اگر اس نے یہ ( یعنی ان میں سے کوئی ) بات نہیں مانی ، تو وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے ، تو اس شخص نے شراب پینے کو اختیار کر لیا ، جب اس نے شراب پی لی ، تو اس نے کوئی ایسا کام نہیں چھوڑا جو وہ لوگ اس سے کروانا چاہ رہے تھے “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ بات ارشاد فرمائی : ” جو بھی شخص اسے پیے گا ، چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی ، اگر وہ شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ شراب کا کچھ حصہ اس کے مثانے میں موجود ہو ، تو اس شخص پر جنت حرام ہو گی ، اور اگر وہ اُن چالیس دنوں کے درمیان مر جاتا ہے ، تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف داؤد بن صالح تمار کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8173
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح