حدیث نمبر: 8175
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَهْبَطَهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - إِلَى الْأَرْضِ ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ : أَيْ رَبِّ ( أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ ) قَالُوا : رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْمَلَائِكَةِ : هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنْكُمْ حَتَّى يُهْبَطَ بِهِمَا إِلَى الْأَرْضِ ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلَانِ ؟ قَالُوا : رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ ، وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزُّهْرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ ، فَجَاءَاهَا فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنَ الْإِشْرَاكِ ، قَالَا : لَا وَاللَّهِ لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا أَبَدًا ، فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ ، فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ ، فَشَرِبَا فَسَكِرَا فَوَقَعَا عَلَيْهَا ، وَقَتَلَا الصَّبِيَّ ، فَلَمَّا أَفَاقَا قَالَتِ الْمَرْأَةُ : وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا شَيْئًا مِمَّا أَبَيْتُمَاهُ عَلَيَّ إِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَاهُ حِينَ سَكِرْتُمَا ، فَخُيِّرَا بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف نازل کیا ، تو فرشتوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار ! ( قرآن میں اُس کا ذکر ان الفاظ میں ہے : ) ” کیا تو زمین میں اس کو اپنا نائب بنائے گا ، جو اس میں فساد پیدا کرے گا ، اور خون بہائے گا ، جبکہ ہم تیری حمد بیان کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں ، تو پروردگار نے فرمایا : میں وہ جانتا ہوں ، جو تم نہیں جانتے “ ۔ فرشتوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار ! ہم اولاد آدم سے زیادہ تیرے فرمانبردار ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا : تم اپنے میں سے دو فرشتوں کو پیش کرو ! ان دونوں کو زمین کی طرف بھیجا جائے گا ، پھر ہم اس بات کو ظاہر کر دیں گے کہ وہ کیسا عمل کرتے ہیں ؟ تو ان لوگوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار ! یہ ہاروت اور ماروت ہیں ، ان دونوں کو زمین کی طرف بھیجا گیا ، ان کے لئے زہرہ کو ایک خوبصورت عورت کی شکل میں بنا دیا گیا ، وہ دونوں اس عورت کے پاس آئے ، اور اس سے قربت کی خواہش کا اظہار کیا ، تو اس عورت نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! جب تک تم شرکیہ کلمہ نہیں کہتے ( اس وقت تک میں تمہارے ساتھ قربت نہیں کروں گی ) ان دونوں نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ہم اللہ کے ساتھ کسی کو کبھی شریک قرار نہیں دیں گے ، وہ عورت ان دونوں کو چھوڑ کر چلی گئی ، پھر وہ واپس آئی ، تو اس نے ایک بچے کو اٹھایا ہوا تھا ، ان دونوں نے پھر اس سے قربت کی خواہش کا اظہار کیا ، تو اس عورت نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! جب تک تم شراب نہیں پیتے ( اس وقت تک میں تمہارے قریب نہیں آؤں گی ) ان دونوں نے شراب پی لی ، ان دونوں کو نشہ ہو گیا ، ان دونوں نے اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر لیا اور اس بچے کو قتل بھی کر دیا ، جب ان دونوں کو ہوش آیا ، تو ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم ! تم دونوں نے جس بھی چیز کا انکار کیا تھا ، اس میں سے کچھ بھی نہیں چھوڑا ، تم نے نشے کی حالت میں وہ کام کر لیے ہیں ، پھر ان دونوں فرشتوں کو دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو انہوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کر لیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن جبیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8175
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2938) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6178)»