کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا فَتَمُرُّ بِقَبْرِي وَمَسْجِدِي " ، فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَا تَبْكِ يَا مُعَاذُ ، فَإِنَّ الْبُكَاءَ مِنَ الشَّيْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ نکلے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت سوار تھے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سواری کے ساتھ پیدل چل رہے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اے معاذ عنقریب اس سال کے بعد تم میرے ساتھ ملاقات نہیں کرو گے تمہارا گزر میری قبر کے پاس سے ہو گا میری مسجد کے پاس سے ہو گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ رونے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے معاذ ! تم نہ روؤ رونا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4036
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا تُوَفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بُكِيَ عَلَيْهِ ، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ شَأْنٍ أُولَاءِ ، إِنَّهُنَّ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمَيِّتُ يُنْضَحُ عَلَيْهِ الْحَمِيمُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدنا عبداللہ بن ابوبکر کا انتقال ہوا تو ان پر رویا جانے لگا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور بولے : میں تم لوگوں کے سامنے ان لوگوں کے حوالے سے عذر پیش کرتا ہوں ، کیونکہ یہ لوگ زمانہ جاہلیت کے قریب ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے میت پر گرم پانی چھڑکا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4037
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم انصاری ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ ٌ
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4038
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6896)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4039
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ عَلَى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ، فَحَدَّثْنَا بَكْرٌ فَقَالَ : حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ خَالَفَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ لَئِنِ انْطَلَقَ رَجُلٌ مُحَارِبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ قُتِلَ فِي قُطْرٍ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ شَهِيدًا فَعَمَدَتِ امْرَأَتُهُ سَفَهًا أَوْ جَهْلًا فَبَكَتْ عَلَيْهِ لَيُعَذَّبَنَّ هَذَا الشَّهِيدُ بِبُكَاءِ هَذِهِ السَّفِيهَةِ عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَذَبَ أَبُو هُرَيْرَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
حاجب بن عمر بیان کرتے ہیں : میں حکم بن اعرج کے ساتھ بکر بن عبداللہ مزنی کے پاس گیا وہ لوگ زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دینے کے معاملے پر گفتگو کرنے لگے تو بکر بن عبداللہ مزنی نے ہمیں حدیث بیان کی انہوں نے ہمیں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے ، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے برخلاف کہتے ہیں : انہوں نے بتایا : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں اگر ایک شخص اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے لئے چلا جاتا ہے ، اور پھر دور دراز کے حصے میں کہیں شہید ہونے کے طور قتل ہو جاتا ہے پھر اس کی بیوی بے وقوفی اور جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر روتی ہے ، تو کیا اس بے وقوف عورت کے اس پر رونے کی وجہ سے اس شہید کو عذاب دیا جائے گا ، تو ایک صاحب بولے : اللہ کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے غلط کہا: ہے ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4040
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1592)»
وَعَنْ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي جِنَازَةٍ ، فَسَمِعْتُ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَصِيحُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَأَسْكَتَهُ ، قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لِمَ أَسْكَتَّهُ ؟ قَالَ : إِنَّهُ يَتَأَذَّى بِهِ الْمَيِّتُ حَتَّى يَدْخُلَ قَبْرَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو شُعْبَةَ الطَّحَّانُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوربیع بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا میں نے ایک انسان کے چیخ کر رونے کی آواز سنی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی طرف پیغام بھیج کر اسے خاموش کروا دیا میں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن آپ نے اسے خاموش کیوں کروا دیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ( رونے ) کی وجہ سے میت کو اذیت ہوتی ہے ، جب تک میت قبر میں داخل نہیں ہو جاتی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوشعبہ طحان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4041
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ رَبِيعٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ ابْنَ أَخِي جَبْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، فَجَعَلَ أَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمْ جَبْرٌ : لَا تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَصْوَاتِكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ يَبْكِينَ مَا دَامَ حَيًّا ، فَإِذَا وَجَبَ فَلْيَسْكُتْنَ " . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْجِهَادِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھتیجے جبر انصاری کی عیادت کے لئے آئے اس کے اہل خانہ نے اس پر رونا شروع کر دیا تو جبر نے ان سے کہا: تم لوگ اللہ کے رسول کو اپنی آوازوں کے ذریعے اذیت نہ پہنچاؤ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان خواتین کو رونے دو جب تک یہ شخص زندہ ہے ، جب واجب ہو جائے ( یعنی یہ شخص فوت ہو جائے ) تو یہ خواتین خاموش ہو جائیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت مکمل طور پر جہاد سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4042
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ : لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ أَتَانَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " تَسَلِّي ثَلَاثًا ، ثُمَّ اصْنَعِي مَا شِئْتِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : ” تم تین دن سوگ کے کپڑے پہن کے رکھو ، پھر تم جو چاہے کر لو “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4043
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (438/6)»
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْيَوْمَ الثَّالِثَ مِنْ قَتْلِ جَعْفَرٍ فَقَالَ : " لَا تَحُدِّي بَعْدَ يَوْمِكِ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تیسرے دن میرے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : آج کے دن کے بعد تم سوگ نہ کرنا ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں امام طبرانی نے ان میں سے کچھ روایات معجم کبیر میں نقل کی ہیں ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4044
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ أَسْمَاءَ بَكَتْ عَلَى حَمْزَةَ وَجَعْفَرٍ ثَلَاثًا ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَرْقَأَ وَتَكْتَحِلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ پر تین دن تک روئی تھیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ آنسو پونچھ لیں اور سرمہ لگا لیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4045
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتِ امْرَأَتُهُ : هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ . فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضْبَانَ فَقَالَ : " وَمَا يُدْرِيكِ ؟ " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ ! ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي " ، فَأَشْفَقَ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ ، فَلَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَقِي بِسَلَفِنَا الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ " ، فَبَكَتِ النِّسَاءُ ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطٍ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ وَقَالَ : " مَهْلًا يَا عُمَرُ " . ثُمَّ قَالَ : " ابْكِينَ ، وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهُ مَهْمَا كَانَ مِنَ الْقَلْبِ وَالْعَيْنِ فَمِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَةِ ، وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَمِنَ اللِّسَانِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَهُوَ مُوَثَّقٌ ، وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ : وَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ وَفَاطِمَةُ إِلَى جَنْبِهِ تَبْكِي ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ عَنْ فَاطِمَةَ بِثَوْبِهِ رَحْمَةً لَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو ان کی اہلیہ نے کہا: اے عثمان بن مظعون آپ کو جنت کی مبارک ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کی حالت میں اس خاتون کی طرف دیکھا اور فرمایا ، تمہیں کیا پتہ اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ آپ کے شہسوار تھے ، اور وہ آپ کے ساتھی تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں ، لیکن میں ازخود یہ نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہو گا ، تو لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے پریشان ہو گئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( یعنی ان کی میت کو مخاطب کر کے فرمایا ) تم ہمارے بہترین سلف عثمان بن مظعون سے جا ملو تو خواتین رونے لگیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لاٹھی کے ذریعے انہیں مارنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور ارشاد فرمایا : اے عمر رہنے دو پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم روؤ لیکن شیطان کی طرح آوازیں نکالنے سے بچنا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جو چیز دل اور آنکھ سے نکلتی ہے وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہے ، اور رحمت کی وجہ سے ہوتی ہے ، اور جو چیز ہاتھ اور زبان سے نکلتی ہے ، تو وہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔ یہاں ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پہلو میں رو رہی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کے ذریعے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ ( کے آنسوؤں کو ) پونچھنا شروع کیا ان کے ساتھ رحمت کی وجہ سے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ) ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4046
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : أَخْذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ يَجُودُ بِنَفْسِهِ ، قَالَ : فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ حَتَّى خَرَجَتْ نَفْسُهُ ، قَالَ : فَوَضَعَهُ ثُمَّ بَكَى ، فَقُلْتُ : تَبْكِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَنْتَ تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أُنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ وَلَكِنْ نُهِيَتُ عَنْ صَوْتَيْنِ أَحْمَقَيْنِ فَاجِرَيْنِ : صَوْتٌ عِنْدَ نِعْمَةٍ : لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَمَزَامِيرُ شَيْطَانٍ ، وَصَوْتٌ عِنْدَ مُصِيبَةٍ : لَطْمُ وُجُوهٍ وَشَقُّ جُيُوبٍ ، وَهَذِهِ رَحْمَةٌ ، وَمَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ ، يَا إِبْرَاهِيمُ لَوْلَا أَنَّهُ وَعْدٌ صَادِقٌ وَقَوْلٌ حَقٌّ ، وَأَنَّ آخِرَنَا سَيَلْحَقُ بِأَوَّلِنَا لَحَزِنَّا عَلَيْكَ حُزْنًا أَشَدَّ مِنْ هَذَا ، وَإِنَّا عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ ، تَبْكِي الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں آپ کے ساتھ آپ کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی طرف چلا گیا جو آخری سانسیں لے رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لیا اور اپنی گود میں رکھا یہاں تک کہ ان کی جان نکل گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رکھ دیا اور پھر آپ رونے لگے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ رو رہے ہیں جبکہ آپ رونے سے منع کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے رونے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ مجھے دو احمق اور فاجر آوازوں سے منع کیا گیا ہے وہ آواز جو نعمت کے وقت نکالی جاتی ہے ، جو لہو و لعب اور شیطان کے باجوں کی صورت میں ہوتی ہے ، اور وہ آواز جو مصیبت کے وقت نکالی جاتی ہے ، جو چہرے پر طمانچے مارنے گریبان پھاڑنے کی صورت میں ہوتی ہے یہ چیز ( یعنی محض رونا ) رحمت ہے ، اور جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحمت نہیں کی جاتی ہے اے ابراہیم اگر ایک سچا وعدہ نہ ہوتا اور حق فرمان نہ ہوتا اور یہ نہ ہوتا کہ ہمارے آخری فرد نے بھی عنقریب پہلے والے سے جا ملنا ہے ، تو ہمیں تمہارے حوالے سے اس سے زیادہ شدید غم ہونا تھا اے ابراہیم ہم تمہارے حوالے سے غمگین ہیں آنکھ رو رہی ہے دل غمگین ہے ، لیکن ہم کوئی ایسی بات نہیں کہیں گے جو پروردگار کو ناراض کر دے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4047
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ، وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، تَبْكِي عَلَى هَذَا السَّخْلِ ؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَقَدْ دَفَنْتُ اثْنَيْ عَشَرَ وَلَدًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، كُلُّهُمْ أَشَبُّ مِنْهُ ، كُلُّهُمْ أَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَحْيَاءً ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَا ذَا إِنْ كَانَتِ الرَّحْمَةُ ذَهَبَتْ مِنْكَ ! ! يَحْزَنُ الْقَلْبُ وَتَدْمَعُ الْعَيْنُ ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ ، وَإِنَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَ لَمَحْزُنُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا آپ اس بچے پر رو رہے ہیں ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی اولاد میں سے بارہ بچے دفن کیے ہیں اور ان سب کی عمر اس سے زیادہ تھی ، اور میں نے ان سب کو زندہ زمین میں دفن کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا ہو سکتا ہے ؟ اگر تم سے رحمت رخصت ہو گئی ہو ؟ دل غمگین ہے ، اور آنکھ رو رہی ہے ، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جو پروردگار کو ناراض کر دے ، ہم ابراہیم کے حوالے سے غمگین ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4048
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا هَلَكَ ابْنُهُ طَاهِرٌ ذَرَفَتْ عَيْنُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَكَيْتَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَيْنَ تَذْرِفُ ، وَإِنَّ الدَّمْعَ يَغْلِبُ ، وَإِنَّ الْقَلْبَ يَحْزَنُ ، وَلَا نَعْصِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا طاہر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آنکھ بہہ رہی ہے ، اور آنسو ق ابومیں نہیں ہیں اور دل غمگین ہے ، اور ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کر رہے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4049
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6667)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : بَعَثَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ ابْنَتِي مَغْلُوبَةٌ ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ : " قُلْ لَهَا : إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى " . ثُمَّ بَعَثَتْ إِلَيْهِ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ بَعَثَتْ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ ، فَجَاءَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْهِ الصَّبِيَّةَ وَنَفْسُهَا تُقَعْقِعُ فِي صَدْرِهَا ، فَرَقَّ عَلَيْهَا فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ ، فَفَطِنَ بِهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حِينَ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ : " مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ ؟ رَحْمَةُ اللَّهِ يَضَعُهَا حَيْثُ يَشَاءُ ، إِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : اسْتُعِزَّ بِأُمَامَةَ بِنْتِ أَبِي الْعَاصِ ، فَبَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ وَفِيهِ : الْوَلِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی نے آپ کو پیغام بھیجا کہ میری بیٹی فوت ہونے والی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد سے کہا: کہ تم اس سے کہہ دو اللہ تعالیٰ جو واپس لے وہ اس کی ملکیت ہے ، اور جو وہ عطا کرے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے ان صاحبزادی نے آپ کو دوبارہ پیغام بھیجا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی بات ارشاد فرما دی ان صاحبزادی نے تیسری مرتبہ آپ کو پیغام بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اصحاب سمیت ان صاحبزادی کے ہاں تشریف لے گئے ان صاحبزادی نے بچی کو آپ کی طرف بڑھایا اس بچی کا سانس سینے میں اٹک رہا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے انسیت ہوئی اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے جب آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تو آپ کے بعض اصحاب جو آپ کو دیکھ رہے تھے وہ حیران ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیا دیکھ رہے رہو ؟ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ، جسے وہ جہاں چاہتا ہے وہاں رکھ دیتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والوں پر رحم کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” سیدہ امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا کا آخری وقت قریب آیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کو پیغام بھیجا تھا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ولید بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4050
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : ثَقُلَ ابْنٌ لِفَاطِمَةَ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَدْعُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْجِعْ ، فَإِنَّ لَهُ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَبْقَى ، وَكَلٌّ لِأَجَلٍ بِمِقْدَارٍ " . فَلَمَّا احْتُضِرَ بَعَثَتْ إِلَيْهِ وَقَالَ لَنَا : " قُومُوا " . فَلَمَّا جَلَسَ جَعَلَ يَقْرَأُ : " فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ " . حَتَّى قُبِضَ ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَبْكِي وَتَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْمَكِّيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیج کر آپ کو بلوایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قاصد سے ) فرمایا تم واپس چلے جاؤ جو وہ واپس لے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے ، اور جسے وہ باقی رہنے دے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے ، اور ہر ایک کی ایک متعین مدت ہے ، جب ان صاحبزادے کا وقت قریب آیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : تم لوگ اٹھو ! جب آپ تشریف فرما ہوئے تو آپ نے یہ آیت پڑھنی شروع کی : ” پھر ( اس وقت ) کیوں نہیں ( روح کو واپس کرتے ) جب وہ حلق تک پہنچ جاتی ہے ، اور تم اس وقت دیکھتے رہ جاتے ہو “ ۔ یہاں تک کہ ان صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ رو رہے ہیں جبکہ آپ رونے سے منع کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ رحمت ہے ، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والے بندوں پر رحم کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن موسیٰ مکی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4051
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : احْتُضِرَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهَا فَضَمَّهَا إِلَيْهِ ، وَجَعَلَهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ، فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَنَ ، فَقَالَ لَهَا : " تَبْكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَكِ ؟ " ، فَقَالَتْ : مَا لِي لَا أَبْكِي ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكِي ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَسْتُ أَبْكِي ، وَلَكِنَّهَا رَحْمَةٌ ; نَظَرْتُ إِلَيْهَا عَلَى هَذِهِ الْحَالِ وَنَفْسُهَا تُنْزَعُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ لِاخْتِلَاطِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کا آخری وقت قریب آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہ بھی رونے لگیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم رو رہی ہو ، جبکہ اللہ کے رسول تمہارے پاس موجود ہیں سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول بھی رو رہے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں رو نہیں رہا ہوں بلکہ یہ رحمت ہے میں نے اس کی طرف اس حال میں دیکھا کہ اس کی جان نکل رہی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہوا تھا ( چینی جسے اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ” ضعیف“ قرار دیا گیا ) ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4052
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام البزار فى المسند (808)»
وَعَنْ سَالِمِ أَبِي النَّضْرِ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، وَهُوَ يَمُوتُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَوْبٍ فَسُجِّيَ عَلَيْهِ ، وَكَانَ عُثْمَانُ نَازِلًا عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مُعَاذٍ ، قَالَتْ : فَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُكِبًّا عَلَيْهِ طَوِيلًا وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ ، ثُمَّ تَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَى ، فَلَمَّا بَكَى بَكَى أَهْلُ الْبَيْتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَكَ اللَّهُ أَبَا السَّائِبِ " وَكَانَ السَّائِبُ قَدْ شَهِدَ مَعَهُ بَدْرًا قَالَ : فَتَقُولُ أُمُّ مُعَاذٍ : هَنِيئًا لَكَ أَبَا السَّائِبِ الْجَنَّةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا يُدْرِيكِ يَا أُمَّ مُعَاذٍ ؟ أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ ، وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا " ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ لَا أَقُولُهَا لِأَحَدٍ بَعْدَهُ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سالم ابونضر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے جو انتقال کر گئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دیا گیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق والی ایک خاتون کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے جسے اُم معاذ کہا: جاتا تھا وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاصی دیر تک ان پر جھکے رہے آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹ گئے اور رونے لگے جب آپ رونے لگے تو گھر میں موجود افراد بھی رونے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوسائب ! اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے راوی بیان کرتے ہیں : سائب نے آپ کے ہمراہ غزوہ بدر میں شرکت کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : اُم معاذ نے کہا: اے ابوسائب آپ کو جنت کی مبارک ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ام معاذ تمہیں کیسے پتہ چلا جہاں تک کہ اس کا تعلق ہے ، تو اس کے پاس یقین آ گیا ہے ، اور ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے ، تو سیدہ ام معاذ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم ان کے بعد میں کبھی کسی کے بارے میں ، یہ بات نہیں کہوں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت ” مرسل“ ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4053
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ أَبَاهُ يَوْمَ أُحُدٍ قَتَلَهُ الْمُشْرِكُونَ ، ثُمَّ مَثَّلُوا بِهِ ; فَجَدَعُوا أَنْفَهُ وَأُذُنَيْهِ ، قَالَ جَابِرٌ : فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَإِلَى مَا صَنَعُوا بِهِ وَصِحْتُ ، فَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَسَجُّوهُ بِثَوْبٍ ، ثُمَّ إِنِّي كَشَفْتُ الثَّوْبَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ مَا صُنِعَ بِهِ صِحْتُ ، فَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَسَجُّوهُ بِالثَّوْبِ ، قَالَ : وَذَلِكَ بِعَيْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ الْأَنْصَارُ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَرَى مَا يَصْنَعُ جَابِرٌ ! ؟ قَالَ : " دَعُوهُ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد میں ان کے والد کو مشرکین نے قتل کر دیا پھر انہوں نے ان کا مثلہ کیا ان کی ناک اور کان کاٹ دیے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ان کی طرف دیکھا اور مشرکین نے جو ان کے ساتھ سلوک کیا تھا اس کی طرف دیکھا تو میں چیخا انصار آئے اور انہوں نے ان کی لاش کو کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دیا میں کپڑا ہٹانے لگا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں کے سامنے ہو رہا تھا پھر انصار گئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے ہیں جابر کیا کر رہا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے رہتے دو ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4054
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا رَاجِعِينَ بَكَتِ امْرَأَةُ رَجُلٍ كَانَ اسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا هَذِهِ الْبَاكِيَةُ ؟ " . قِيلَ : فَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِيٍّ . فَالْتَفَتَ إِلَى عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ وَأَوْصَاهُ بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَجَاهِيلُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوا جب ہم واپس آ رہے تھے تو ایک شخص کی بیوی رونے لگی وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہو کر جام شہادت نوش کر گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ رونے والی عورت کون ہے ؟ بتایا گیا فاطمہ بنت علی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی طرف توجہ کی اور پھر اس خاتون کی شادی ان صاحب کے ساتھ کر دی اور ان صاحب کو اس خاتون کے بارے میں ( اچھی طرح خیال رکھنے کی ) تلقین کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس میں مجہول راوی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4055
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : رُخِّصَ فِي الْبُكَاءِ مِنْ غَيْرِ نَوْحٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن یزید فرماتے ہیں : نوحہ کیے بغیر رونے کی اجازت دی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4056
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَرِيشًا ، وَفِيهِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : فَذَكَرَ حَدِيثًا لَهُمَا قَالَا فِيهِ : إِنَّهُ رُخِّصَ لَنَا فِي الْبُكَاءِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ مِنْ غَيْرِ نَوْحٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عامر بن سعد بیان کرتے ہیں : میں ایک چھپر کے نیچے داخل ہوا وہاں سیدنا قرضہ بن کعب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ موجود تھے راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے ان دونوں صاحبان کے حوالے سے ایک حدیث ذکر کی جس میں ان لوگوں نے یہ کہا: ہمیں مصیبت کے وقت نوحہ کیے بغیر رونے کی اجازت دی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4057
درجۂ حدیث محدثین: إسناده رجالہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (247/17)»
وَعَنْ أُمِّ إِسْحَاقَ قَالَتْ : هَاجَرْتُ مَعَ أَخِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ فَلَمَّا كُنْتُ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ لِي أَخِي : اقْعُدِي يَا أُمَّ إِسْحَاقَ ، فَإِنِّي نَسِيتُ نَفَقَتِي بِمَكَّةَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ الْفَاسِقَ زَوْجِي ، فَقَالَ : لَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَتْ : فَلَبِثْتُ أَيَّامًا فَمَرَّ بِي رَجُلٌ قَدْ عَرَفْتُهُ وَلَا أُسَمِّيهِ ، فَقَالَ : مَا يُقْعِدُكِ هَاهُنَا يَا أُمَّ إِسْحَاقَ ؟ قَالَتْ : أَنْتَظِرُ إِسْحَاقَ ذَهَبَ لِنَفَقَةٍ لَهُ بِمَكَّةَ ، قَالَ : لَا إِسْحَاقَ لَكِ قَدْ لَحِقَهُ زَوْجُكِ الْفَاسِقُ فَقَتَلَهُ ، فَقَدِمْتُ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُتِلَ إِسْحَاقُ ، وَأَنَا أَبْكِي وَيَنْظُرُ إِلَيَّ ، فَإِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ نَكَّسَ ، وَأَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَنَضَحَهُ فِي وَجْهِي . ¤ قَالَ بَشَّارٌ : قَالَتْ جَدَّتِي : فَلَقَدْ كَانَتْ تُصِيبُنَا الْمُصِيبَةُ الْعَظِيمَةُ فَتَرَى الدُّمُوعَ عَلَى عَيْنَيْهَا وَلَا يُصِيبُ خَدَّهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَشَّارُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام اسحاق رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے اپنے بھائی کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مدینہ منورہ ہجرت کے لیے نکلی ، راستے میں میرے بھائی نے مجھ سے کہا: اے اُم اسحاق ! تم بیٹھی رہو میں اپنا خرچ مکہ میں بھول آیا ہوں میں نے کہا: مجھے آپ کے بارے میں اپنے فاسق شوہر کے حوالے سے اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا: جی نہیں اگر اللہ نے چاہا ( تو کچھ نہیں ہو گا ) سیدہ ام اسحاق رضی اللہ عنہا کرتی ہیں : میں کچھ دن تک وہاں ٹھہری رہی پھر ایک شخص میرے پاس سے گزرا میں جس سے واقف تھی ، لیکن میں اس کا نام نہیں جانتی تھی اس نے کہا: اے ام اسحاق تم یہاں کیوں بیٹھی ہوئی ہو سیدہ ام اسحاق نے جواب دیا : میں اسحاق کا انتظار کر رہی ہوں وہ اپنا خرچ لینے کے لئے مکہ گئے ہوئے ہیں تو اس شخص نے کہا: اسحاق تمہارے پاس نہیں آ سکتا تمہارا فاسق شوہر ملا تھا اور اس نے اسے قتل کر دیا ۔ سیدہ اُم اسحاق رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر میں آئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ اس وقت وضو کر رہے تھے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسحاق قتل ہو گیا ہے میں رو رہی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھ رہے تھے ، جب میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ نے سر جھکایا تھیلی میں پانی لیا اور اسے میرے چہرے پر چھڑک دیا ۔ بشار نامی راوی بیان کرتے ہیں : میری دادی بیان کرتی ہیں : ہمیں بڑی مصیبت بھی لاحق ہوتی تھی تو ہماری آنکھوں میں آنسو نظر آ جاتے تھے ، لیکن وہ رخسار تک نہیں پہنچتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشار بن عبدالملک ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4058
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ : لَمَّا مَاتَ عُتْبَةُ بْنُ مَسْعُودٍ بَكَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَقَالُوا لَهُ : تَبْكِي ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، أَخِي فِي النَّسَبِ ، وَصَاحِبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : وَمَا أُحِبُّ مَعَ ذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ مِتْ قَبْلَهُ ; لَأَنْ يَمُوتَ فَأَحْتَسِبُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمُوتَ فَيَحْتَسِبُنِي . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رونے لگے لوگوں نے عرض کی : آپ رو رہے ہیں آپ نے فرمایا : جی ہاں ۔ یہ میرا سگا بھائی ہے میرے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہے ، اور میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب فرد ہے ، البتہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی مجھے ان سے زیادہ محبت ہے ۔ )
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اس کے ہمراہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اس سے پہلے مر گیا ہوتا کیونکہ وہ فوت ہو جائے اور میں اس پر ثواب کی امید رکھوں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں مر جاتا اور وہ میرے حوالے سے ثواب کی امید رکھتا“ ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4059
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى قَالَتْ : مَرِضَ أَبُو مُوسَى فَبَكَيْتُ عِنْدَهُ فَنُهِيتُ ، فَقَالَ : ذَرُوهَا تُهْرِيقُ مِنْ عَبْرَتِهَا سَجْلًا أَوْ سَجْلَيْنِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ اُم عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے میں ان کے پاس رونے لگی تو مجھے اس سے منع کر دیا گیا انہوں نے فرمایا : اسے آنسو بہانے دو خواہ ایک ڈول ہو ، یا دو ڈول ہوں ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4060
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُبْكَى إِلَّا عَلَى أَحَدِ رَجُلَيْنِ : فَاجِرٍ مُكْمِلٍ فُجُورَهُ ، أَوْ بَارٍّ مُكْمِلٍ بِرَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو قسم کے افراد میں سے کسی ایک پر رویا جا سکتا ہے ایسا گناہ گار شخص جس کا فجور مکمل ہو ، یا ایسا نیکوکار جس کی نیکی مکمل ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4061
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (342)»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَرَأَيْتُ بِهِ الْمَوْتَ فَقُلْتُ : هَيِّجْ هَيِّجْ مَنْ لَا يَزَالُ دَمْعُهُ مُقَنَّعًا فَإِنَّهُ مَرَّةً مَدْفُونُ ، فَقَالَ : لَا تَقُولِي ذَلِكَ ، وَلَكِنْ قَوْلِي : ( وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ ) . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی میں نے دیکھا کہ وہ قریب المرگ ہیں ، میں نے کہا: تم اس کو برانگیختہ کرو اس کو برانگیختہ کرو ، جس کے آنسو نہیں ڈھانپے جا سکتے ہیں ، آخر کار ایک مرتبہ دفن کیا جاتا ہے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ نہ کہو ! بلکہ تم یہ پڑھو : ” موت کی بیہوشی حق کے ہمراہ آ گئی ، یہ وہ جس چیز ہے ، جس سے تم بھاگتے تھے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4062
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح