حدیث نمبر: 4053
وَعَنْ سَالِمِ أَبِي النَّضْرِ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، وَهُوَ يَمُوتُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَوْبٍ فَسُجِّيَ عَلَيْهِ ، وَكَانَ عُثْمَانُ نَازِلًا عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مُعَاذٍ ، قَالَتْ : فَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُكِبًّا عَلَيْهِ طَوِيلًا وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ ، ثُمَّ تَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَى ، فَلَمَّا بَكَى بَكَى أَهْلُ الْبَيْتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَكَ اللَّهُ أَبَا السَّائِبِ " وَكَانَ السَّائِبُ قَدْ شَهِدَ مَعَهُ بَدْرًا قَالَ : فَتَقُولُ أُمُّ مُعَاذٍ : هَنِيئًا لَكَ أَبَا السَّائِبِ الْجَنَّةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا يُدْرِيكِ يَا أُمَّ مُعَاذٍ ؟ أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ ، وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا " ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ لَا أَقُولُهَا لِأَحَدٍ بَعْدَهُ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سالم ابونضر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے جو انتقال کر گئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دیا گیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق والی ایک خاتون کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے جسے اُم معاذ کہا: جاتا تھا وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاصی دیر تک ان پر جھکے رہے آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹ گئے اور رونے لگے جب آپ رونے لگے تو گھر میں موجود افراد بھی رونے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوسائب ! اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے راوی بیان کرتے ہیں : سائب نے آپ کے ہمراہ غزوہ بدر میں شرکت کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : اُم معاذ نے کہا: اے ابوسائب آپ کو جنت کی مبارک ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ام معاذ تمہیں کیسے پتہ چلا جہاں تک کہ اس کا تعلق ہے ، تو اس کے پاس یقین آ گیا ہے ، اور ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے ، تو سیدہ ام معاذ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم ان کے بعد میں کبھی کسی کے بارے میں ، یہ بات نہیں کہوں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت ” مرسل“ ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4053
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل