مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ . باب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 4049
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا هَلَكَ ابْنُهُ طَاهِرٌ ذَرَفَتْ عَيْنُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَكَيْتَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَيْنَ تَذْرِفُ ، وَإِنَّ الدَّمْعَ يَغْلِبُ ، وَإِنَّ الْقَلْبَ يَحْزَنُ ، وَلَا نَعْصِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا طاہر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آنکھ بہہ رہی ہے ، اور آنسو ق ابومیں نہیں ہیں اور دل غمگین ہے ، اور ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کر رہے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔