مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ . باب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : ثَقُلَ ابْنٌ لِفَاطِمَةَ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَدْعُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْجِعْ ، فَإِنَّ لَهُ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَبْقَى ، وَكَلٌّ لِأَجَلٍ بِمِقْدَارٍ " . فَلَمَّا احْتُضِرَ بَعَثَتْ إِلَيْهِ وَقَالَ لَنَا : " قُومُوا " . فَلَمَّا جَلَسَ جَعَلَ يَقْرَأُ : " فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ " . حَتَّى قُبِضَ ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَبْكِي وَتَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْمَكِّيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیج کر آپ کو بلوایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قاصد سے ) فرمایا تم واپس چلے جاؤ جو وہ واپس لے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے ، اور جسے وہ باقی رہنے دے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے ، اور ہر ایک کی ایک متعین مدت ہے ، جب ان صاحبزادے کا وقت قریب آیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : تم لوگ اٹھو ! جب آپ تشریف فرما ہوئے تو آپ نے یہ آیت پڑھنی شروع کی : ” پھر ( اس وقت ) کیوں نہیں ( روح کو واپس کرتے ) جب وہ حلق تک پہنچ جاتی ہے ، اور تم اس وقت دیکھتے رہ جاتے ہو “ ۔ یہاں تک کہ ان صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ رو رہے ہیں جبکہ آپ رونے سے منع کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ رحمت ہے ، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والے بندوں پر رحم کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن موسیٰ مکی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔