مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ . باب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : احْتُضِرَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهَا فَضَمَّهَا إِلَيْهِ ، وَجَعَلَهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ، فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَنَ ، فَقَالَ لَهَا : " تَبْكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَكِ ؟ " ، فَقَالَتْ : مَا لِي لَا أَبْكِي ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكِي ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَسْتُ أَبْكِي ، وَلَكِنَّهَا رَحْمَةٌ ; نَظَرْتُ إِلَيْهَا عَلَى هَذِهِ الْحَالِ وَنَفْسُهَا تُنْزَعُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ لِاخْتِلَاطِهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کا آخری وقت قریب آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہ بھی رونے لگیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم رو رہی ہو ، جبکہ اللہ کے رسول تمہارے پاس موجود ہیں سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول بھی رو رہے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں رو نہیں رہا ہوں بلکہ یہ رحمت ہے میں نے اس کی طرف اس حال میں دیکھا کہ اس کی جان نکل رہی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہوا تھا ( چینی جسے اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ” ضعیف“ قرار دیا گیا ) ۔