مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ . باب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أُمِّ إِسْحَاقَ قَالَتْ : هَاجَرْتُ مَعَ أَخِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ فَلَمَّا كُنْتُ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ لِي أَخِي : اقْعُدِي يَا أُمَّ إِسْحَاقَ ، فَإِنِّي نَسِيتُ نَفَقَتِي بِمَكَّةَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ الْفَاسِقَ زَوْجِي ، فَقَالَ : لَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَتْ : فَلَبِثْتُ أَيَّامًا فَمَرَّ بِي رَجُلٌ قَدْ عَرَفْتُهُ وَلَا أُسَمِّيهِ ، فَقَالَ : مَا يُقْعِدُكِ هَاهُنَا يَا أُمَّ إِسْحَاقَ ؟ قَالَتْ : أَنْتَظِرُ إِسْحَاقَ ذَهَبَ لِنَفَقَةٍ لَهُ بِمَكَّةَ ، قَالَ : لَا إِسْحَاقَ لَكِ قَدْ لَحِقَهُ زَوْجُكِ الْفَاسِقُ فَقَتَلَهُ ، فَقَدِمْتُ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُتِلَ إِسْحَاقُ ، وَأَنَا أَبْكِي وَيَنْظُرُ إِلَيَّ ، فَإِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ نَكَّسَ ، وَأَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَنَضَحَهُ فِي وَجْهِي . ¤ قَالَ بَشَّارٌ : قَالَتْ جَدَّتِي : فَلَقَدْ كَانَتْ تُصِيبُنَا الْمُصِيبَةُ الْعَظِيمَةُ فَتَرَى الدُّمُوعَ عَلَى عَيْنَيْهَا وَلَا يُصِيبُ خَدَّهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَشَّارُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤سیدہ ام اسحاق رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے اپنے بھائی کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مدینہ منورہ ہجرت کے لیے نکلی ، راستے میں میرے بھائی نے مجھ سے کہا: اے اُم اسحاق ! تم بیٹھی رہو میں اپنا خرچ مکہ میں بھول آیا ہوں میں نے کہا: مجھے آپ کے بارے میں اپنے فاسق شوہر کے حوالے سے اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا: جی نہیں اگر اللہ نے چاہا ( تو کچھ نہیں ہو گا ) سیدہ ام اسحاق رضی اللہ عنہا کرتی ہیں : میں کچھ دن تک وہاں ٹھہری رہی پھر ایک شخص میرے پاس سے گزرا میں جس سے واقف تھی ، لیکن میں اس کا نام نہیں جانتی تھی اس نے کہا: اے ام اسحاق تم یہاں کیوں بیٹھی ہوئی ہو سیدہ ام اسحاق نے جواب دیا : میں اسحاق کا انتظار کر رہی ہوں وہ اپنا خرچ لینے کے لئے مکہ گئے ہوئے ہیں تو اس شخص نے کہا: اسحاق تمہارے پاس نہیں آ سکتا تمہارا فاسق شوہر ملا تھا اور اس نے اسے قتل کر دیا ۔ سیدہ اُم اسحاق رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر میں آئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ اس وقت وضو کر رہے تھے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسحاق قتل ہو گیا ہے میں رو رہی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھ رہے تھے ، جب میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ نے سر جھکایا تھیلی میں پانی لیا اور اسے میرے چہرے پر چھڑک دیا ۔ بشار نامی راوی بیان کرتے ہیں : میری دادی بیان کرتی ہیں : ہمیں بڑی مصیبت بھی لاحق ہوتی تھی تو ہماری آنکھوں میں آنسو نظر آ جاتے تھے ، لیکن وہ رخسار تک نہیں پہنچتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشار بن عبدالملک ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔