حدیث نمبر: 4046
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتِ امْرَأَتُهُ : هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ . فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضْبَانَ فَقَالَ : " وَمَا يُدْرِيكِ ؟ " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ ! ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَإِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي " ، فَأَشْفَقَ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ ، فَلَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَقِي بِسَلَفِنَا الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ " ، فَبَكَتِ النِّسَاءُ ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطٍ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ وَقَالَ : " مَهْلًا يَا عُمَرُ " . ثُمَّ قَالَ : " ابْكِينَ ، وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهُ مَهْمَا كَانَ مِنَ الْقَلْبِ وَالْعَيْنِ فَمِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَةِ ، وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَمِنَ اللِّسَانِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَهُوَ مُوَثَّقٌ ، وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ : وَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ وَفَاطِمَةُ إِلَى جَنْبِهِ تَبْكِي ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ عَنْ فَاطِمَةَ بِثَوْبِهِ رَحْمَةً لَهَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو ان کی اہلیہ نے کہا: اے عثمان بن مظعون آپ کو جنت کی مبارک ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کی حالت میں اس خاتون کی طرف دیکھا اور فرمایا ، تمہیں کیا پتہ اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ آپ کے شہسوار تھے ، اور وہ آپ کے ساتھی تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں ، لیکن میں ازخود یہ نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہو گا ، تو لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے پریشان ہو گئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( یعنی ان کی میت کو مخاطب کر کے فرمایا ) تم ہمارے بہترین سلف عثمان بن مظعون سے جا ملو تو خواتین رونے لگیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لاٹھی کے ذریعے انہیں مارنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور ارشاد فرمایا : اے عمر رہنے دو پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم روؤ لیکن شیطان کی طرح آوازیں نکالنے سے بچنا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جو چیز دل اور آنکھ سے نکلتی ہے وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہے ، اور رحمت کی وجہ سے ہوتی ہے ، اور جو چیز ہاتھ اور زبان سے نکلتی ہے ، تو وہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔ یہاں ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پہلو میں رو رہی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کے ذریعے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ ( کے آنسوؤں کو ) پونچھنا شروع کیا ان کے ساتھ رحمت کی وجہ سے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ) ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4046
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف