مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ . باب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا رَاجِعِينَ بَكَتِ امْرَأَةُ رَجُلٍ كَانَ اسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا هَذِهِ الْبَاكِيَةُ ؟ " . قِيلَ : فَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِيٍّ . فَالْتَفَتَ إِلَى عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ وَأَوْصَاهُ بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَجَاهِيلُ . ¤سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوا جب ہم واپس آ رہے تھے تو ایک شخص کی بیوی رونے لگی وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہو کر جام شہادت نوش کر گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ رونے والی عورت کون ہے ؟ بتایا گیا فاطمہ بنت علی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی طرف توجہ کی اور پھر اس خاتون کی شادی ان صاحب کے ساتھ کر دی اور ان صاحب کو اس خاتون کے بارے میں ( اچھی طرح خیال رکھنے کی ) تلقین کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس میں مجہول راوی ہیں ۔