حدیث نمبر: 4041
وَعَنْ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي جِنَازَةٍ ، فَسَمِعْتُ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَصِيحُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَأَسْكَتَهُ ، قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لِمَ أَسْكَتَّهُ ؟ قَالَ : إِنَّهُ يَتَأَذَّى بِهِ الْمَيِّتُ حَتَّى يَدْخُلَ قَبْرَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو شُعْبَةَ الطَّحَّانُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوربیع بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا میں نے ایک انسان کے چیخ کر رونے کی آواز سنی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی طرف پیغام بھیج کر اسے خاموش کروا دیا میں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن آپ نے اسے خاموش کیوں کروا دیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ( رونے ) کی وجہ سے میت کو اذیت ہوتی ہے ، جب تک میت قبر میں داخل نہیں ہو جاتی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوشعبہ طحان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4041
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً