مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ . باب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ رَبِيعٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ ابْنَ أَخِي جَبْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، فَجَعَلَ أَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمْ جَبْرٌ : لَا تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَصْوَاتِكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ يَبْكِينَ مَا دَامَ حَيًّا ، فَإِذَا وَجَبَ فَلْيَسْكُتْنَ " . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْجِهَادِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے بھتیجے جبر انصاری کی عیادت کے لئے آئے اس کے اہل خانہ نے اس پر رونا شروع کر دیا تو جبر نے ان سے کہا: تم لوگ اللہ کے رسول کو اپنی آوازوں کے ذریعے اذیت نہ پہنچاؤ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان خواتین کو رونے دو جب تک یہ شخص زندہ ہے ، جب واجب ہو جائے ( یعنی یہ شخص فوت ہو جائے ) تو یہ خواتین خاموش ہو جائیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت مکمل طور پر جہاد سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔