مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ . باب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ، وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، تَبْكِي عَلَى هَذَا السَّخْلِ ؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَقَدْ دَفَنْتُ اثْنَيْ عَشَرَ وَلَدًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، كُلُّهُمْ أَشَبُّ مِنْهُ ، كُلُّهُمْ أَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَحْيَاءً ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَا ذَا إِنْ كَانَتِ الرَّحْمَةُ ذَهَبَتْ مِنْكَ ! ! يَحْزَنُ الْقَلْبُ وَتَدْمَعُ الْعَيْنُ ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ ، وَإِنَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَ لَمَحْزُنُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا آپ اس بچے پر رو رہے ہیں ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی اولاد میں سے بارہ بچے دفن کیے ہیں اور ان سب کی عمر اس سے زیادہ تھی ، اور میں نے ان سب کو زندہ زمین میں دفن کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا ہو سکتا ہے ؟ اگر تم سے رحمت رخصت ہو گئی ہو ؟ دل غمگین ہے ، اور آنکھ رو رہی ہے ، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جو پروردگار کو ناراض کر دے ، ہم ابراہیم کے حوالے سے غمگین ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔