مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ . باب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ : لَمَّا مَاتَ عُتْبَةُ بْنُ مَسْعُودٍ بَكَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَقَالُوا لَهُ : تَبْكِي ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، أَخِي فِي النَّسَبِ ، وَصَاحِبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : وَمَا أُحِبُّ مَعَ ذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ مِتْ قَبْلَهُ ; لَأَنْ يَمُوتَ فَأَحْتَسِبُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمُوتَ فَيَحْتَسِبُنِي . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رونے لگے لوگوں نے عرض کی : آپ رو رہے ہیں آپ نے فرمایا : جی ہاں ۔ یہ میرا سگا بھائی ہے میرے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہے ، اور میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب فرد ہے ، البتہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی مجھے ان سے زیادہ محبت ہے ۔ )
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اس کے ہمراہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اس سے پہلے مر گیا ہوتا کیونکہ وہ فوت ہو جائے اور میں اس پر ثواب کی امید رکھوں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں مر جاتا اور وہ میرے حوالے سے ثواب کی امید رکھتا“ ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔