حدیث نمبر: 4036
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ خَرَجَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا فَتَمُرُّ بِقَبْرِي وَمَسْجِدِي " ، فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَا تَبْكِ يَا مُعَاذُ ، فَإِنَّ الْبُكَاءَ مِنَ الشَّيْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ نکلے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اس وقت سوار تھے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سواری کے ساتھ پیدل چل رہے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : اے معاذ عنقریب اس سال کے بعد تم میرے ساتھ ملاقات نہیں کرو گے تمہارا گزر میری قبر کے پاس سے ہو گا میری مسجد کے پاس سے ہو گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ رونے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے معاذ ! تم نہ روؤ رونا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4036
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح