مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ . باب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : بَعَثَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ ابْنَتِي مَغْلُوبَةٌ ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ : " قُلْ لَهَا : إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى " . ثُمَّ بَعَثَتْ إِلَيْهِ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ بَعَثَتْ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ ، فَجَاءَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْهِ الصَّبِيَّةَ وَنَفْسُهَا تُقَعْقِعُ فِي صَدْرِهَا ، فَرَقَّ عَلَيْهَا فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ ، فَفَطِنَ بِهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حِينَ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ : " مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ ؟ رَحْمَةُ اللَّهِ يَضَعُهَا حَيْثُ يَشَاءُ ، إِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : اسْتُعِزَّ بِأُمَامَةَ بِنْتِ أَبِي الْعَاصِ ، فَبَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ وَفِيهِ : الْوَلِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی نے آپ کو پیغام بھیجا کہ میری بیٹی فوت ہونے والی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد سے کہا: کہ تم اس سے کہہ دو اللہ تعالیٰ جو واپس لے وہ اس کی ملکیت ہے ، اور جو وہ عطا کرے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے ان صاحبزادی نے آپ کو دوبارہ پیغام بھیجا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی بات ارشاد فرما دی ان صاحبزادی نے تیسری مرتبہ آپ کو پیغام بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اصحاب سمیت ان صاحبزادی کے ہاں تشریف لے گئے ان صاحبزادی نے بچی کو آپ کی طرف بڑھایا اس بچی کا سانس سینے میں اٹک رہا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے انسیت ہوئی اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے جب آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تو آپ کے بعض اصحاب جو آپ کو دیکھ رہے تھے وہ حیران ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیا دیکھ رہے رہو ؟ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ، جسے وہ جہاں چاہتا ہے وہاں رکھ دیتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والوں پر رحم کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” سیدہ امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا کا آخری وقت قریب آیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کو پیغام بھیجا تھا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ولید بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔