مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ . باب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 4037
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا تُوَفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بُكِيَ عَلَيْهِ ، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ شَأْنٍ أُولَاءِ ، إِنَّهُنَّ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمَيِّتُ يُنْضَحُ عَلَيْهِ الْحَمِيمُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدنا عبداللہ بن ابوبکر کا انتقال ہوا تو ان پر رویا جانے لگا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور بولے : میں تم لوگوں کے سامنے ان لوگوں کے حوالے سے عذر پیش کرتا ہوں ، کیونکہ یہ لوگ زمانہ جاہلیت کے قریب ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے میت پر گرم پانی چھڑکا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔