مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ . باب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ أَبَاهُ يَوْمَ أُحُدٍ قَتَلَهُ الْمُشْرِكُونَ ، ثُمَّ مَثَّلُوا بِهِ ; فَجَدَعُوا أَنْفَهُ وَأُذُنَيْهِ ، قَالَ جَابِرٌ : فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَإِلَى مَا صَنَعُوا بِهِ وَصِحْتُ ، فَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَسَجُّوهُ بِثَوْبٍ ، ثُمَّ إِنِّي كَشَفْتُ الثَّوْبَ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ مَا صُنِعَ بِهِ صِحْتُ ، فَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَسَجُّوهُ بِالثَّوْبِ ، قَالَ : وَذَلِكَ بِعَيْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ الْأَنْصَارُ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَرَى مَا يَصْنَعُ جَابِرٌ ! ؟ قَالَ : " دَعُوهُ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد میں ان کے والد کو مشرکین نے قتل کر دیا پھر انہوں نے ان کا مثلہ کیا ان کی ناک اور کان کاٹ دیے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ان کی طرف دیکھا اور مشرکین نے جو ان کے ساتھ سلوک کیا تھا اس کی طرف دیکھا تو میں چیخا انصار آئے اور انہوں نے ان کی لاش کو کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دیا میں کپڑا ہٹانے لگا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں کے سامنے ہو رہا تھا پھر انصار گئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے ہیں جابر کیا کر رہا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے رہتے دو ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔