مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ . باب: رونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ عَلَى بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ ، فَحَدَّثْنَا بَكْرٌ فَقَالَ : حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ خَالَفَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ لَئِنِ انْطَلَقَ رَجُلٌ مُحَارِبًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ قُتِلَ فِي قُطْرٍ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ شَهِيدًا فَعَمَدَتِ امْرَأَتُهُ سَفَهًا أَوْ جَهْلًا فَبَكَتْ عَلَيْهِ لَيُعَذَّبَنَّ هَذَا الشَّهِيدُ بِبُكَاءِ هَذِهِ السَّفِيهَةِ عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَذَبَ أَبُو هُرَيْرَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤حاجب بن عمر بیان کرتے ہیں : میں حکم بن اعرج کے ساتھ بکر بن عبداللہ مزنی کے پاس گیا وہ لوگ زندہ شخص کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دینے کے معاملے پر گفتگو کرنے لگے تو بکر بن عبداللہ مزنی نے ہمیں حدیث بیان کی انہوں نے ہمیں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے ، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے برخلاف کہتے ہیں : انہوں نے بتایا : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں اگر ایک شخص اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے لئے چلا جاتا ہے ، اور پھر دور دراز کے حصے میں کہیں شہید ہونے کے طور قتل ہو جاتا ہے پھر اس کی بیوی بے وقوفی اور جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر روتی ہے ، تو کیا اس بے وقوف عورت کے اس پر رونے کی وجہ سے اس شہید کو عذاب دیا جائے گا ، تو ایک صاحب بولے : اللہ کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے غلط کہا: ہے ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔