کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس چیز ( یعنی کلمہ ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے ) حرام کر دیتی ہے
عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ لِي جَارًا مُنَافِقًا يَصْنَعُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " أُولَئِكَ نُهِيتُ عَنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور بولا: میرا پڑوسی ایک منافق شخص ہے ، وہ اس ، اس طرح کے کام کرتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ”کیا وہ لا الہ الاللہ پڑھتا ہے ؟“ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ان ( یعنی کلمہ گو ) لوگوں ( کو قتل کرنے ) سے مجھے منع کیا گیا ہے“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ” مستور “ راوی ہیں ، اور محمد بن ابولیلی نامی راوی کا حافظہ خراب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 44
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 3345»
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ فَسَارَّهُ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ ، فَجَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " . قَالَ الْأَنْصَارِيُّ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ . قَالَ : " أَلَيْسَ يُصَلِّي ؟ " . قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا صَلَاةَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَأَعَادَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَهُ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ . ¤
محمد محی الدین
عبیدالله بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انہیں یہ بات بتائی : کہ ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک محفل میں تشریف فرما تھے ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سرگوشی میں بات کرتے ہوئے ، آپ سے ایک منافق کو قتل کرنے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں دریافت کیا : کیا وہ شخص اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ اس انصاری نے جواب دیا : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! لیکن اس کی گواہی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا ؟ کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ کے رسول ہیں ، اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! لیکن اس کی گواہی کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وہ نماز نہیں پڑھتا ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! لیکن اُس کی نماز کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ ( یعنی کلمہ گو ) لوگ ہیں ، جن ( کو قتل کرنے ) سے اللہ تعالیٰ نے مجھے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، انہوں نے یہی روایت دوبارہ ، عبیداللہ بن عدی بن خیار کے حوالے سے ، عبداللہ بن عدی انصاری سے نقل کی ہے کہ عبداللہ بن عدی نے انہیں یہ حدیث بیان کی اور پھر انہوں نے اسی مضمون کی حدیث ذکر کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 45
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى زوائد المسند 50»
وَعَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُونَ ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : كَانَ مُسْلِمًا صَدُوقًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اُس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جب وہ یہ کہہ دیں گے ، تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اُن لوگوں کا حساب ، اللہ تعالٰی کے ذمہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عیینہ ہے ، اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے یحییٰ بن معین کہتے ہیں : وہ ایک سچا مسلمان تھا
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 46
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 200/11 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3625»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اُس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جب وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں گے ، تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اُن لوگوں کا حساب ، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 47
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِسْحَاقَ بْنَ يَزِيدَ الْخَطَّابِيَّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جب وہ یہ کہہ دیں گے ، تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اُن لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یزید خطابی ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 48
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11487»
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا أَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَأَحْسَبُ أَنَّ عِمْرَانَ أَخْطَأَ فِي إِسْنَادِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اُس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جب وہ یہ کہہ دیں گے ، تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے روک لیں ( یعنی محفوظ کر لیں ) گے ، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اُن لوگوں کا حساب ، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : میرے علم کے مطابق ، یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منقول ہونے کے طور پر ، صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران نامی راوی نے اس کی سند میں غلطی کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 49
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 68»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا شَرَعَ أَحَدُكُمْ بِالرُّمْحِ إِلَى الرَّجُلِ ، فَإِنْ كَانَ سِنَانُهُ عِنْدَ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ ، فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; فَلْيَرْفَعْ عَنْهُ الرُّمْحَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الصَّلْتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ ، لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص نیزے کے ذریعے کسی ( غیر مسلم ) پر حملہ آور ہو ، اور جب نیزے کی نوک ، اُس ( غیر مسلم ) کی گردن کے اوپر ہو اور اس وقت وہ لا الہ الا اللہ پڑھ لے ، تو مسلمان شخص کو اُس سے نیزا اُٹھا لینا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلہ بن عبدالرحمن زبیدی ہے ، جس کے ذریعے حجت قائم نہیں ہوتی
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 50
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 10292 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 69»
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ابومالک اشجعی ، اپنے والد کے حوالے سے بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے ، جب وہ یہ پڑھ لیں گے ، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 51
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے ، جب وہ یہ پڑھ لیں گے ، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ حجاز ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 52
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 3625»
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے ، جب وہ یہ پڑھ لیں گے ، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب ، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جس سے استدلال کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 53
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6465»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا " ، قِيلَ : وَمَا حَقُّهَا ؟ قَالَ : " زِنًى بَعْدَ إِحْصَانٍ ، أَوْ كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلَامٍ ، أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ فَيُقْتَلُ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَوْثِيقِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے ، جب وہ یہ پڑھ لیں گے ، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب ، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ، عرض کی گئی : اُن کے حق سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محصن ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرنا ، یا اسلام قبول کر لینے کے بعد کفر اختیار کرنا ، یا کسی کو قتل کرنا ، تو اس کے عوض میں اس شخص کو قتل کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ہاشم بیروتی ہے ، اکثر محدثین نے اس کی توثیق کی ہے
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 54
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3221»
وَعَنْ عِيَاضٍ الْأَنْصَارِيِّ رَفَعَهُ قَالَ : " إِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةٌ عَلَى اللَّهِ كَرِيمَةٌ ، لَهَا عِنْدَ اللَّهِ مَكَانٌ ، وَهِيَ كَلِمَةٌ مَنْ قَالَهَا صَادِقًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ ، وَمَنْ قَالَهَا كَاذِبًا حَقَنَتْ دَمَهُ وَأَحْرَزَتْ مَالَهُ ، وَلَقِيَ اللَّهَ غَدًا فَحَاسَبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِنْ كَانَ تَابِعِيَّهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عیاض انصاری رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ”لا الہٰ الا اللہ اللہ تعلی کی بارگاہ میں معزز کلمہ ہے ، جسے اللہ تعالی کی بارگاہ میں بلند حیثیت حاصل ہے ، یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ جو شخص سچے دل کے ساتھ اسے پڑھ لے گا ، اللہ تعالی اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دے گا ۔ اور جو شخص جھوٹ کے طور پر اسے پڑھے گا ، یہ کلمہ اس کی جان بچا لے گا اور اس کے مال کو محفوظ کر دے گا ، کل جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس سے حساب لے گا “۔
یہ روایت امام بزار نے روایت کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ اس کا تابعی عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 55
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ : غَزَا عُمَارَةُ بْنُ قَرْضٍ اللَّيْثِيُّ غَزَاةً لَهُ ، فَمَكَثَ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ رَجَعَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْأَهْوَازِ سَمِعَ صَوْتَ الْأَذَانِ فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا لِي عَهْدٌ بِصَلَاةٍ بِجَمَاعَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مُنْذُ ثَلَاثٍ ، وَقَصَدَ نَحْوَ الْأَذَانِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَإِذَا هُوَ بِالْأَزَارِقَةِ ، فَقَالُوا لَهُ : مَا جَاءَ بِكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : مَا أَنْتُمْ إِخْوَانِي . قَالُوا : أَنْتَ أَخُو الشَّيْطَانِ ، لَنَقْتُلَنَّكَ . قَالَ : أَمَا تَرْضَوْنَ مِنِّي بِمَا رَضِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالُوا : أَيُّ شَيْءٍ رَضِيَ بِهِ مِنْكَ ؟ قَالَ : أَتَيْتُهُ وَأَنَا كَافِرٌ ، فَشَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ فَخَلَّى عَنِّي . فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : سیدنا عمارہ بن قرض لیثی رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں شریک ہوئے ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، وہ وہاں رہے ، پھر وہ واپس روانہ ہو گئے ، جب وہ اہواز کے قریب پہنچے اور انہوں نے اذان کی آواز سنی ، تو بولے : اللہ کی قسم ! میں نے گزشتہ تین دن سے مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا نہیں کی ، وہ اذان کی طرف چل پڑے ، اُن کا ارادہ ( با جماعت ) نماز ادا کرنے کا تھا ، لیکن وہ مسجد ” ازارقہ “ ( یعنی خوارج ) کی تھی ، اُن لوگوں نے سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے اللہ کے دشمن ! تم کیوں آئے ہو ؟ سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ میرے بھائی یعنی مسلمان نہیں ہو ؟ اُن لوگوں نے کہا: تم شیطان کے بھائی ہو ، ہم تمہیں ضرور قتل کر دیں گے ، تو سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم میری طرف سے اُس چیز سے راضی نہیں ہو گے ، جس سے اللہ کے رسول راضی ہوئے تھے ؟ اُن لوگوں نے دریافت کیا : وہ کیا چیز تھی ؟ جس کی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے راضی ہوئے تھے ؟ سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : ”جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو میں کافر تھا ، پھر میں نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور بے شک آپ ، اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوڑ دیا تھا “۔
( راوی کہتے ہیں : ) لیکن اُن خوارج نے انہیں پکڑ کر شہید کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 56
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8559»
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے ، جب وہ لوگ یہ پڑھ لیں گے ، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 57
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 15»
وَعَنْ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيِّ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ ، فَلَمَّا هَجَمْنَا عَلَى الْقَوْمِ تَقَدَّمْتُ أَصْحَابِي عَلَى فَرَسٍ ، فَاسْتَقْبَلَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ يَضِجُّونَ ، فَقُلْتُ لَهُمْ : تُرِيدُونَ أَنْ تُحْرِزُوا أَنْفُسَكُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَقُلْتُ : قُولُوا : نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَقَالُوهَا ، فَجَاءَ أَصْحَابِي فَلَامُونِي وَقَالُوا : أَشْرَفْنَا عَلَى الْغَنِيمَةِ فَمَنَعْتَنَا ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا صَنَعَ ؟ لَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ إِنْسَانٍ كَذَا وَكَذَا " ، ثُمَّ أَدْنَانِي مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسلم تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں ایک جنگی مہم پر روانہ کیا ، جب ہم نے دشمن پر حملہ کیا ، تو میں گھوڑے پر سوار ہو کر ، اپنے ساتھیوں سے آگے نکل آیا ، خواتین اور بچے ہمارے سامنے آئے ، جو چیخ و پکار کر رہے تھے ، میں نے اُن سے کہا: کیا تم یہ چاہتے ہو کے اپنی جانیں بچا لو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے کہا: پھر تم لوگ یہ کہو : ” ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ان لوگوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا ، جب میرے ساتھی آئے ، تو انہوں نے مجھے ملامت کی اور یہ کہا: ہمیں تو غنیمت حاصل ہونے کی توقع تھی ، لیکن تم نے وہ ہمیں نہیں ملنے دیا ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب ہم لوگ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ( تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) میرے ساتھیوں سے فرمایا : کیا تم لوگ یہ جانتے ہو ؟ کہ اس نے کیا کیا ہے ( یعنی اس شخص کے ) اس عمل کا اجر و ثواب کتنا ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ نے ( اسلام قبول کرنے والے ) ہر ایک انسان کے بدلے میں اتنی ، اتنی ( نیکیاں یا اجر و ثواب ) اسے عطا کر دیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے قریب کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حارث بن مسلم ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 58
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً ، فَأَغَارُوا عَلَى قَوْمٍ ، فَشَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ وَمَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرُهُ ، فَقَالَ الشَّادُّ مِنَ الْقَوْمِ : إِنِّي مُسْلِمٌ ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ ، فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا بَلَغَ الْقَاتِلَ ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ ، وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ : وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ ، فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ الثَّالِثَةَ : وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ أَبَى عَلَيَّ فِيمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا [ قَالَهَا ] ثَلَاثًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ بَدَلَ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن مالک لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی ، ان لوگوں نے دشمن پر حملہ کیا تو دشمن کا ایک فرد ان سے الگ ہو گیا ، ایک مسلمان اس کے پیچھے تلوار لہراتا ہوا گیا ، تو الگ ہونے والے اس فرد نے یہ کہا: میں مسلمان ہوں ، لیکن مسلمان نے اس کی بات پر دھیان نہیں دیا اور اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ، اس بات کی اطلاع قتل کرنے والے مسلمان کو ملی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، اسی دوران اُس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس ( مقتول ) شخص نے یہ بات صرف قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اور اس طرف موجود افراد سے منہ پھیر لیا ، اور اپنا خطبہ جاری رکھا ، اس شخص نے دوسری مرتبہ پھر یہی بات کہی : اللہ کی قسم ! اس نے قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے منہ پھیر لیا اور اپنا خطبہ جاری رکھا ، اس شخص سے صبر نہیں ہوا ، یہاں تک کہ اس نے تیسری مرتبہ یہ کہا: اللہ کی قسم ! اس نے قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی مومن کو قتل کر دیتا ہے ، اللہ تعالٰی نے اس کے بارے میں مجھے منع کیا ہے“ ۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے راوی کا نام سیدنا عقبہ بن مالک کی بجائے ، سیدنا عقبہ بن خالد رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے ، اس روایت کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 59
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 110/4 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 356/17 ، اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 6794 أورده المؤلف فى زوائد المسند 4403»
وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ - رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ - قَالَ : إِنِّي لَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ جَاءَهُ بَشِيرٌ مِنْ سَرِيَّتِهِ فَأَخْبَرَهُ بِالنَّصْرِ الَّذِي نَصَرَ اللَّهُ سَرِيَّتَهُ ، وَبِالْفَتْحِ الَّذِي فَتَحَ اللَّهُ لَهُمْ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيْنَا نَحْنُ نَطْلُبُ الْقَوْمَ وَقَدْ هَزَمَهُمُ اللَّهُ - تَعَالَى - إِذْ لَحِقْتُ رَجُلًا بِالسَّيْفِ ، فَوَاقَعْتُهُ وَهُوَ يَسْعَى وَهُوَ يَقُولُ : إِنِّي مُسْلِمٌ ، إِنِّي مُسْلِمٌ . قَالَ : " فَقَتَلْتَهُ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا تَعَوَّذَ . قَالَ : " فَهَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ فَنَظَرْتَ أَصَادِقٌ هُوَ أَمْ كَاذِبٌ " قَالَ : لَوْ شَقَقْتُ عَنْ قَلْبِهِ مَا كَانَ عِلْمِي ؟ هَلْ قَلْبُهُ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ ؟ قَالَ : " لَا مَا فِي قَلْبِهِ تَعْلَمُ ، وَلَا لِسَانَهُ صَدَّقْتَ ! " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ : " لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ " فَمَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَدَفَنُوهُ ، فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ، ثُمَّ دَفَنُوهُ فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ اسْتَحْيَوْا وَخَزُوا لِمَا لَقِيَ ، فَاحْتَمَلُوهُ فَأَلْقَوْهُ فِي شِعْبٍ مِنْ تِلْكَ الشِّعَابِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق ” بجیلہ “ قبیلے سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، جب ایک جنگی مہم کی طرف سے خوش خبری سنانے والا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ اطلاع دی : کہ اللہ تعالی نے اس جنگی مہم کی مدد کرتے ہوئے انہیں کامیابی عطا کی ہے اور انہیں فتح نصیب کر دی ہے ، اس شخص نے یہ بھی بتایا : یا رسول اللہ ! جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو پسپا کر دیا اور ہم ان کا تعاقب کر رہے تھے ، اس دوران میں تلوار لے کر ایک شخص کے پاس پہنچا ، میں اس پر حملہ کرنے لگا ، تو وہ دوڑ پڑا اور بولا: میں مسلمان ہوں ، میں مسلمان ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تو کیا تم نے اسے قتل کر دیا ؟ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ بچنا چاہ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کا دل کیوں نہیں چیر دیا ؟ تاکہ تم یہ دیکھ لیتے کہ کیا وہ سچا ہے ، یا جھوٹا ہے ؟ اس شخص نے عرض کی : اگر میں اس کا دل چیر بھی لیتا ، تو بھی مجھے یہ پتہ نہیں چل سکتا تھا ، کیونکہ اس کا دل تو صرف گوشت کا ایک لوتھڑا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس کے دل میں جو تھا ، نہ تو تم اس کے بارے میں جان سکتے تھے ، اور نہ ہی تم نے اُس کی زبان کی تصدیق کی ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لیے دعائے مغفرت کیجیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہارے لئے دعائے مغفرت نہیں کروں گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ شخص مر گیا اور لوگوں نے اسے دفن کر دیا ، تو اگلے دن اس کی لاش ( قبر سے باہر ) زمین پر پڑی ہوئی تھی ، لوگوں نے اسے دوبارہ دفن کیا ، ( تو اگلے دن ) اس کی لاش پھر زمین پر پڑی ہوئی تھی ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، جب لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی ، تو اس شخص کے معاملے کے حوالے سے انہیں حیا محسوس ہوئی اور شرمندگی محسوس ہوئی ، تو لوگوں نے اس کی لاش اُٹھا کر ایک گڑھے میں ڈال دی ۔
( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں دو راوی ، عبدالحمید بن بہرام اور شہر بن حوشب ہیں ، ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 60
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام أبو يعلى فى مسنده 1519 اورده المؤلف فى المقصد العلى 1843»
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى مَا أُقَاتِلُ النَّاسَ إِلَّا عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَاللَّهِ لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ " أَوْ كَمَا قَالَ . ¤ قُلْتُ : ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ فِي الْفِتَنِ ، وَهَذَا لَفْظُهُ . وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( یعنی مذکورہ بالا روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) ” میں لوگوں کے ساتھ صرف اسلام کی بنیاد پر جنگ کرتا ہوں ، اللہ کی قسم ! میں تمہارے لیے دعائے مغفرت نہیں کروں گا “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یا جس طرح بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔
( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ بات ایک طویل حدیث میں ذکر کی گئی ہے ، جسے امام ابن ماجہ نے فتنوں سے متعلق باب میں نقل کیا ہے ، اور یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، اس کی سند میں ایک مجہول شخص ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 61
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 243/18»
وَعَنْ قُطْبَةَ بْنِ قَتَادَةَ السَّدُوسِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْسُطْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى نَفْسِي وَعَلَى ابْنَتِي الْحُوَيْصَلَةِ ، وَلَوْ كَذَبْتُ عَلَى اللَّهِ لَخَدَعْتُكَ ، قَالَ : وَحَمَلَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، [ فِي خَيْلِهِ ] فَقُلْنَا : إِنَّا مُسْلِمُونَ ، فَتَرَكَنَا ، وَغَزَوْنَا مَعَهُ الْأُبُلَّةَ ، فَفَتَحَهَا ، فَمَلَأْنَا أَيْدِيَنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ وَهُوَ قَتَادَةُ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ قُطْبَةَ لَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قطبہ بن قتادہ سدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ اپنا دست مبارک آگے کیجیئے ، تاکہ میں اپنی ذات اور اپنی بیٹی ”حویصلہ “ کے حوالے سے ، آپ کی بیعت کر لوں ، اور اگر میں اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کروں گا ، تو میں آپ کو دھوکا دوں گا ۔
سیدنا قطبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے شہسواروں کے ساتھ ہم پر حملہ کیا تھا ، تو ہم نے کہا: ہم مسلمان ہیں ، تو انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ ”ابلہ“ میں حصہ لیا تھا ، انہیں فتح نصیب ہوئی ، تو انہوں نے ہمارے ہاتھ ( مال غنیمت کے ذریعے ) بھر دیے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے ، اور وہ قتادہ نامی شخص ہے ، جس نے سیدنا قطبہ رضٰ اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جس نے اس راوی ( قتادہ ) کا ذکر کیا ہو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 62
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 191/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 78/4»
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذِيَابٍ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْتُ ، وَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ . ¤ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَسَمَّاهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ سَعِيدًا ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِ مُنِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابوزیاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے اسلام قبول کر لیا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری قوم کے افراد جن اموال ( یعنی زمینوں ) سمیت اسلام قبول کریں گے ، آپ وہ ( زمینیں ) ان لوگوں کی ملکیت رہنے دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان لوگوں پر عامل مقرر کر دیا ، نبي اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے عامل مقرر کیا ، اور اُن کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے ہی عامل مقرر کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور دوسرے مقام پر ، انہوں نے راوی کا نام ” سعید “ ( بن ابوذیاب ) نقل کیا ہے اور اپنی سند کے ساتھ ، اس راوی کے حوالے سے یہی حدیث نقل کی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
اس کی سند میں ایک راوی منیر بن عبداللہ ہے اور وہ مجہول ہے ، ازدی نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 63
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 79/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 52»