مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ . باب: اس چیز ( یعنی کلمہ ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے ) حرام کر دیتی ہے
وَعَنْ عِيَاضٍ الْأَنْصَارِيِّ رَفَعَهُ قَالَ : " إِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةٌ عَلَى اللَّهِ كَرِيمَةٌ ، لَهَا عِنْدَ اللَّهِ مَكَانٌ ، وَهِيَ كَلِمَةٌ مَنْ قَالَهَا صَادِقًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ ، وَمَنْ قَالَهَا كَاذِبًا حَقَنَتْ دَمَهُ وَأَحْرَزَتْ مَالَهُ ، وَلَقِيَ اللَّهَ غَدًا فَحَاسَبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِنْ كَانَ تَابِعِيَّهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . ¤سیدنا عیاض انصاری رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ”لا الہٰ الا اللہ اللہ تعلی کی بارگاہ میں معزز کلمہ ہے ، جسے اللہ تعالی کی بارگاہ میں بلند حیثیت حاصل ہے ، یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ جو شخص سچے دل کے ساتھ اسے پڑھ لے گا ، اللہ تعالی اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دے گا ۔ اور جو شخص جھوٹ کے طور پر اسے پڑھے گا ، یہ کلمہ اس کی جان بچا لے گا اور اس کے مال کو محفوظ کر دے گا ، کل جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس سے حساب لے گا “۔
یہ روایت امام بزار نے روایت کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ اس کا تابعی عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود ہیں ۔