حدیث نمبر: 58
وَعَنْ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيِّ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَرِيَّةٍ ، فَلَمَّا هَجَمْنَا عَلَى الْقَوْمِ تَقَدَّمْتُ أَصْحَابِي عَلَى فَرَسٍ ، فَاسْتَقْبَلَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ يَضِجُّونَ ، فَقُلْتُ لَهُمْ : تُرِيدُونَ أَنْ تُحْرِزُوا أَنْفُسَكُمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَقُلْتُ : قُولُوا : نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَقَالُوهَا ، فَجَاءَ أَصْحَابِي فَلَامُونِي وَقَالُوا : أَشْرَفْنَا عَلَى الْغَنِيمَةِ فَمَنَعْتَنَا ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا صَنَعَ ؟ لَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ إِنْسَانٍ كَذَا وَكَذَا " ، ثُمَّ أَدْنَانِي مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مسلم تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں ایک جنگی مہم پر روانہ کیا ، جب ہم نے دشمن پر حملہ کیا ، تو میں گھوڑے پر سوار ہو کر ، اپنے ساتھیوں سے آگے نکل آیا ، خواتین اور بچے ہمارے سامنے آئے ، جو چیخ و پکار کر رہے تھے ، میں نے اُن سے کہا: کیا تم یہ چاہتے ہو کے اپنی جانیں بچا لو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے کہا: پھر تم لوگ یہ کہو : ” ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ ان لوگوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا ، جب میرے ساتھی آئے ، تو انہوں نے مجھے ملامت کی اور یہ کہا: ہمیں تو غنیمت حاصل ہونے کی توقع تھی ، لیکن تم نے وہ ہمیں نہیں ملنے دیا ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب ہم لوگ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ( تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) میرے ساتھیوں سے فرمایا : کیا تم لوگ یہ جانتے ہو ؟ کہ اس نے کیا کیا ہے ( یعنی اس شخص کے ) اس عمل کا اجر و ثواب کتنا ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ نے ( اسلام قبول کرنے والے ) ہر ایک انسان کے بدلے میں اتنی ، اتنی ( نیکیاں یا اجر و ثواب ) اسے عطا کر دیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے قریب کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حارث بن مسلم ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 58
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف