مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ . باب: اس چیز ( یعنی کلمہ ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے ) حرام کر دیتی ہے
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى مَا أُقَاتِلُ النَّاسَ إِلَّا عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَاللَّهِ لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ " أَوْ كَمَا قَالَ . ¤ قُلْتُ : ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ فِي الْفِتَنِ ، وَهَذَا لَفْظُهُ . وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( یعنی مذکورہ بالا روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) ” میں لوگوں کے ساتھ صرف اسلام کی بنیاد پر جنگ کرتا ہوں ، اللہ کی قسم ! میں تمہارے لیے دعائے مغفرت نہیں کروں گا “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یا جس طرح بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔
( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ بات ایک طویل حدیث میں ذکر کی گئی ہے ، جسے امام ابن ماجہ نے فتنوں سے متعلق باب میں نقل کیا ہے ، اور یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں ، اس کی سند میں ایک مجہول شخص ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔