مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ . باب: اس چیز ( یعنی کلمہ ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے ) حرام کر دیتی ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا " ، قِيلَ : وَمَا حَقُّهَا ؟ قَالَ : " زِنًى بَعْدَ إِحْصَانٍ ، أَوْ كُفْرٌ بَعْدَ إِسْلَامٍ ، أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ فَيُقْتَلُ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْبَيْرُوتِيُّ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَوْثِيقِهِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے ، جب وہ یہ پڑھ لیں گے ، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب ، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ، عرض کی گئی : اُن کے حق سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محصن ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرنا ، یا اسلام قبول کر لینے کے بعد کفر اختیار کرنا ، یا کسی کو قتل کرنا ، تو اس کے عوض میں اس شخص کو قتل کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ہاشم بیروتی ہے ، اکثر محدثین نے اس کی توثیق کی ہے