مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ . باب: اس چیز ( یعنی کلمہ ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے ) حرام کر دیتی ہے
وَعَنْ قُطْبَةَ بْنِ قَتَادَةَ السَّدُوسِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْسُطْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى نَفْسِي وَعَلَى ابْنَتِي الْحُوَيْصَلَةِ ، وَلَوْ كَذَبْتُ عَلَى اللَّهِ لَخَدَعْتُكَ ، قَالَ : وَحَمَلَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، [ فِي خَيْلِهِ ] فَقُلْنَا : إِنَّا مُسْلِمُونَ ، فَتَرَكَنَا ، وَغَزَوْنَا مَعَهُ الْأُبُلَّةَ ، فَفَتَحَهَا ، فَمَلَأْنَا أَيْدِيَنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ وَهُوَ قَتَادَةُ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ قُطْبَةَ لَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ . ¤سیدنا قطبہ بن قتادہ سدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ اپنا دست مبارک آگے کیجیئے ، تاکہ میں اپنی ذات اور اپنی بیٹی ”حویصلہ “ کے حوالے سے ، آپ کی بیعت کر لوں ، اور اگر میں اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کروں گا ، تو میں آپ کو دھوکا دوں گا ۔
سیدنا قطبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے شہسواروں کے ساتھ ہم پر حملہ کیا تھا ، تو ہم نے کہا: ہم مسلمان ہیں ، تو انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہم نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ ”ابلہ“ میں حصہ لیا تھا ، انہیں فتح نصیب ہوئی ، تو انہوں نے ہمارے ہاتھ ( مال غنیمت کے ذریعے ) بھر دیے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے ، اور وہ قتادہ نامی شخص ہے ، جس نے سیدنا قطبہ رضٰ اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جس نے اس راوی ( قتادہ ) کا ذکر کیا ہو ۔