مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ . باب: اس چیز ( یعنی کلمہ ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے ) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 52
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہیں پڑھ لیتے ، جب وہ یہ پڑھ لیں گے ، تو وہ اپنی جانیں اور اموال مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ حجاز ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔