مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ . باب: اس چیز ( یعنی کلمہ ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے ) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 47
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اُس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جب وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں گے ، تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اُن لوگوں کا حساب ، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے