مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ . باب: اس چیز ( یعنی کلمہ ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے ) حرام کر دیتی ہے
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ : غَزَا عُمَارَةُ بْنُ قَرْضٍ اللَّيْثِيُّ غَزَاةً لَهُ ، فَمَكَثَ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ رَجَعَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْأَهْوَازِ سَمِعَ صَوْتَ الْأَذَانِ فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا لِي عَهْدٌ بِصَلَاةٍ بِجَمَاعَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مُنْذُ ثَلَاثٍ ، وَقَصَدَ نَحْوَ الْأَذَانِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ فَإِذَا هُوَ بِالْأَزَارِقَةِ ، فَقَالُوا لَهُ : مَا جَاءَ بِكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : مَا أَنْتُمْ إِخْوَانِي . قَالُوا : أَنْتَ أَخُو الشَّيْطَانِ ، لَنَقْتُلَنَّكَ . قَالَ : أَمَا تَرْضَوْنَ مِنِّي بِمَا رَضِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالُوا : أَيُّ شَيْءٍ رَضِيَ بِهِ مِنْكَ ؟ قَالَ : أَتَيْتُهُ وَأَنَا كَافِرٌ ، فَشَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ فَخَلَّى عَنِّي . فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : سیدنا عمارہ بن قرض لیثی رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں شریک ہوئے ، جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، وہ وہاں رہے ، پھر وہ واپس روانہ ہو گئے ، جب وہ اہواز کے قریب پہنچے اور انہوں نے اذان کی آواز سنی ، تو بولے : اللہ کی قسم ! میں نے گزشتہ تین دن سے مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا نہیں کی ، وہ اذان کی طرف چل پڑے ، اُن کا ارادہ ( با جماعت ) نماز ادا کرنے کا تھا ، لیکن وہ مسجد ” ازارقہ “ ( یعنی خوارج ) کی تھی ، اُن لوگوں نے سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے اللہ کے دشمن ! تم کیوں آئے ہو ؟ سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ میرے بھائی یعنی مسلمان نہیں ہو ؟ اُن لوگوں نے کہا: تم شیطان کے بھائی ہو ، ہم تمہیں ضرور قتل کر دیں گے ، تو سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم میری طرف سے اُس چیز سے راضی نہیں ہو گے ، جس سے اللہ کے رسول راضی ہوئے تھے ؟ اُن لوگوں نے دریافت کیا : وہ کیا چیز تھی ؟ جس کی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے راضی ہوئے تھے ؟ سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : ”جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو میں کافر تھا ، پھر میں نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور بے شک آپ ، اللہ کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھوڑ دیا تھا “۔
( راوی کہتے ہیں : ) لیکن اُن خوارج نے انہیں پکڑ کر شہید کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔