مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ . باب: اس چیز ( یعنی کلمہ ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے ) حرام کر دیتی ہے
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذِيَابٍ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْتُ ، وَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ . ¤ رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَسَمَّاهُ فِي مَكَانٍ آخَرَ سَعِيدًا ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِ مُنِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ أَيْضًا . ¤سیدنا سعد بن ابوزیاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے اسلام قبول کر لیا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری قوم کے افراد جن اموال ( یعنی زمینوں ) سمیت اسلام قبول کریں گے ، آپ وہ ( زمینیں ) ان لوگوں کی ملکیت رہنے دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان لوگوں پر عامل مقرر کر دیا ، نبي اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے عامل مقرر کیا ، اور اُن کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے ہی عامل مقرر کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور دوسرے مقام پر ، انہوں نے راوی کا نام ” سعید “ ( بن ابوذیاب ) نقل کیا ہے اور اپنی سند کے ساتھ ، اس راوی کے حوالے سے یہی حدیث نقل کی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
اس کی سند میں ایک راوی منیر بن عبداللہ ہے اور وہ مجہول ہے ، ازدی نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔