حدیث نمبر: 49
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا أَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَأَحْسَبُ أَنَّ عِمْرَانَ أَخْطَأَ فِي إِسْنَادِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اُس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جب وہ یہ کہہ دیں گے ، تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے روک لیں ( یعنی محفوظ کر لیں ) گے ، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اُن لوگوں کا حساب ، اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے : وہ فرماتے ہیں : میرے علم کے مطابق ، یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منقول ہونے کے طور پر ، صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران نامی راوی نے اس کی سند میں غلطی کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 49
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 68»