کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
حدیث نمبر: 1
وَبِسَنَدِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَنْبَأَ شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - يُحَدِّثُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَزِنُوا عَلَيْهِ حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوَسُ ، قَالَ عُثْمَانُ : وَكُنْتُ مِنْهُمْ ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي ظِلِّ أُطُمٍ مَنَ الْآطَامِ مَرَّ عَلَيَّ عُمَرُ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَسَلَّمَ عَلَيَّ فَلَمْ أَشْعُرْ أَنَّهُ مَرَّ وَلَا سَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَقَالَ لَهُ : مَا يُعْجِبُكَ أَنِّي مَرَرْتُ عَلَى عُثْمَانَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ ! وَأَقْبَلَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ - فِي وِلَايَةِ أَبِي بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - حَتَّى سَلَّمَا جَمِيعًا ، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : جَاءَنِي أَخُوكَ عُمَرُ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ مَرَّ فَسَلَّمَ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، فَمَا الَّذِي حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : مَا فَعَلْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ : بَلَى ، وَاللَّهِ قَدْ فَعَلْتَ ، وَلَكِنَّهَا عُبِّيَّتُكُمْ يَا بَنِي أُمَيَّةَ . قَالَ : قُلْتُ وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّكَ مَرَرْتَ وَلَا سَلَّمْتَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : صَدَقَ عُثْمَانُ . وَقَدْ شَغَلَكَ عَنْ ذَلِكَ أَمْرٌ . فَقُلْتُ : أَجَلْ . قَالَ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ عُثْمَانُ - رَحِمَهُ اللَّهُ - : تَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ . قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ لَهُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا عَلَيَّ فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَلَكِنَّ الزُّهْرِيَّ وَثَّقَهُ وَأَبْهَمَهُ ، وَقَدْ ذَكَرْتُهُ بِسَنَدِهِ حَتَّى لَا أَبْتَدِئَ الْكِتَابَ بِسَنَدٍ مُنْقَطِعٍ . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد نے ، اپنی سند کے ساتھ زہری کا یہ بیان نقل کیا ہے : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک اہل علم نے مجھے یہ بات بتائی : اُس نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس حوالے سے ( شدید ) غم محسوس ہوا ، یہاں تک کہ اُن میں سے بعض حضرات وسوسے کا شکار ہو جاتے تھے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بھی اُن افراد میں سے ایک تھا ایک مرتبہ میں ایک عمارت کے سائے میں بیٹھا ہوا تھا ، اس دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے اور انہوں نے مجھے سلام بھی کیا ، لیکن مجھے پتہ نہیں چلا کہ وہ گزرے ہیں ، یا انہوں نے سلام کیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے ، وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اُن سے کہا: کیا آپ اس بات پر حیران نہیں ہوں گے ؟ کہ میں عثمان کے پاس سے گزرا ، میں نے اُسے سلام کیا ، لیکن اُس نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، آئے یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کی بات ہے ، اُن دونوں حضرات نے مجھے سلام کیا ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ کے بھائی عمر میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ وہ ( آپ کے پاس سے ) گزرے ، اور انہوں نے آپ کو سلام کیا ، لیکن آپ نے انہیں جواب نہیں دیا ، آپ نے ایسا کیوں کیا ؟
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: میں نے تو ایسا نہیں کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! آپ نے ایسا کیا ہے اے بنو امیہ ! یہ آپ لوگوں کی خود پسندی ہے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے تو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ آپ گزرے ہیں ، یا آپ نے سلام کیا ہے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : عثمان ٹھیک کہہ رہا ہے ، یہ کسی پریشانی کی وجہ ہے تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوا ہو گا ، میں نے کہا: جی ہاں ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ معاملہ کیا ہے ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بولے : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی ، اس سے پہلے کہ میں اُن سے اس معاملے کی نجات کے بارے میں دریافت کرتا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تھا ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) میں اُٹھ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور میں نے اُن سے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا : ( ایک مرتبہ ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس معاملے کی نجات کیا ہے ؟ تو
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لے ، جو میں نے اپنے چچا کو پیش کیا تھا اور انہوں نے اُسے قبول نہیں کیا تھا ، تو وہ کلمہ اُس شخص کے لئے نجات کا باعث بن جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جبکہ امام ابویعلیٰ نے اسے مکمل روایت
کے طور پر نقل کیا ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا تاہم
امام زہری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اسے ” مبهم“ رکھا ہے ۔
میں نے اس کی سند اسی لئے بیان کر دی ہے تاکہ میں کتاب کا آغاز کسی ” منقطع“ سند کے ساتھ نہ کروں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 1
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة شيخ الزهري
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 839,2 ، اخرجه الامام ابو يعلى فى مسند 9 ، أورده المؤلف فى زوائد المسند 1 ، أورده المؤلف فى كشف الاستار 1 ، أورده المؤلف فى المقصد العلى 7 كنز العمال 1640 ، 1404 ، طبقات ابن سعد 285»
حدیث نمبر: 2
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي نَحْنُ فِيهِ ؟ قَالَ : " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَهُوَ لَهُ نَجَاةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِي إِسْنَادِهِ : كَوْثَرٌ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس معاملے کی نجات کیا ہے ؟ جس میں ہم ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو یہ اُس کے لیے نجات کا باعث ہو گا ۔ “ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ” کوثر “ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 2
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسند 19 ، أورده المؤلف فى المقصد العلى 1»
حدیث نمبر: 3
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : حُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ لَقِيَ طَلْحَةَ ، فَقَالَ : مَا لِي أَرَاكَ وَاجِمًا ؟ قَالَ : كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزْعُمُ أَنَّهَا مُوجِبَةٌ ، فَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْهَا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا أَعْلَمُ مَا هِيَ ، قَالَ : مَا هِيَ ؟ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا وَائِلٍ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي بَكْرٍ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : مجھے یہ روایت بیان کی گئی ہے :
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پریشان دیکھ رہا ہوں ؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ایک کلمہ کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تھا کہ وہ کلمہ واجب کر دیتا ہے ، لیکن میں اُس کلمہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کر سکا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے علم ہے کہ وہ کلمہ کون سا ہے ؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون سا ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ لا الہ الا اللہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابووائل نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس کا سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 3
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلي فى مسنده 97 ، اورده المؤلف فى المقصد العلي 6 ، المطالب العاليه 48/3»
حدیث نمبر: 4
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْرُجْ فَنَادِ فِي النَّاسِ : مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . قَالَ : فَخَرَجْتُ فَلَقِيَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : مَا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ فَقُلْتُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْرُجْ فَنَادِ فِي النَّاسِ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " فَقَالَ عُمَرُ : ارْجِعْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهَا ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا رَدَّكَ ؟ " فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ عُمَرَ ، فَقَالَ : " صَدَقَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِي إِسْنَادِهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
تم نکلو ( یعنی باہر جاؤ : ) اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو :
” جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اُس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ۔ “
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نکلا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے دریافت کیا : آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا ہے : تم نکلو اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس جائیں ، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ لوگ اس پر اکتفاء کر لیں گے ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم واپس کیوں آ گئے ؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 4
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 100 ، أورده المؤلف فى المقصد العلى 2»
حدیث نمبر: 5
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ " . قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَلَا أُحَدِّثُكَ مَا هِيَ ؟ هِيَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ الَّتِي أَلْزَمَهَا اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ ، وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . ¤ قُلْتُ : لِعُمَرَ حَدِيثٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں ایک کلمہ کے بارے میں جانتا ہوں ، جسے کوئی بندہ سچے دل سے پڑھ لے ، تو وہ آگ پر حرام ہو جاتا ہے “ ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ) کیا میں آپ کو بتاؤں ، وہ کلمہ کون سا ہے ؟ وہ کلمہ اخلاص ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب پر لازم قرار دیا اور یہ تقویٰ والا وہ کلمہ ہے ، جس کی تلقین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ( جناب ابوطالب ) کو ان کے انتقال کے وقت کی تھی ، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ” میں یہ کہتا ہوں ، سیدنا عمر کے حوالے سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے اس سیاق کے بغیر روایت کیا ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کو امام أحمد نے روایت کیا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 5
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 3»
حدیث نمبر: 6
وَعَنْ سُهَيْلِ بْنِ الْبَيْضَاءِ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا رَدِيفُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا سُهَيْلُ بْنَ الْبَيْضَاءِ " ، وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، كُلُّ ذَلِكَ يُجِيبُهُ سُهَيْلٌ ، فَسَمِعَ النَّاسُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَظَنُّوا أَنَّهُ يُرِيدُهُمْ ، فَحُبِسَ مَنْ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَحِقَهُ مَنْ كَانَ خَلْفَهُ ، حَتَّى إِذَا اجْتَمَعُوا قَالَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ ، وَأَوْجَبَ لَهُ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَمَدَارُهُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ الصَّلْتِ ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ : قَدْ رُوِيَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ مُرْسَلًا ، وَابْنِ عَبَّاسٍ مُتَّصِلًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہیل بن بیضا بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر بیٹھا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے سہیل بن بیضاء ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا شاید تین مرتبہ بلند آواز میں انہیں پکارا ، ہر مرتبہ سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ نے آپ کو جواب دیا ، جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی ، تو انہیں اندازہ ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں ، تو جو لوگ آگے تھے ، وہ رک گئے اور جو پیچھے تھے ، وہ آ کر شامل ہو گئے ، یہاں تک کہ جب وہ لوگ اکٹھے ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
” جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام قرار دے دے گا اور اس کے لیے جنت کو واجب کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کا مدار سعید بن صلت نامی راوی پر ہے ، ابن ابوحاتم کہتے ہیں : یہ روایت سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” مرسل روایت کے طور پر بھی نقل کی گئی ہے ، جبکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ” متصل “ روایت کے طور پر نقل کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 6
درجۂ حدیث محدثین: وهلذا إسناد منقطع ، ولكن الحديث صحيح بشواهده
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 6033 ، 6034 أورده المؤلف فى زوائد المسند 4 ، اخرجه السيوطي فى الدر المنثور 62/6»
حدیث نمبر: 7
وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالَ : " أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صَادِقًا بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُبَشِّرُ النَّاسَ ، فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا يَتَّكِلُ النَّاسُ ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرے ساتھ میری قوم کے کچھ افراد تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ یہ خوشخبری حاصل کرو اور اپنے پیچھے موجود لوگوں تک یہ خوشخبری پہنچا دو ! کہ جو شخص صدق دل کے ساتھ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ، رادی کہتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے، تاکہ لوگوں کو خوشخبری سنائیں ، ہماری ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو وہ ہمیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسی صورت میں لوگ اسی پر تکیہ کر لیں گے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى زوائد المسند 7، كنز العمال ح 131»
حدیث نمبر: 8
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " قَالَ : قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ " ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " ، قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي الدَّرْدَاءِ " . قَالَ : فَخَرَجْتُ لِأُنَادِيَ بِهَا فِي النَّاسِ فَلَقِيَنِي عُمَرُ ، فَقَالَ : ارْجِعْ فَإِنَّ النَّاسَ إِنْ عَلِمُوا بِهَذِهِ اتَّكَلُوا عَلَيْهَا . قَالَ : فَرَجَعْتُ ، فَأَخْبَرْتُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " صَدَقَ عُمَرُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ أَصَحُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَقَدِ احْتَجَّ بِهِ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
جو شخص یہ کہے : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے
تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا اُس نے چوری کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو میں نے عرض کی : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو میں نے عرض کی : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو خواہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو ! ( یعنی اسے یہ بات کتنی ہی ناگوار گزرے ) ۔
راوی کہتے ہیں : میں نکلا تاکہ لوگوں کے درمیان یہ اعلان کروں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا : تم واپس چلے جاؤ ! کیونکہ اگر لوگوں کو اس بات کا پتہ چل گیا ، تو وہ اسی پر تکیہ کر لیں گئے راوی کہتے ہیں : تو میں واپس آ گیا
اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عمر نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کی سند سب سے زیادہ مستند ہے اس میں ایک راوی ابن لیعہ ہے جس سے کئی حضرات نے استدلال کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 8
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3400 ، أورده المؤلف فى زوائد المسند 10 ، اورده المؤلف فى كشف الاستار 5»
حدیث نمبر: 9
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِذْ حَضَرَ ، قَالَ : أَدْخِلُوا عَلَيَّ النَّاسَ ، فَأُدْخِلُوا عَلَيْهِ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ " ، وَمَا كُنْتُ أُحَدِّثُكُمُوهُ إِلَّا عِنْدَ الْمَوْتِ ، وَالشَّهِيدُ عَلَى ذَلِكَ عُوَيْمِرٌ أَبُو الدَّرْدَاءِ . فَانْطَلَقُوا إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ : صَدَقَ أَخِي ، وَمَا كَانَ يُحَدِّثُكُمْ بِهِ إِلَّا عِنْدَ مَوْتِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا صَالِحٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب اُن کا آخری وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا : لوگوں کو میرے پاس لے آؤ لوگ اُن کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
” جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھراتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا“
( پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ) میں یہ حدیث صرف مرنے کے قریب سنا رہا ہوں اور اس روایت کے گواہ سیدنا عویمر ابودرداء ہیں ، وہ لوگ سیدنا ابودردء رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا : میرے بھائی ( یعنی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ) نے سچ بیان کیا ہے اور انہوں نے موت کے قریب تمہیں یہ حدیث بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابوصالح نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 9
درجۂ حدیث محدثین: منقطع
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 11 ، كنز العمال 325»
حدیث نمبر: 10
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ انْقِطَاعٌ بَيْنَ شَهْرٍ وَمُعَاذٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ رِوَايَتُهُ عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ ضَعِيفَةٌ ، وَهَذَا مِنْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے مجھ سے فرمایا :
”جنت کی کنجی اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اس روایت میں شہر اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع پایا جاتا ہے اسماعیل بن عیاش نامی راوی اہل حجاز سے جو روایت نقل کرتا ہے وہ ضعیف ہوتی ہے اور یہ روایت بھی اُن میں سے ایک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 10
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 12 ، أورده المؤلف فى كشف الاستار 2 كنز العمال ح 1825 . اخرجه السيوطي فى الدر المنثور 343/5»
حدیث نمبر: 11
وَعَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ مُخْلِصًا - دَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا يَتَّكِلُوا ، فَقَالَ : " دَعْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّ عُمَرَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَتَّكِلُوا ، قَالَ : " دَعْهُمْ يَتَّكِلُوا " . وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں کے درمیان یہ اعلان کریں : جو شخص اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس صورت میں وہ لوگ اسی پر اکتفاء کر لیں گے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”انہیں رہنے دو ! “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر وہ لوگ اسی پر تکیہ کر لیں گے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انہیں تکیہ کر لینے دو !
اس کی سند میں عبداللہ بن محمد بن عقیل راوی ہے جو اپنے خراب حافظے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 11
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجة الامام ابو يعلى فى مسنده 1814 ، أورده المؤلف فى كشف الاستار 9 ، أورده المؤلف فى المقصد العلى 12 ، اخرجه الامام أبو يعلى فى مسنده 1814»
حدیث نمبر: 12
وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَادِ يَا عُمَرُ فِي النَّاسِ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ يَعْبُدُ اللَّهَ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَحُرِّمَ عَلَى النَّارِ " . قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ ؟ قَالَ : " لَا ، لَا يَتَّكِلُوا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! لوگوں میں اعلان کر دو ! کہ جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ اپنے دل کے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا اور اسے جہنم پر حرام کر دے گا ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو خوشخبری نہ سناؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جی نہیں ! جی نہیں ! وہ اسی پر اکتفاء کر لیں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 12
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 13
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - نَفَعَتْهُ يَوْمًا مِنْ دَهْرِهِ ، يُصِيبُهُ قَبْلَ ذَلِكَ مَا أَصَابَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے” : جو شخص لا الہ الا اللہ پڑھ لے تو یہ کلمہ ایک نہ ایک دن اُسے فائدہ دے گا خواہ اُس شخص نے اس سے پہلے جو بھی عمل کیا ہو ۔“
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 13
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 3486 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 140/1 أورده المؤلف فى كشف الاستار 3»
حدیث نمبر: 14
وَعَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَشْهَدُ أَنَّهُ لَا يَقُولُهَا أَحَدٌ مِنْ حَقِيقَةِ قَلْبِهِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ حَرَّ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص سچے دل کے ساتھ یہ کلمہ پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی تپش سے محفوظ رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 14
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 11»
حدیث نمبر: 15
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . فَاسْتَأْذَنَهُ مُعَاذٌ لِيَخْرُجَ بِهَا إِلَى النَّاسِ فَيُبَشِّرَهُمْ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَخَرَجَ فَرِحًا مُسْتَعْجِلًا فَلَقِيَهُ عُمَرُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : كَمَا أَنْتَ ، لَا تَعْجَلْ . ثُمَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَنْتَ أَفْضَلُ رَأْيًا ، إِنَّ النَّاسَ إِذَا سَمِعُوا بِهَذَا اتَّكَلُوا عَلَيْهَا فَلَمْ يَعْمَلُوا ، قَالَ : " فَرُدَّهُ ، فَرَدَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَقَدْ ضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص لا الہ الا للہ پڑھ لے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی “ ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ اس بات کو لے کر لوگوں کے پاس جائیں اور انہیں خوش خبری سنائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ خوشی کے عالم میں تیزی سے نکلے راستے میں اُن کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں اس بارے میں بتایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ٹھہر جاؤ اور جلدی نہ کرو ! پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ویسے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے سب سے بہتر ہے لیکن لوگ اگر اس بارے میں سن لیں گے تو اسی پر اکتفاء کر لیں گے اور عمل نہیں کریں گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے واپس بلا لو ! اسے واپس بلا لو !
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے جسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 15
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 8»
حدیث نمبر: 16
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا - دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ مَنْ رَوَى عَنْهُمَا الْبَزَّارُ لَمْ أَقِفْ لَهُمَا عَلَى تَرْجَمَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے ہی یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :
”جو شخص اخلاص کے ساتھ یہ کہے : کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہ جنت میں داخل ہو گا “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ امام بزار نے جن دو حضرات سے اسے نقل کیا ہے میں ( یعنی امام ہیشمی ) اُن کے حالات سے واقف نہیں ہو سکا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 16
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف عطية
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 7»
حدیث نمبر: 17
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :
جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا ہو تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 17
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 1026 اورده المؤلف فى زوائد المسند 23 أورده المؤلف فى كشف الاستار 6 كنر 328 17»
حدیث نمبر: 18
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا - دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قِيلَ : وَمَا إِخْلَاصُهَا ؟ قَالَ : " أَنْ تَحْجِزَهُ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِخْلَاصُهُ أَنْ تَحْجِزَهُ عَمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَزْوَانَ ، وَهُوَ وَضَّاعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ”جو شخص اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۔ عرض کی گئی : اس کے اخلاص سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اس کے اخلاص سے مراد ) یہ ہے کہ یہ کلمہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے روک کے رکھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے البتہ معجم کبیر میں ان کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کے اخلاص سے مراد یہ ہے کہ یہ کلمہ اس شخص کو ان چیزوں ( کے ارتکاب ) سے روک کے رکھے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر حرام قرار دی ہیں “ ۔
اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن غزوان ہے جو وضاع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 18
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 5074 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 1235»
حدیث نمبر: 19
وَعَنْ بِلَالٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بِلَالُ ، نَادِ فِي النَّاسِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ - دَخَلَ الْجَنَّةَ ، أَوْ شَهْرٍ ، أَوْ جُمُعَةٍ ، أَوْ يَوْمٍ ، أَوْ سَاعَةٍ ، قَالَ : إِذًا يَتَّكِلُوا : قَالَ : وَإِنِ اتَّكَلُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو ! جو شخص مرنے سے پہلے لا الہ الا اللہ پڑھ لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ، خواہ وہ ( مرنے سے ) ایک سال پہلے یا ایک ماہ پہلے یا ایک ہفتہ پہلے یا ایک دن پہلے یا ایک گھڑی پہلے ( اس کلمہ کو پڑھ لے ) “ ۔
انہوں نے عرض کی : ایسی صورت میں وہ لوگ اس پر اکتفاء کر لیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگرچہ وہ اکتفاء کر لیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس میں ایک راوی منھال بن خلیفہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 19
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 20
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُبَشِّرُ النَّاسَ : " أَنَّهُ مَنْ مَاتَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تاکہ میں لوگوں کو یہ خوشخبری دوں کہ جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو اس شخص کو جنت نصیب ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 20
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْأَشْجَعِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - تَعَالَى - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن نعیم اشجعی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اگرچہ اس نے چوری کی ہو ۔“
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے اس میں ایک راوی عبداللہ بن حسین مصیصی ہے اور وہ متروک ہے اس سے استدلال نہیں کیا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 21
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 6347 اورده المؤلف فى زوائد المسند 19»
حدیث نمبر: 22
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو مِشْرَحٍ أَوْ مِشْرَسٍ لَمْ أَقِفْ لَهُ عَلَى تَرْجَمَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص لا الہ الا اللہ پڑھ لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا “۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس میں ایک راوی ابوشرح یا شاید ابومشرس ہے جس کے حالات سے میں واقف نہیں ہو سکا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 22
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7163 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 2426»
حدیث نمبر: 23
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي شَدَّادٍ - وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ حَاضِرٌ يُصَدِّقُهُ - قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَلْ فِيكُمْ غَرِيبٌ ؟ " - يَعْنِي أَهْلَ الْكِتَابِ - . قُلْنَا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ وَقَالَ : " ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ وَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، فَرَفَعْنَا أَيْدِيَنَا سَاعَةً ثُمَّ وَضَعَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ بَعَثْتَنِي بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ ، وَأَمَرْتَنِي بِهَا ، وَوَعَدْتَنِي عَلَيْهَا الْجَنَّةَ ، وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أَبْشِرُوا ; فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
یعلی بن شداد بیان کرتے ہیں : میرے والد سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی : جبکہ سیدنا عبادہ بن سامت رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے اور انہوں نے اُن ( یعنی میرے والد سیدنا شداد رضی اللہ عنہ ) کی تصدیق کی میرے والد بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے درمیان کوئی اجنبی موجود ہے ؟ ( راوی بیان کرتے ہیں : اجنبی سے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اہل کتاب تھے ، ہم نے عرض کی : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کرنے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا : اپنے ہاتھ بلند کر لو ! اور لا الہ الا اللہ پڑھو ! ہم نے کچھ دیر تک ہاتھ بلند کئے رکھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک نیچے کیا اور فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 23
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 124/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 4582، أورده المؤلف فى كشف الاستار 10»
حدیث نمبر: 24
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَلَمْ تَضُرَّهُ مَعَهُ خَطِيئَةٌ ، كَمَا لَوْ لَقِيَهُ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ وَلَمْ يَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا التَّابِعِيَّ ; فَإِنَّهُ لَمْ يُسَمَّ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فَجَعَلَهُ مِنْ رِوَايَةِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . ¤
محمد محی الدین
ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اس کا شریک قرار نہ دیتا ہو تو ایسا شخص جنت میں داخل ہو گا اور اس کے ہمراہ کوئی گناہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ، جس طرح اگر وہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا کہ وہ کسی کو اُس ( یعنی اللہ تعالی ) کا شریک قرار دیتا ہوتا ، تو اُس ( شخص ) نے جہنم میں داخل ہونا تھا اور اُس ( شرک ) کے ہمراہ کسی نیکی نے اسے فائدہ نہیں دینا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ تابعی شخص کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ اس کا نام بیان نہیں کیا گیا یہ روایت امام طبرانی نے مسروق کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 24
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى زوائد المسند 22»
حدیث نمبر: 25
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ رَبُّهُ وَأَنِّي نَبِيُّهُ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ - وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى جِلْدَةِ صَدْرِهِ - حَرَّمَ اللَّهُ لَحْمَهُ عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ صَفْوَانَ ، وَهُوَ وَاهِي الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص یہ بات جانتا ہو کہ اللہ تعالی اُس کا پروردگار ہے اور میں اس کا نبی ہوں اور وہ سچے دل کے ساتھ ( اس بات کا اعتراف کرتا ہو ) “ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی : ” تو اللہ تعالیٰ اس کے گوشت کو آگ پر حرام کر دیتا ہے۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن عمر بن صفوان ہے اور وہ واہی الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 25
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 124/18 كشف 14»
حدیث نمبر: 26
وَعَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ مَغْفِرَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جو شخص ایسے عالم میں انتقال کرے کہ وہ کسی کو اللہ تعالی کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس شخص کے لئے مغفرت حلال ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 26
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 27
وَعَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَلَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ - أُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ایسی حالت میں مرا ہو کہ وہ کسی کو اللہ تعالی کا شریک قرار نہ دیتا ہو اور اس نے کسی کو ناحق قتل نہ کیا ہو تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا ( اس دروازے سے ) اُس کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا “۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 27
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
حدیث نمبر: 28
وَعَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ ، فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ ، فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِهِمْ ، وَقَالُوا : يُبَلِّغُنَا اللَّهُ بِهِ . فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ هَمَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُمْ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظَهْرِهِمْ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ بِنَا إِذَا نَحْنُ لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا جِيَاعًا رِجَالًا ؟ وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَدْعُوَ النَّاسَ بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَتَجْمَعَهُ ، ثُمَّ تَدْعُوَ اللَّهَ فِيهِ بِالْبَرَكَةِ ; فَإِنَّ اللَّهَ سَيُبَارِكُ لَنَا فِي دَعْوَتِكَ - أَوْ سَيُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِكَ - فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجِيئُونَ بِالْحَثْيَةِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذَلِكَ ، وَكَانَ أَعْلَاهُمْ مَنْ جَاءَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ . فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ، ثُمَّ دَعَا الْجَيْشَ بِأَوْعِيَتِهِمْ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْتَثُوا ، فَمَا بَقِيَ فِي الْجَيْشِ وِعَاءٌ إِلَّا مَلَئُوهُ ، وَبَقِيَ مَثَلُهُ . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، فَقَالَ : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، لَا يَلْقَى اللَّهَ عَبَدٌ مُؤْمِنٌ بِهَا إِلَّا حَجَبَتْهُ عَنِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . وَزَادَ فِيهِ : ثُمَّ دَعَا بِرَكْوَةٍ فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصُبَّ فِيهَا ، ثُمَّ مَجَّ فِيهِ وَتَكَلَّمَ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتَكَلَّمَ ، ثُمَّ أَدْخَلَ خِنْصَرَهُ - فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ : لَقَدْ رَأَيْتُ أَصَابِعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَتَفَجَّرُ يَنَابِيعَ مِنَ الْمَاءِ - ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَمَلَئُوا قِرَبَهُمْ وَأَدَاوِيهِمْ . وَقَالَ : " لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أُدْخِلَ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ فِيهِ " . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لیے گئے لوگوں کو بھوک لاحق ہوئی تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنی سواری کے جانوروں میں سے کچھ کو ذبح کر لیں انہوں نے عرض کی : اللہ تعالٰی اس کے ذریعے ہمیں ( منزل مقصود تک ) پہنچا دے گا جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اس بات کی اجازت دے دیں کہ وہ اپنے سواری کے کچھ جانور ذبح کر لیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی :
یا رسول اللہ ! اس وقت ہمارا کیا حال ہو گا ؟ جب کل ہم دشمن کا سامنا کریں گے تو ہم بھوکے ہوں گے اور پیادہ ہوں گے یا رسول اللہ ! البتہ اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو لوگوں کو یہ حکم دیں کہ وہ باقی بچ جانے والا زاد سفر لے آئیں ، پھر آپ اللہ تعالیٰ سے اُس میں برکت کی دعا کر دیں ، تو اللہ تعالٰی ہمارے لئے آپ کی دعا میں برکت رکھ دے گا ( راوی کو شک ہے یا شاہد یہ الفاظ ہیں : ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے ہمارا مطلوب عطا کر دے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ باقی بچ جانے والا زاد سفر لے کر آئیں تو لوگ مٹھی بھر اناج یا اُس سے کچھ زیادہ لے کر آنے لگے جو شخص سب سے زیادہ اناج لے کر آیا تھا وہ کھجوروں کا ایک صاع لایا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب چیزوں کو جمع کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ دعا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر والوں کو اپنے برتن لانے کا حکم دیا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اپنی مٹھیاں بھر لیں ، تو شکر میں موجود ہر برتن ان لوگوں نے بھر لیا اور پھر بھی اُتنا ہی اناج باقی بچ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، جو بندہ اس بات ( یعنی کلمہ شہادت ) پر ایمان رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاظر ہو گا
تو یہ کلمہ قیامت کے دن اسے جہنم سے محفوظ رکھے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں :
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا وہ اس میں ڈال دیا گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس میں کلی کی اور جو اللہ کو منظور تھا وہ پڑھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھوٹی انگلی اس میں داخل کی تو میں اللہ کی قسم اٹھا کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے خود پانی پیا ( اپنے جانوروں کو ) پلایا اپنے مشکیزے اور برتن بھر لئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جو بھی شخص قیامت کے دن ان دو کلمات کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اُسے جنت میں داخل کیا جائے گا خواہ اُس ( شخص ) میں جو بھی خامیاں پائی جاتی ہوں
اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 28
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 575/1، اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 63 اورده المؤلف فى زوائد المسند 17»
حدیث نمبر: 29
وَعَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ - أَوْ قَالَ بِقُدَيْدٍ - فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَهْلِيهِمْ ، فَيَأْذَنُ لَهُمْ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ رِجَالٍ يَكُونُ شِقُّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْغَضَ إِلَيْهِمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ ؟ " . فَلَمْ يَرَ عِنْدَ ذَلِكَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا ، فَقَالَ رَجُلٌ : إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ خَيْرًا ، وَقَالَ : " أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ ، لَا يَمُوتُ عَبْدٌ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ ، ثُمَّ يُسَدِّدُ - إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ : " وَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلُحَ مِنْ آبَائِكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَعِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بَعْضُهُ - وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہے تھے ، یہاں تک کہ جب ہم ” کدید “ یا ” قدید “ کے مقام پر پہنچے ، تو کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنے گھر جلدی چلے جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، اور پھر ارشاد فرمایا : لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ اللہ کے رسول کی طرف والا درخت کا حصہ ، اُن کے لیے دوسری طرف سے زیادہ ناپسندیدہ ہے ، تو اس وقت ہر شخص رونے لگا ، ایک صاحب بولے : اس کے بعد جو شخص اجازت مانگے گا ، وہ بے وقوف ہو گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور بھلائی کی بات کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” میں اللہ تعالیٰ کے حوالے سے گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں : کہ جو بھی بندہ ایسی حالت میں مرے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ، اور وہ سچے دل سے ( یہ گواہی دے ) اور پھر سیدھے راستے پر گامزن رہے ، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو یوں جنت میں داخل کرے گا کہ نہ تو اُن سے حساب لیا جائے گا ، اور نہ ہی انہیں کوئی عذاب ہو گا اور مجھے یہ امید ہے کہ تم لوگ اُس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے ، جب تک تم لوگ ، اور تمہارے آباؤ اجداد ، تمہاری بیویوں ، تمہاری اولاد میں سے نیک لوگ ، جنت میں اپنا ٹھکانا نہیں بنا لیتے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 29
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى زوائد المسند 13»
حدیث نمبر: 30
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ " هُمَا الْمُوجِبَتَانِ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عماره بن روبیه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
” دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں ( ایک چیز یہ ہے : جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو )، وہ جنت میں داخل ہو گا اور ( دوسری چیز یہ ہے : ) جو شخص ایسی حالت میں مرے ، کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہو) ، وہ شخص جہنم میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی محمد بن ابان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 30
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 31
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَمَلَانِ مُنْجِيَانِ مُوجِبَانِ ; فَأَمَّا الْمُنْجِيَانِ : مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ " . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الصَّوْمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دو عمل نجات دینے والے اور واجب کرنے والے ہیں ، جہاں تک نجات دینے والے دو اعمال کا تعلق ہے تو جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی اور جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اس کا شریک ٹھہراتا ہو تو اس شخص کے لیے جہنم واجب ہو جائے گی ۔ “
( امام ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ مکمل روایت آگے چل کر روزوں سے متعلق کتاب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس میں ایک راوی یحییٰ بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 31
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 32
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْأَعْمَالُ سِتَّةٌ وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ : فَمُوجِبَتَانِ ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ ، وَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَحَسَنَةٌ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ ; فَأَمَّا الْمُوجِبَتَانِ : فَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ . وَأَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ : فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يَشْعُرَهَا قَلْبُهُ وَيَعْلَمَهَا اللَّهُ مِنْهُ - كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ ، وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةٌ ، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَبِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَحَسَنَةٌ بِسَبْعِمِائَةٍ . وَأَمَّا النَّاسُ : فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ مِنْهُ ذِكْرَ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ خُرَيْمٍ . وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اعمال چھ قسم کے ہیں اور لوگ چار قسم کے ہیں ، دو قسم کے عمل واجب کرنے والے ہیں ( ایک قسم کا عمل ) برابر برابر کی بنیاد پر ہے ( ایک قسم کا عمل یہ ہے ) کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہو گا ( ایک قسم کا عمل ایسا ہے ) کہ ایک نیکی کا بدلہ سات سو گنا ہو جہاں تک واجب کرنے والی دو چیزوں کا تعلق ہے تو جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھراتا ہو تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا اور جو شخص ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ کسی کو اللہ تعالی کا شریک ٹھہراتا ہو ایسا شخص جہنم میں جائے گا جہاں تک برابر برابر کی صورت کا تعلق ہے تو جو شخص نیکی کا پختہ ارادہ کرے اور اس کے دل کو اس نیکی کا شعور ہو اور اللہ تعالی کو اس شخص کے حوالے سے اس نیکی کا علم ہو ( کہ وہ شخص واقعی وہ نیکی کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے لیکن پھر کسی وجہ سے وہ شخص وہ نیکی نہ کر سکے ) تو اس شخص کے لیے ایک نیکی نوٹ کی جائے گی اور جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرئے تو اس کے لیے ایک برائی نوٹ کی جائے گی جو شخص کسی نیکی پر عمل کرئے تو اسے دس گنا اجر و ثواب حاصل ہو گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے گا اُسے سات سو گنا اجر و ثواب حاصل ہو گا اور جہاں تک ( دو قسم کے ) لوگوں کا تعلق ہے تو کچھ ایسے لوگ ہیں ، جنہیں دنیا میں گنجائش نصیب ہوتی ہے اور وہ آخرت میں تنگی کا سامنا کریں گے اور کچھ ایسے ہیں ، جنہیں دنیا میں تنگی کا سامنا ہوتا ہے اور ان کے لیے آخرت میں کشادگی ہو گی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے متعلق حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یہ روایت رکین بن ربیع کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا خریم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جبکہ امام طبرانی نے یہ بات کہی ہے : یہ روایت رکین بن ربیع کے حوالے سے اُن کے والد کے حوالے سے ان کے چچا یسیر بن عمیلہ سے منقول ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 32
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 4151 ، 4155 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 4059 اورده المؤلف فى زوائد المسند 27 كنز 16142»
حدیث نمبر: 33
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَقْتُلُ نَفْسًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ خَفِيفُ الظَّهْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو اور اس نے کسی کو قتل نہ کیا ہو تو وہ شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا کہ اُس کی پشت ہلکی ہو گئی “۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 33
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11192»
حدیث نمبر: 34
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - أَطَاعَ بِهَا قَلْبُهُ ، وَذَلَّ بِهَا لِسَانُهُ - وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص یہ پڑھے : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ( اور اس کلمے کے حوالے سے اُس کا دل اس کی اطاعت کرے اور اس کی زبان اس کے حوالے سے عاجزی کرے ) ( اور وہ شخص یہ بھی پڑھے ) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس ( اللہ تعالیٰ ) کے بندے اور اس کے رسول ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کو جہنم پر حرام قرار دیدے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے زیادہ تر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 34
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 1364»
حدیث نمبر: 35
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْمُسْلِمَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ مُنْذُ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ إِلَى أَنْ يَقُومَ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَإِنْ وَافَى اللَّهَ بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صَادِقًا أَوْ بِاسْتِغْفَارٍ - كُتِبَ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مسلمان شخص کو جب اُس کی ماں جنم دیتی ہے اُس وقت سے لے کر جب وہ شخص ( مرنے کے بعد ) اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا اُس وقت تک وہ اللہ کی پناہ میں رہتا ہے تو اگر وہ سچے دل کے ساتھ اس بات کی گواہی کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ” استغفار کے ہمراہ ( حاضر ہو ) تو اس شخص کے لیے جہنم سے بری ہونا نوٹ کر لیا جاتا ہے ۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کو ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے اپنے والد سے روایت کیا ہے حالانکہ انہوں نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 35
درجۂ حدیث محدثین: منقطع
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 12»
حدیث نمبر: 36
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : أَلَا أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ أَحَدًا مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخَافَةَ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهِ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ رَبُّهُ وَأَنِّي نَبِيُّهُ مُوقِنًا بِقَلْبِهِ - وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى جِلْدِهِ - حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عِمْرَانُ الْقَصِيرُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْقَلُوصِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسی حدیث بیان نہ کروں ؟ کہ جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی وہ حدیث سنی ہے اُسے کسی کے سامنے اس اندیشے کے تحت بیان نہیں کیا کہ لوگ اسی پر اکتفاء کر لیں گے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :” جو شخص اپنے دل کے یقین کے ساتھ یہ بات جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کا پروردگار ہے اور میں اُس کا نبی ہوں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جلد کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم پر حرام قرار دیدے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمران القصیر ہے اور وہ متروک ہے ایک اور راوی عبداللہ بن ابوالقلوص ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 36
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 14»
حدیث نمبر: 37
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَأَدْرَكْتُ آخِرَ الْحَدِيثِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ " ، فَقُلْتُ بِيَدِي هَكَذَا - يُحَرِّكُ بِيَدِهِ أَنَّ هَذَا حَدِيثٌ جَيِّدٌ - فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لَمَا فَاتَكَ مِنْ صَدْرِ الْحَدِيثِ أَجْوَدُ وَأَجْوَدُ . قُلْتُ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَهَاتِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نَصْرٍ ، وَالْأَكْثَرُونَ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں آیا ، نبی اکرم اُس وقت اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا آخری حصہ پایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے : ”جو شخص عصر سے پہلے چار رکعت ( یعنی سنتیں ) ادا کر لے گا اسے ( جہنم کی ) آگ نہیں چھوئے گی“ ۔ تو میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے ۔ یہاں انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا ۔ اس طرح اشارہ کر کے کہا: یہ تو بہت عمدہ بات ہے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بولے : اس حدیث کا ابتدائی حصہ جو تمہیں ( سننے کو ) نہیں ملا وہ تو بہت ہی زیادہ عمدہ ہے میں نے کہا: ہے : اے خطاب کے صاحبزادے ! وہ آپ بیان کر دیں ! تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول نے ہمیں یہ بات بتائی ہے : ”جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہ شخص جنت میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس ( کی سند ) میں ایک راوی حجاج بن نصر ہے اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 37
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 2580»
حدیث نمبر: 38
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ هَبَطَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ مِنْ ثَنِيَّةٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ وَحْدَهُ ، فَلَمَّا أَسْهَلَتْ بِهِ الطَّرِيقُ ضَحِكَ وَكَبَّرَ ، فَكَبَّرْنَا لِتَكْبِيرِهِ ، ثُمَّ سَارَ رَتْوَةً ، ثُمَّ ضَحِكَ وَكَبَّرَ ، فَكَبَّرْنَا لِتَكْبِيرِهِ ، ثُمَّ أَدْرَكْنَاهُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَبَّرْنَا لِتَكْبِيرِكَ ، وَلَا نَدْرِي مِمَّ ضَحِكْتَ ! فَقَالَ : " قَادَ النَّاقَةَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَلَمَّا أَسَهَلَتِ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ : أَبْشِرْ ، وَبَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - دَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَضَحِكْتُ وَكَبَّرْتُ رَبِّي ، ثُمَّ سَارَ رَتْوَةً ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ : أَبْشِرْ ، وَبَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ، فَضَحِكْتُ وَكَبَّرْتُ رَبِّي ، فَفَرِحْتُ بِذَلِكَ لِأُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقُوهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا ، آپ کی سواری ایک گھاٹی سے نیچے اتر رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا چل رہے تھے ، جب راستہ سیدھا ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ نے تکبیر کہی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکبیر کہنے کی وجہ سے ، ہم نے بھی تکبیر کہہ دی کچھ دیر چلنے کے بعد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہنس پڑے اور اپنے تکبیر کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکبیر کہنے کی وجہ سے ہم نے بھی تکبیر کہی ، جب ہم آپ کے پاس پہنچے ، تو حاضرین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکبیر کہنے کی وجہ سے ہم نے بھی تکبیر کہہ دی تھی ، لیکن ہمیں یہ سمجھ نہیں آئی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس بات پر ہنسے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں ارشاد فرمایا : ”جبرائیل میری اونٹنی کو لے کر چل رہے تھے ، جب راستہ سیدھا ہوا ، تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : آپ یہ خوشخبری حاصل کریں اور اپنی امت کو بھی یہ خوشخبری دیں کہ جو شخص یہ پڑھ لے گا : اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ، تو میں ہنس پڑا اور میں نے اپنے پروردگار کے کبریائی بیان کی ، پھر کچھ چلنے کے بعد ، وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بوئے : آپ یہ خوشخبری حاصل کریں اور اپنی امت کو یہ خوشخبری دیں کہ جو شخص یہ پڑھے گا : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام کر دے گا ، تو میں ہنس پڑا اور میں نے اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کی ، اور میں اپنی امت کے لئے اس بات پر خوش ہو گیا “۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اس کی توثیق کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 38
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6522»
حدیث نمبر: 39
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : جِئْتُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا حَتَّى حَلَلْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَصْحَابِي : مَنْ يَرْعَى إِبِلَنَا وَنَنْطَلِقَ فَنَقْتَبِسَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَاحَ اقْتَبَسْنَاهُ مَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقُلْتُ : أَنَا ، ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي : لَعَلِّي مَغْبُونٌ ; يَسْمَعُ أَصْحَابِي مَا لَا أَسْمَعُ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَحَضَرْتُ يَوْمًا فَسَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوءًا كَامِلًا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى صَلَاةٍ - كَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . فَعَجِبْتُ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : فَكَيْفَ لَوْ سَمِعْتَ الْكَلَامَ الْآخَرَ كُنْتَ أَشَدَّ عَجَبًا ؟ ! فَقُلْتُ : ارْدُدْ عَلَيَّ - جَعَلَنِي اللَّهُ فَدَاءَكَ - فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ ، وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ " . فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسْتُ مُسْتَقْبِلَهُ ، فَصَرَفَ وَجْهَهُ عَنِّي ، فَقُمْتُ فَاسْتَقْبَلْتُهُ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، لِمَ تَصْرِفُ وَجْهَكَ عَنِّي ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ : " أَوَاحِدٌ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمِ اثْنَا عَشَرَ ؟ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بارہ افراد سمیت آیا ، ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( یعنی مدینہ منورہ سے باہر ) سواریاں کھڑی کیں ، میرے ساتھیوں نے کہا: ہمارے اونٹوں کی دیکھ بھال کون کرے گا ؟ تاکہ ہم جائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کریں ، پھر جب وہ شخص آئے گا ، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہو گا ، وہ اسے بتائیں گے ، میں نے کہا: میں ایسا کر لیتا ہوں ، پھر میں نے دل میں سوچا ، اس طرح تو میں گھاٹے کا سودا کروں گا ، کیونکہ اس طرح میرے ساتھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں سن لیں گے ، جو میں نے نہیں سنی ہوں گی ، ایک دن میں موجود تھا ، میں نے ایک شخص کو یہ - بیان کرتے ہوئے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :
” جو شخص مکمل وضو کرے اور پھر نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے ، تو وہ اپنے گناہوں کے حوالے سے اس طرح ہو جاتا ہے جیسے اُس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا“۔ مجھے یہ بات اچھی لگی ، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس وقت کیا ہوتا جب تم نے دوسری بات سنی ہوتی ، جو اس سے بھی زیادہ اچھی ہے ، میں نے کہا: آپ وہ بات میرے سامنے دہرا دیں ، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :
” جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے ، کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ، تو اس کے لیے جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے ، وہ جس ( دروازے ) میں سے چاہے ، اندر داخل ہو جائے ، اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ “
سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا ، آپ نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا ، تو میں اُٹھا اور ( دوسری طرف سے ) آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، جب چوتھی مرتبہ ہوئی ، تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! آپ مجھ سے چہرہ کیوں پھیر رہے ہیں ؟ نہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” تمہارے نزدیک ایک زیادہ پسندیدہ ہے ، یا بارہ ؟“ یہ بات آپ نے دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، جب میں نے یہ بات دیکھی ، تو میں اپنے ساتھیوں کی طرف واپس چلا گیا ۔
( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح“ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 39
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 7947»
حدیث نمبر: 40
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " هُمَا الْمُوَجِبَتَانِ : مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عماره بن رویبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
” یہ دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں ، جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ، تو وہ شخص جنت میں جائے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہو ، تو وہ جہنم میں جائے گا“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 40
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 5585»