مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ . باب: اس چیز ( یعنی کلمہ ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے ) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 48
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِسْحَاقَ بْنَ يَزِيدَ الْخَطَّابِيَّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کروں ، جب تک وہ یہ نہیں کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جب وہ یہ کہہ دیں گے ، تو وہ اپنی جانوں اور اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، البتہ اُن کے حق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اُن لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یزید خطابی ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔