مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ . باب: اس چیز ( یعنی کلمہ ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے ) حرام کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 44
عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ لِي جَارًا مُنَافِقًا يَصْنَعُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " أُولَئِكَ نُهِيتُ عَنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور بولا: میرا پڑوسی ایک منافق شخص ہے ، وہ اس ، اس طرح کے کام کرتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ”کیا وہ لا الہ الاللہ پڑھتا ہے ؟“ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ان ( یعنی کلمہ گو ) لوگوں ( کو قتل کرنے ) سے مجھے منع کیا گیا ہے“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ” مستور “ راوی ہیں ، اور محمد بن ابولیلی نامی راوی کا حافظہ خراب ہے ۔